<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:39:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:39:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یورپی یونین بھارت تجارتی معاہدہ پاکستان کی برآمدات کے لیے فوری خطرہ نہیں، وزارت تجارت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283275/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزارتِ تجارت نے کہا ہے کہ اس مرحلے پر مجوزہ یورپی یونین–بھارت آزاد تجارتی معاہدہ پاکستان کی برآمدات کے لیے فوری خطرہ نہیں ہے۔ وزارت تجارت نے واضح کیا کہ جب یہ معاہدہ نافذ العمل ہوگا اور بھارتی اشیا پر ٹیرفز بتدریج ختم ہوں گے، تب بھی پاکستان کو یورپی یونین کے جی ایس پی پلس پروگرام کے تحت اپنی اہم برآمدات پر صفر ڈیوٹی رسائی حاصل رہے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ تجارت نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کو جمع کرائی گئی تحریری رپورٹ میں بتایا کہ یورپی یونین پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے، جہاں سے ملکی کل برآمدات کا 28 فیصد حاصل ہوتا ہے۔ پاکستان فی الحال جی ایس پی پلس اسکیم سے مستفید ہے، جس نے برآمدات میں اضافہ اور یورپی منڈیوں میں رسائی کو فروغ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جی ایس پی پلس اسکیم کے تحت تیار ملبوسات، ہوم ٹیکسٹائل، ہوزری، چمڑے کی مصنوعات، جوتے، سیرامکس، شیشے کی مصنوعات، کیمیکلز اور سرجیکل آلات سمیت اہم برآمدی شعبے شامل ہیں۔ مالی سال 2024-25 میں پاکستان کی یورپی یونین کو برآمدات 9.01 ارب امریکی ڈالر تک پہنچیں، جن میں سے 90 فیصد سے زائد صفر ٹیرف پر گئی۔ رائس، نمک، گلوکوز اور اینیمل فیڈ جیسی غیر جی ایس پی مصنوعات بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکسٹائل شعبے میں پاکستان اور بھارت کی برآمدات یورپی یونین میں تقریباً برابر ہیں، یعنی تقریباً 7 ارب ڈالر ہر ایک۔ پاکستان کو جی ایس پی پلس کے تحت صفر ٹیرف کی سہولت حاصل ہے، جبکہ ہندوستان کی ٹیکسٹائل برآمدات پر اوسط ایم ایف این ڈیوٹی 11 فیصد ہے، جو یورپی یونین–بھارت آزاد تجارتی معاہدے کے نفاذ کے بعد ختم ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجوزہ معاہدے کے تحت بھارت کو 97 فیصد ٹیرف لائنز پر ترجیحی رسائی حاصل ہوگی، تاہم یورپی یونین مخصوص زرعی مصنوعات جیسے چینی، ایتھانول، چاول، گندم، گوشت، پولٹری اور دودھ کے پاوڈر پر تحفظ برقرار رکھے گا۔ وزارت تجارت نے کہا کہ حساس اشیاء پر جی ایس پی پلس کی حدود سے باہر کوئی سہولت نہیں دی جائے گی، لہٰذا پاکستان کی ترجیحی پوزیشن خاص طور پر ٹیکسٹائل اور ملبوسات میں برقرار رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت تجارت نے برآمدی صنعتوں کے لیے خام مال کی قیمتیں کم کرنے کے اقدامات اور یورپی یونین کے ساتھ جامع اقتصادی شراکت داری کے مذاکرات کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ صنعت نے پہلے ہی حکومت کو خط لکھ کر خبردار کیا تھا کہ بھارت کے تجارتی معاہدے پاکستان کی برآمدی پوزیشن کے لیے چیلنج ہیں، خاص طور پر ٹیکسٹائل شعبے میں صورتحال  زیادہ چیلنجنگ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزارتِ تجارت نے کہا ہے کہ اس مرحلے پر مجوزہ یورپی یونین–بھارت آزاد تجارتی معاہدہ پاکستان کی برآمدات کے لیے فوری خطرہ نہیں ہے۔ وزارت تجارت نے واضح کیا کہ جب یہ معاہدہ نافذ العمل ہوگا اور بھارتی اشیا پر ٹیرفز بتدریج ختم ہوں گے، تب بھی پاکستان کو یورپی یونین کے جی ایس پی پلس پروگرام کے تحت اپنی اہم برآمدات پر صفر ڈیوٹی رسائی حاصل رہے گی۔</strong></p>
<p>وزارتِ تجارت نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کو جمع کرائی گئی تحریری رپورٹ میں بتایا کہ یورپی یونین پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے، جہاں سے ملکی کل برآمدات کا 28 فیصد حاصل ہوتا ہے۔ پاکستان فی الحال جی ایس پی پلس اسکیم سے مستفید ہے، جس نے برآمدات میں اضافہ اور یورپی منڈیوں میں رسائی کو فروغ دیا ہے۔</p>
<p>جی ایس پی پلس اسکیم کے تحت تیار ملبوسات، ہوم ٹیکسٹائل، ہوزری، چمڑے کی مصنوعات، جوتے، سیرامکس، شیشے کی مصنوعات، کیمیکلز اور سرجیکل آلات سمیت اہم برآمدی شعبے شامل ہیں۔ مالی سال 2024-25 میں پاکستان کی یورپی یونین کو برآمدات 9.01 ارب امریکی ڈالر تک پہنچیں، جن میں سے 90 فیصد سے زائد صفر ٹیرف پر گئی۔ رائس، نمک، گلوکوز اور اینیمل فیڈ جیسی غیر جی ایس پی مصنوعات بھی شامل ہیں۔</p>
<p>ٹیکسٹائل شعبے میں پاکستان اور بھارت کی برآمدات یورپی یونین میں تقریباً برابر ہیں، یعنی تقریباً 7 ارب ڈالر ہر ایک۔ پاکستان کو جی ایس پی پلس کے تحت صفر ٹیرف کی سہولت حاصل ہے، جبکہ ہندوستان کی ٹیکسٹائل برآمدات پر اوسط ایم ایف این ڈیوٹی 11 فیصد ہے، جو یورپی یونین–بھارت آزاد تجارتی معاہدے کے نفاذ کے بعد ختم ہو جائے گی۔</p>
<p>مجوزہ معاہدے کے تحت بھارت کو 97 فیصد ٹیرف لائنز پر ترجیحی رسائی حاصل ہوگی، تاہم یورپی یونین مخصوص زرعی مصنوعات جیسے چینی، ایتھانول، چاول، گندم، گوشت، پولٹری اور دودھ کے پاوڈر پر تحفظ برقرار رکھے گا۔ وزارت تجارت نے کہا کہ حساس اشیاء پر جی ایس پی پلس کی حدود سے باہر کوئی سہولت نہیں دی جائے گی، لہٰذا پاکستان کی ترجیحی پوزیشن خاص طور پر ٹیکسٹائل اور ملبوسات میں برقرار رہے گی۔</p>
<p>وزارت تجارت نے برآمدی صنعتوں کے لیے خام مال کی قیمتیں کم کرنے کے اقدامات اور یورپی یونین کے ساتھ جامع اقتصادی شراکت داری کے مذاکرات کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ صنعت نے پہلے ہی حکومت کو خط لکھ کر خبردار کیا تھا کہ بھارت کے تجارتی معاہدے پاکستان کی برآمدی پوزیشن کے لیے چیلنج ہیں، خاص طور پر ٹیکسٹائل شعبے میں صورتحال  زیادہ چیلنجنگ ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283275</guid>
      <pubDate>Fri, 27 Feb 2026 10:37:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/2710355631e505f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/2710355631e505f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
