<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:00:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:00:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ماہانہ ایف سی اے: ڈسکوز اور کے الیکٹرک صارفین پر 18 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈال دیا گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283269/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ملک بھر کی پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں(ڈسکوز) اور کے الیکٹرک کے صارفین کو ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 1.78 روپے فی یونٹ اضافی ادائیگی کرنا ہوگی، جس پر 18 فیصد جی ایس ٹی بھی لاگو ہوگا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں صارفین پر مجموعی طور پر 18 ارب روپے سے زائد کا اضافی بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاملہ جنوری 2026 کے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ سے متعلق عوامی سماعت کے دوران سامنے آیا، جس کی صدارت نیپرا کے چیئرمین وسیم مختار نے کی۔ ممبر ٹیرف اینڈ فنانس آمنہ احمد اور ممبر ڈیولپمنٹ مقصود انور خان بھی سماعت میں شریک تھے، جبکہ سی پی پی اے جی اور آئی ایم ایس او کی نمائندگی سی ای او سی پی پی اے جی ریحان اختر نے کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی پی پی اے جی نے مؤقف اختیار کیا کہ جنوری کے لیے 1.78 روپے فی یونٹ مثبت ایڈجسٹمنٹ مارچ 2026 میں وصول کی جائے گی، تاہم فروری میں وصول کیے گئے 28 پیسے فی یونٹ واپس لے لیے جائیں گے، جس سے خالص اثر 1.50 روپے فی یونٹ رہ جائے گا۔ اضافے کی بڑی وجہ جنوری میں بجلی کی پیداوار میں غیر معمولی 14 فیصد اضافہ یعنی 1,100 ملین یونٹس اور فیول ریفرنس میں 1.35 روپے فی یونٹ اضافہ قرار دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی نمائندوں نے مؤقف اپنایا کہ فیول ریفرنس میں نظرثانی کے باعث صنعت کو دیا گیا ریلیف عملاً ختم ہو گیا ہے۔ ری بیسنگ کے دوران اوسط ریفرنس قیمت میں 1.3385 روپے فی یونٹ اضافہ کیا گیا جبکہ مجموعی ٹیرف برقرار رکھا گیا، جس سے ایندھن کی متغیر لاگت بڑھنے کے باعث عملی طور پر نرخوں میں اضافہ ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف پی سی سی آئی کے نمائندے ریحان جاوید نے نیپرا سے ازخود نوٹس لینے اور نظرثانی شدہ ریفرنس واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق پرانے ریفرنس کے تحت فیول ایڈجسٹمنٹ صرف 57 پیسے فی یونٹ بنتی، جبکہ اب یہ 1.78 روپے تک پہنچ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی چیمبر کے نمائندے تنویر بیری نے کہا کہ اگرچہ بیس ٹیرف میں 60 پیسے کمی کی گئی، مگر فیول ریفرنس بڑھنے سے جنوری میں بھاری مثبت ایف سی اے سامنے آیا۔ ان کے مطابق وزیر اعظم کے اعلان کردہ 4 روپے ریلیف کا صنعت کو صرف نصف فائدہ ملے گا جبکہ کراس سبسڈی کا بوجھ 4.5 سے 7 روپے فی یونٹ تک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکسٹائل صنعت کے نمائندے عامر شیخ نے بھی ری بیسنگ کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ 1.35 روپے فی یونٹ اضافہ دراصل خاموشی سے ڈالا گیا بوجھ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ 1.78 روپے فی یونٹ فوری وصولی اور بعد ازاں ممکنہ 2.55 روپے فی یونٹ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ سے صنعت کے کیش فلو پر شدید دباؤ پڑے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ موجودہ ایف سی اے کو آئندہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ سے منسلک کیا جائے تاکہ صنعت کو فوری مالی دباؤ سے بچایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ملک بھر کی پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں(ڈسکوز) اور کے الیکٹرک کے صارفین کو ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 1.78 روپے فی یونٹ اضافی ادائیگی کرنا ہوگی، جس پر 18 فیصد جی ایس ٹی بھی لاگو ہوگا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں صارفین پر مجموعی طور پر 18 ارب روپے سے زائد کا اضافی بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔</strong></p>
<p>یہ معاملہ جنوری 2026 کے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ سے متعلق عوامی سماعت کے دوران سامنے آیا، جس کی صدارت نیپرا کے چیئرمین وسیم مختار نے کی۔ ممبر ٹیرف اینڈ فنانس آمنہ احمد اور ممبر ڈیولپمنٹ مقصود انور خان بھی سماعت میں شریک تھے، جبکہ سی پی پی اے جی اور آئی ایم ایس او کی نمائندگی سی ای او سی پی پی اے جی ریحان اختر نے کی۔</p>
<p>سی پی پی اے جی نے مؤقف اختیار کیا کہ جنوری کے لیے 1.78 روپے فی یونٹ مثبت ایڈجسٹمنٹ مارچ 2026 میں وصول کی جائے گی، تاہم فروری میں وصول کیے گئے 28 پیسے فی یونٹ واپس لے لیے جائیں گے، جس سے خالص اثر 1.50 روپے فی یونٹ رہ جائے گا۔ اضافے کی بڑی وجہ جنوری میں بجلی کی پیداوار میں غیر معمولی 14 فیصد اضافہ یعنی 1,100 ملین یونٹس اور فیول ریفرنس میں 1.35 روپے فی یونٹ اضافہ قرار دیا گیا۔</p>
<p>صنعتی نمائندوں نے مؤقف اپنایا کہ فیول ریفرنس میں نظرثانی کے باعث صنعت کو دیا گیا ریلیف عملاً ختم ہو گیا ہے۔ ری بیسنگ کے دوران اوسط ریفرنس قیمت میں 1.3385 روپے فی یونٹ اضافہ کیا گیا جبکہ مجموعی ٹیرف برقرار رکھا گیا، جس سے ایندھن کی متغیر لاگت بڑھنے کے باعث عملی طور پر نرخوں میں اضافہ ہو گیا۔</p>
<p>ایف پی سی سی آئی کے نمائندے ریحان جاوید نے نیپرا سے ازخود نوٹس لینے اور نظرثانی شدہ ریفرنس واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق پرانے ریفرنس کے تحت فیول ایڈجسٹمنٹ صرف 57 پیسے فی یونٹ بنتی، جبکہ اب یہ 1.78 روپے تک پہنچ گئی ہے۔</p>
<p>کراچی چیمبر کے نمائندے تنویر بیری نے کہا کہ اگرچہ بیس ٹیرف میں 60 پیسے کمی کی گئی، مگر فیول ریفرنس بڑھنے سے جنوری میں بھاری مثبت ایف سی اے سامنے آیا۔ ان کے مطابق وزیر اعظم کے اعلان کردہ 4 روپے ریلیف کا صنعت کو صرف نصف فائدہ ملے گا جبکہ کراس سبسڈی کا بوجھ 4.5 سے 7 روپے فی یونٹ تک ہے۔</p>
<p>ٹیکسٹائل صنعت کے نمائندے عامر شیخ نے بھی ری بیسنگ کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ 1.35 روپے فی یونٹ اضافہ دراصل خاموشی سے ڈالا گیا بوجھ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ 1.78 روپے فی یونٹ فوری وصولی اور بعد ازاں ممکنہ 2.55 روپے فی یونٹ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ سے صنعت کے کیش فلو پر شدید دباؤ پڑے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ موجودہ ایف سی اے کو آئندہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ سے منسلک کیا جائے تاکہ صنعت کو فوری مالی دباؤ سے بچایا جا سکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283269</guid>
      <pubDate>Fri, 27 Feb 2026 09:40:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/27093737947512c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/27093737947512c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
