<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 17:10:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 17:10:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاک افغان کشیدگی کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں مندی، 100 انڈیکس 800 سے زائد پوائنٹس گرگیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283277/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعہ کو مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ رہا کیونکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی سے سرمایہ کاروں کے اعتماد پر منفی اثر پڑا۔ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس نے ہفتے کا اختتام 800 سے زائد پوائنٹس کی کمی کے ساتھ کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز منفی زون میں ہوا، ابتدائی ٹرینڈ کے دوران انڈیکس 3 ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی سے 165,811.87 پوائنٹس کی کم ترین سطح تک گرگیا، یہ گراوٹ فروخت کے ابتدائی دباؤ کی عکاسی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق اس منفی رجحان کی وجہ افغانستان کے ساتھ علاقائی کشیدگی ہے جہاں پاکستان نے کابل میں افغان طالبان انتظامیہ کی اہم ملٹری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے مزید بتایا کہ دن کے آخری حصے میں مارکیٹ میں کچھ ریکوری دیکھی گئی کیونکہ افغانستان کی جانب سے جوابی کارروائی میں کوئی حملے نہیں کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخری گھنٹوں میں انڈیکس میں مندی کا رجحان رہا اور یہ گراوٹ کے ساتھ بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 830.92 پوائنٹس یا 0.49 فیصد کی کمی سے 168,062.16 پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق انڈیکس میں سب سے زیادہ منفی حصہ ایف ایف سی، یوبی ایل، پی پی ایل، اوجی ڈی سی اور ایم سی بی کی جانب سے رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتی اپڈیٹس کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے بلااشتعال سرحد پار فائرنگ کے جواب میں کیے گئے فوری اور مؤثر ردعمل کے نتیجے میں کم از کم 133 افغان طالبان اہلکار ہلاک جبکہ 200 سے زائد زخمی ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر صبح تقریباً 4 بجے جاری بیان میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ کارروائیاں کابل، پکتیا اور قندھار میں کی گئیں، جہاں 27 چوکیوں کو تباہ جبکہ 9 پر قبضہ کرلیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ کارروائی کے دوران دو کور ہیڈکوارٹرز، تین بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، دو اسلحہ ڈپو، ایک لاجسٹک بیس، تین بٹالین ہیڈکوارٹرز، دو سیکٹر ہیڈکوارٹرز سمیت 80 سے زائد ٹینکس، توپخانہ اور بکتر بند گاڑیاں بھی تباہ کردی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ جمعرات کو اسٹاک ایکسچینج میں زبردست ریکوری دیکھنے میں آئی جہاں وسیع پیمانے پر خریداری کے باعث اہم بینچ مارک انڈیکسز میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ بہتر سرمایہ کار اعتماد اور ریڈی و فیوچر مارکیٹس میں سرگرم کاروباری حصہ داری نے مارکیٹ کو سہارا دیا۔ گزشتہ روز کے ایس ای 100 انڈیکس 4,266.79 پوائنٹس یا 2.59 فیصد اضافے کے ساتھ 168,893.09 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر جمعہ کو ایشیائی مارکیٹوں میں منفی رجحان برقرار رہا، جہاں ٹیکنالوجی کمپنیوں کی بلند ویلیوایشن سے متعلق خدشات کے باعث حصص پر دباؤ دیکھا گیا، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی نے توانائی کی منڈیوں کو بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی مارکیٹ وال اسٹریٹ میں کمی کے رجحان کے بعد جاپانی حصص بازار بھی نیچے آگئے، کیونکہ مصنوعی ذہانت کے شعبے کی نمایاں کمپنی این ویڈیا کے مضبوط مالی نتائج بھی سرمایہ کاروں کو متاثر کرنے میں ناکام رہے۔ اس دوران جاپانی ین اور امریکی ٹریژریز میں اضافہ دیکھا گیا، جبکہ سونا دو روزہ تیزی کے بعد مستحکم رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات میں ثالثی کرنے والے عمانی نمائندے نے حالیہ مذاکراتی دور کو مثبت قرار دیا، تاہم ممکنہ امریکی حملوں کو روکنے کے لیے کسی واضح پیش رفت کے آثار نہ ہونے کے باعث توانائی کی عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص پر مشتمل وسیع ترین انڈیکس 0.4 فیصد کمی کا شکار رہا، جبکہ جاپان کا نکئی 225 انڈیکس 0.8 فیصد گر گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این ویڈیا نے بدھ کو جنوری سہ ماہی کے لیے توقعات سے بہتر مالی نتائج جاری کیے اور موجودہ سہ ماہی کی آمدن کا تخمینہ بھی مارکیٹ اندازوں سے زیادہ دیا، تاہم اس کے باوجود امریکی حصص مارکیٹ منفی زون میں بند ہوئی جبکہ آفٹر آورز ٹریڈنگ میں کمپنی کا شیئر تقریباً مستحکم رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشین ٹریڈنگ کے دوران امریکی ایکویٹی فیوچرز میں بھی کمی دیکھی گئی، جہاں ایس اینڈ پی 500 ای منی فیوچرز 0.41 فیصد جب کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں پر مشتمل نیسڈیک 100 ای-منی فیوچرز 0.36 فیصد نیچے آگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی روپیہ جمعہ کو معمولی بہتری کے ساتھ مستحکم رہا&lt;br&gt;جمعہ کو انٹر بینک مارکیٹ میں پاکستانی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں ہلکی بہتری کے ساتھ 0.01 فیصد مضبوط ہوا۔ دن کے اختتام پر مقامی کرنسی 279.47 پر بند ہوئی، جس سے امریکی ڈالر کے مقابلے میں 0.03 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل شیئر انڈیکس پر تجارتی حجم 536.24 ملین شیئرز تک گر گیا، جو پچھلے اختتام پر 692.40 ملین ریکارڈ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ میں شیئرز کی کل قدر 25.54 ارب روپے رہ گئی، جو پچھلی نشست میں 35.80 ارب روپے تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونٹی فوڈز لمیٹڈ 50.30 ملین شیئرز کے ساتھ سب سے سر فہرست رہی، ایف نیشنل ایکویٹیز 36.24 ملین شیئرز کے ساتھ دوسرےاوربینک آف پنجاب 30.60 ملین شیئرز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو مجموعی طور پر 472 کمپنیوں کے شیئرز کی خرید و فروخت ہوئی، جن میں سے 161 میں اضافہ، 257 میں کمی اور 54 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم رہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/02/27135858c655319.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/02/27135858c655319.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعہ کو مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ رہا کیونکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی سے سرمایہ کاروں کے اعتماد پر منفی اثر پڑا۔ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس نے ہفتے کا اختتام 800 سے زائد پوائنٹس کی کمی کے ساتھ کیا۔</strong></p>
<p>تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز منفی زون میں ہوا، ابتدائی ٹرینڈ کے دوران انڈیکس 3 ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی سے 165,811.87 پوائنٹس کی کم ترین سطح تک گرگیا، یہ گراوٹ فروخت کے ابتدائی دباؤ کی عکاسی کرتی ہے۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق اس منفی رجحان کی وجہ افغانستان کے ساتھ علاقائی کشیدگی ہے جہاں پاکستان نے کابل میں افغان طالبان انتظامیہ کی اہم ملٹری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے مزید بتایا کہ دن کے آخری حصے میں مارکیٹ میں کچھ ریکوری دیکھی گئی کیونکہ افغانستان کی جانب سے جوابی کارروائی میں کوئی حملے نہیں کیے گئے۔</p>
<p>آخری گھنٹوں میں انڈیکس میں مندی کا رجحان رہا اور یہ گراوٹ کے ساتھ بند ہوا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 830.92 پوائنٹس یا 0.49 فیصد کی کمی سے 168,062.16 پر بند ہوا۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق انڈیکس میں سب سے زیادہ منفی حصہ ایف ایف سی، یوبی ایل، پی پی ایل، اوجی ڈی سی اور ایم سی بی کی جانب سے رہا۔</p>
<p>حکومتی اپڈیٹس کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے بلااشتعال سرحد پار فائرنگ کے جواب میں کیے گئے فوری اور مؤثر ردعمل کے نتیجے میں کم از کم 133 افغان طالبان اہلکار ہلاک جبکہ 200 سے زائد زخمی ہوگئے۔</p>
<p>سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر صبح تقریباً 4 بجے جاری بیان میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ کارروائیاں کابل، پکتیا اور قندھار میں کی گئیں، جہاں 27 چوکیوں کو تباہ جبکہ 9 پر قبضہ کرلیا گیا۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ کارروائی کے دوران دو کور ہیڈکوارٹرز، تین بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، دو اسلحہ ڈپو، ایک لاجسٹک بیس، تین بٹالین ہیڈکوارٹرز، دو سیکٹر ہیڈکوارٹرز سمیت 80 سے زائد ٹینکس، توپخانہ اور بکتر بند گاڑیاں بھی تباہ کردی گئیں۔</p>
<p>یاد رہے کہ جمعرات کو اسٹاک ایکسچینج میں زبردست ریکوری دیکھنے میں آئی جہاں وسیع پیمانے پر خریداری کے باعث اہم بینچ مارک انڈیکسز میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ بہتر سرمایہ کار اعتماد اور ریڈی و فیوچر مارکیٹس میں سرگرم کاروباری حصہ داری نے مارکیٹ کو سہارا دیا۔ گزشتہ روز کے ایس ای 100 انڈیکس 4,266.79 پوائنٹس یا 2.59 فیصد اضافے کے ساتھ 168,893.09 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔</p>
<p>عالمی سطح پر جمعہ کو ایشیائی مارکیٹوں میں منفی رجحان برقرار رہا، جہاں ٹیکنالوجی کمپنیوں کی بلند ویلیوایشن سے متعلق خدشات کے باعث حصص پر دباؤ دیکھا گیا، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی نے توانائی کی منڈیوں کو بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار رکھا۔</p>
<p>امریکی مارکیٹ وال اسٹریٹ میں کمی کے رجحان کے بعد جاپانی حصص بازار بھی نیچے آگئے، کیونکہ مصنوعی ذہانت کے شعبے کی نمایاں کمپنی این ویڈیا کے مضبوط مالی نتائج بھی سرمایہ کاروں کو متاثر کرنے میں ناکام رہے۔ اس دوران جاپانی ین اور امریکی ٹریژریز میں اضافہ دیکھا گیا، جبکہ سونا دو روزہ تیزی کے بعد مستحکم رہا۔</p>
<p>امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات میں ثالثی کرنے والے عمانی نمائندے نے حالیہ مذاکراتی دور کو مثبت قرار دیا، تاہم ممکنہ امریکی حملوں کو روکنے کے لیے کسی واضح پیش رفت کے آثار نہ ہونے کے باعث توانائی کی عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہی۔</p>
<p>ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص پر مشتمل وسیع ترین انڈیکس 0.4 فیصد کمی کا شکار رہا، جبکہ جاپان کا نکئی 225 انڈیکس 0.8 فیصد گر گیا۔</p>
<p>این ویڈیا نے بدھ کو جنوری سہ ماہی کے لیے توقعات سے بہتر مالی نتائج جاری کیے اور موجودہ سہ ماہی کی آمدن کا تخمینہ بھی مارکیٹ اندازوں سے زیادہ دیا، تاہم اس کے باوجود امریکی حصص مارکیٹ منفی زون میں بند ہوئی جبکہ آفٹر آورز ٹریڈنگ میں کمپنی کا شیئر تقریباً مستحکم رہا۔</p>
<p>ایشین ٹریڈنگ کے دوران امریکی ایکویٹی فیوچرز میں بھی کمی دیکھی گئی، جہاں ایس اینڈ پی 500 ای منی فیوچرز 0.41 فیصد جب کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں پر مشتمل نیسڈیک 100 ای-منی فیوچرز 0.36 فیصد نیچے آگئے۔</p>
<p>پاکستانی روپیہ جمعہ کو معمولی بہتری کے ساتھ مستحکم رہا<br>جمعہ کو انٹر بینک مارکیٹ میں پاکستانی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں ہلکی بہتری کے ساتھ 0.01 فیصد مضبوط ہوا۔ دن کے اختتام پر مقامی کرنسی 279.47 پر بند ہوئی، جس سے امریکی ڈالر کے مقابلے میں 0.03 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>آل شیئر انڈیکس پر تجارتی حجم 536.24 ملین شیئرز تک گر گیا، جو پچھلے اختتام پر 692.40 ملین ریکارڈ کیا گیا تھا۔</p>
<p>مارکیٹ میں شیئرز کی کل قدر 25.54 ارب روپے رہ گئی، جو پچھلی نشست میں 35.80 ارب روپے تھی۔</p>
<p>یونٹی فوڈز لمیٹڈ 50.30 ملین شیئرز کے ساتھ سب سے سر فہرست رہی، ایف نیشنل ایکویٹیز 36.24 ملین شیئرز کے ساتھ دوسرےاوربینک آف پنجاب 30.60 ملین شیئرز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔</p>
<p>جمعہ کو مجموعی طور پر 472 کمپنیوں کے شیئرز کی خرید و فروخت ہوئی، جن میں سے 161 میں اضافہ، 257 میں کمی اور 54 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم رہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/02/27135858c655319.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/02/27135858c655319.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283277</guid>
      <pubDate>Fri, 27 Feb 2026 19:42:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/27105119e2e07c2.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/27105119e2e07c2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
