<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:33:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:33:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایکسپورٹ فیسی لیٹیشن اسکیم پر نظرثانی کے لیے تکنیکی کمیٹی قائم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283279/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر حکومت نے ایکسپورٹ فیسی لیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس) کے تحت درپیش رکاوٹوں کا جائزہ لینے کیلئے ایک خصوصی تکنیکی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ یہ کمیٹی خاص طور پر اس اسکیم کے تحت استعمال کی محدود مدت  کا جائزہ لے گی جس کے بارے میں برآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ یہ ان کی آپریشنل لچک کو محدود کررہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ ان رکاوٹوں کو فوری دور کرنے کیلئے اپنی سفارشات پیش کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیشرفت وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کی سربراہی میں وزارتِ تجارت میں ایک اعلیٰ سطح اجلاس کے دوران سامنے آئی۔ اس اجلاس میں وزارتِ تجارت کے سینئر افسران کے ہمراہ پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن ، پاکستان ریڈی میڈ گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن ، پاکستان ٹیکسٹائل کونسل ، پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن ، آل پاکستان بیڈ شیٹس اینڈ اپہولسٹری مینوفیکچررز ایسوسی ایشن اور ٹاول مینوفیکچررز ایسوسی ایشن  کے چیئرمینز اور نمائندوں نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو جاری کردہ بیان کے مطابق اجلاس کا مقصد ویلیو ایڈڈ ملبوسات اور ٹیکسٹائل شعبے کو درپیش اہم چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لینا اور ایسے اسٹریٹجک اقدامات مرتب کرنا تھا جن کا مقصد عالمی سطح پر اس شعبے کی مسابقت کو مضبوط بنانا اور برآمدات کی شرح میں نمایاں اضافہ کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کے دوران صنعتی نمائندوں نے ایک مفصل پریزنٹیشن پیش کی جس میں برآمدات کی ترقی میں حائل کلیدی چیلنجز کی نشاندہی کی گئی؛ خاص طور پر پیشگی ٹیکسوں  کا بھاری بوجھ، انفرااسٹرکچر کی کمی کے ساتھ بجلی و گیس کے بڑھے نرخ، ریفنڈز کی ادائیگیوں میں تاخیر کی وجہ سے پیدا ہونے والی مالی مشکلات، عارضی درآمدی اسکیموں میں محدود استعمال کی مدت سمیت دیگر پابندیاں، ایکسپورٹ فنانس اسکیم کے تحت کریڈٹ لمٹ میں کمی جس سے ضروری ورکنگ کیپٹل تک رسائی متاثر ہوتی ہے، اور پالیسیوں میں بار بار ہونے والی تبدیلیاں جو اس شعبے کی برآمدات بڑھانے کی صلاحیت کو نمایاں طور پر کم کررہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جام کمال نے حکومت کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے ویلیو ایڈڈ ملبوسات اور ٹیکسٹائل شعبے کو پاکستان کی برآمدات اور روزگار کی فراہمی کیلئے ریڑھ کی ہڈی  قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں سے ایک ہے جس کے پاس مکمل طور پر مربوط سپلائی چین موجود ہے جو ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی میں نمایاں کردار ادا کررہی ہے اور حکومت اس کے تسلسل اور ترقی کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران مائیکرو، اسمال اور میڈیم انٹرپرائزز کے  نمائندوں نے تجویز دی کہ اسٹیٹ بینک  اور ایگزیم  بینک واضح اور صریح ریگولیٹری ہدایات جاری کریں تاکہ تمام کمرشل بینکوں کی جانب سے ’ماسٹر لیٹرز آف کریڈٹ  کو بیک ٹو بیک ایل سیز کھولنے کے لیے بطور ضمانت یکساں طور پر قبول کرنے کو یقینی بنایا جاسکے۔ اس اقدام سے برآمد کنندگان کی ورکنگ کیپٹل تک رسائی بہتر ہوسکے گی اور وہ عالمی کاروباری مواقع سے مزید فائدہ اٹھانے کے قابل ہوسکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید یہ تجویز دی کہ سمیڈا  بورڈ اور دیگر متعلقہ فورمز میں ویلیو ایڈڈ برآمد کنندگان کے نمائندوں کو شامل کیا جائے تاکہ شمولیت کے عمل کو فروغ دیا جا سکے اور پالیسی سازی کے مراحل میں ان کی فعال شرکت کو یقینی بنایا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے برآمد کنندگان بشمول مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں  کو تمام ضروری سہولیات فراہم کرنے کے لیے وزارتِ تجارت کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ بیک ٹو بیک ایل سیز سے متعلق معاملات کو متعلقہ حکام کے ساتھ بھرپور طریقے سے اٹھایا جائے گا تاکہ ان کے ہموار اور زیادہ مؤثر نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی نمائندوں نے عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے پاکستان کی برآمدی پالیسی کو علاقائی حریف ممالک کی پالیسیوں کے مطابق بنانے کی فوری ضرورت پر بھی زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستان کی پوزیشن مضبوط بنانے کے لیے ایسی ہم آہنگی  ناگزیر ہے، جبکہ انہوں نے طویل مدتی پالیسی کے استحکام اور اس شعبے کی مسابقتی پوزیشن کو مزید تقویت دینے اور اسے محفوظ بنانے کے لیے اقدامات پر تیزی سے عمل درآمد کی اہمیت پر بھی زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے مربوط اور ہمہ گیر روابط کے ذریعے قومی برآمدات میں اضافے کے حوالے سے اپنی پرامیدی کا اظہار کیا۔ انہوں نے صنعتکاروں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ موجودہ منڈیوں میں موجود صلاحیتوں پر توجہ دیں، نئی منڈیوں کی تلاش کریں اور زیادہ سے زیادہ ہائی ویلیو تیار مصنوعات کی جانب تنوع اختیار کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید ملبوسات اور ٹیکسٹائل کی صنعت سے جامع تجاویز طلب کیں اور کہا کہ وزارت ان تجاویز کو فوری حل طلب، بجٹ سے منسلک اور ساختی اصلاحات کے زمروں میں تقسیم کرے گی جس کے بعد انہیں حتمی غور و خوص کے لیے وزیراعظم کو پیش کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر حکومت نے ایکسپورٹ فیسی لیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس) کے تحت درپیش رکاوٹوں کا جائزہ لینے کیلئے ایک خصوصی تکنیکی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ یہ کمیٹی خاص طور پر اس اسکیم کے تحت استعمال کی محدود مدت  کا جائزہ لے گی جس کے بارے میں برآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ یہ ان کی آپریشنل لچک کو محدود کررہی ہے۔</strong></p>
<p>کمیٹی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ ان رکاوٹوں کو فوری دور کرنے کیلئے اپنی سفارشات پیش کرے۔</p>
<p>یہ پیشرفت وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کی سربراہی میں وزارتِ تجارت میں ایک اعلیٰ سطح اجلاس کے دوران سامنے آئی۔ اس اجلاس میں وزارتِ تجارت کے سینئر افسران کے ہمراہ پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن ، پاکستان ریڈی میڈ گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن ، پاکستان ٹیکسٹائل کونسل ، پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن ، آل پاکستان بیڈ شیٹس اینڈ اپہولسٹری مینوفیکچررز ایسوسی ایشن اور ٹاول مینوفیکچررز ایسوسی ایشن  کے چیئرمینز اور نمائندوں نے شرکت کی۔</p>
<p>جمعہ کو جاری کردہ بیان کے مطابق اجلاس کا مقصد ویلیو ایڈڈ ملبوسات اور ٹیکسٹائل شعبے کو درپیش اہم چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لینا اور ایسے اسٹریٹجک اقدامات مرتب کرنا تھا جن کا مقصد عالمی سطح پر اس شعبے کی مسابقت کو مضبوط بنانا اور برآمدات کی شرح میں نمایاں اضافہ کرنا ہے۔</p>
<p>اجلاس کے دوران صنعتی نمائندوں نے ایک مفصل پریزنٹیشن پیش کی جس میں برآمدات کی ترقی میں حائل کلیدی چیلنجز کی نشاندہی کی گئی؛ خاص طور پر پیشگی ٹیکسوں  کا بھاری بوجھ، انفرااسٹرکچر کی کمی کے ساتھ بجلی و گیس کے بڑھے نرخ، ریفنڈز کی ادائیگیوں میں تاخیر کی وجہ سے پیدا ہونے والی مالی مشکلات، عارضی درآمدی اسکیموں میں محدود استعمال کی مدت سمیت دیگر پابندیاں، ایکسپورٹ فنانس اسکیم کے تحت کریڈٹ لمٹ میں کمی جس سے ضروری ورکنگ کیپٹل تک رسائی متاثر ہوتی ہے، اور پالیسیوں میں بار بار ہونے والی تبدیلیاں جو اس شعبے کی برآمدات بڑھانے کی صلاحیت کو نمایاں طور پر کم کررہی ہیں۔</p>
<p>جام کمال نے حکومت کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے ویلیو ایڈڈ ملبوسات اور ٹیکسٹائل شعبے کو پاکستان کی برآمدات اور روزگار کی فراہمی کیلئے ریڑھ کی ہڈی  قرار دیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں سے ایک ہے جس کے پاس مکمل طور پر مربوط سپلائی چین موجود ہے جو ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی میں نمایاں کردار ادا کررہی ہے اور حکومت اس کے تسلسل اور ترقی کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔</p>
<p>اسی دوران مائیکرو، اسمال اور میڈیم انٹرپرائزز کے  نمائندوں نے تجویز دی کہ اسٹیٹ بینک  اور ایگزیم  بینک واضح اور صریح ریگولیٹری ہدایات جاری کریں تاکہ تمام کمرشل بینکوں کی جانب سے ’ماسٹر لیٹرز آف کریڈٹ  کو بیک ٹو بیک ایل سیز کھولنے کے لیے بطور ضمانت یکساں طور پر قبول کرنے کو یقینی بنایا جاسکے۔ اس اقدام سے برآمد کنندگان کی ورکنگ کیپٹل تک رسائی بہتر ہوسکے گی اور وہ عالمی کاروباری مواقع سے مزید فائدہ اٹھانے کے قابل ہوسکیں گے۔</p>
<p>انہوں نے مزید یہ تجویز دی کہ سمیڈا  بورڈ اور دیگر متعلقہ فورمز میں ویلیو ایڈڈ برآمد کنندگان کے نمائندوں کو شامل کیا جائے تاکہ شمولیت کے عمل کو فروغ دیا جا سکے اور پالیسی سازی کے مراحل میں ان کی فعال شرکت کو یقینی بنایا جاسکے۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے برآمد کنندگان بشمول مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں  کو تمام ضروری سہولیات فراہم کرنے کے لیے وزارتِ تجارت کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ بیک ٹو بیک ایل سیز سے متعلق معاملات کو متعلقہ حکام کے ساتھ بھرپور طریقے سے اٹھایا جائے گا تاکہ ان کے ہموار اور زیادہ مؤثر نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p>صنعتی نمائندوں نے عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے پاکستان کی برآمدی پالیسی کو علاقائی حریف ممالک کی پالیسیوں کے مطابق بنانے کی فوری ضرورت پر بھی زور دیا۔</p>
<p>بیان کے مطابق انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستان کی پوزیشن مضبوط بنانے کے لیے ایسی ہم آہنگی  ناگزیر ہے، جبکہ انہوں نے طویل مدتی پالیسی کے استحکام اور اس شعبے کی مسابقتی پوزیشن کو مزید تقویت دینے اور اسے محفوظ بنانے کے لیے اقدامات پر تیزی سے عمل درآمد کی اہمیت پر بھی زور دیا۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے مربوط اور ہمہ گیر روابط کے ذریعے قومی برآمدات میں اضافے کے حوالے سے اپنی پرامیدی کا اظہار کیا۔ انہوں نے صنعتکاروں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ موجودہ منڈیوں میں موجود صلاحیتوں پر توجہ دیں، نئی منڈیوں کی تلاش کریں اور زیادہ سے زیادہ ہائی ویلیو تیار مصنوعات کی جانب تنوع اختیار کریں۔</p>
<p>انہوں نے مزید ملبوسات اور ٹیکسٹائل کی صنعت سے جامع تجاویز طلب کیں اور کہا کہ وزارت ان تجاویز کو فوری حل طلب، بجٹ سے منسلک اور ساختی اصلاحات کے زمروں میں تقسیم کرے گی جس کے بعد انہیں حتمی غور و خوص کے لیے وزیراعظم کو پیش کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283279</guid>
      <pubDate>Fri, 27 Feb 2026 11:40:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/27110118ebf2f3e.webp" type="image/webp" medium="image" height="394" width="670">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/27110118ebf2f3e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
