<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:00:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:00:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فی یونٹ بجلی مہنگی کیوں ہوئی؟ نیپرا رپورٹ میں وجوہات سامنے آ گئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283268/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کہا ہے کہ مالی سال 2024–25 کے دوران بجلی گھروں کی کم استعداد پر چلنے اور نصب شدہ صلاحیت میں اضافے کے باعث فی یونٹ بجلی کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ زیادہ کیپیسٹی ادائیگیاں تھیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریگولیٹر نے زور دیا کہ بجلی کے نرخ کم کرنے کے لیے متوازن جنریشن مکس اور نظام کی کارکردگی میں بہتری ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2024–25 کے لیے آپریشنل پاور پلانٹس کی کارکردگی سے متعلق اپنی رپورٹ میں نیپرا نے سی پی پی اے-جی اور کے الیکٹرک دونوں نظاموں کے تحت استعداد کے استعمال، پیداواری لاگت اور آپریشنل کارکردگی کا جائزہ لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق تھرمل پاور پلانٹس نے ریفرنس صلاحیت کے مقابلے میں مجموعی طور پر 42.5 فیصد استعداد پر کام کیا، جبکہ قابل تجدید توانائی کے پلانٹس کی اوسط استعداد 36.6 فیصد رہی۔ کم استعداد کے استعمال اور زائد نصب شدہ صلاحیت کے باعث فی یونٹ بجلی کی لاگت میں اضافہ ہوا، جس کی بڑی وجہ فکسڈ کیپیسٹی ادائیگیاں تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال کے دوران ایران سے بجلی کی درآمدات کو چھوڑ کر مجموعی پاور پرچیز لاگت 2,943.214 ارب روپے رہی۔ اس میں سے 61 فیصد کیپیسٹی پرچیز پرائس جبکہ 39 فیصد انرجی پرچیز پرائس پر مشتمل تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوسط کیپیسٹی پرچیز پرائس 14.3 روپے فی کلوواٹ آور رہی، جبکہ انرجی پرچیز پرائس کی اوسط 9.0 روپے فی کلوواٹ آور رہی۔ زیادہ کیپیسٹی پرچیز پرائس کی وجہ زائد صلاحیت اور کم استعمال تھا، جبکہ انرجی پرچیز پرائس میں اضافہ مہنگے درآمدی ایندھن جیسے آر ایل این جی، آر ایف او اور درآمدی کوئلے پر انحصار کے باعث ہوا۔ اس کے برعکس مقامی ایندھن پر مبنی پلانٹس، جن میں نیوکلیئر، تھر کول اور مقامی گیس شامل ہیں، نمایاں طور پر کم لاگت پر بجلی پیدا کرتے رہے مگر انہیں مکمل طور پر استعمال نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں اوچ پاور اور اوچ ٹو پاور پلانٹس، جو مخصوص گیس فیلڈز پر چلتے ہیں، نے تقریباً 13.4 روپے فی کلوواٹ آور کی لاگت سے بجلی پیدا کی۔ تاہم دستیابی کا تناسب 92 فیصد سے زائد ہونے کے باوجود ان کی استعداد کا استعمال بالترتیب 80.9 فیصد اور 71.6 فیصد رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکنامک میرٹ آرڈر میں سرفہرست شمار کیے جانے والے یہ پلانٹس قومی بیڑے کے کم ترین لاگت یونٹس میں شامل ہیں، مگر ان کے کم استعمال کے باعث درآمدی ایندھن پر چلنے والے مہنگے پلانٹس پر انحصار بڑھا، جس سے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹس کے ذریعے صارفین پر اضافی بوجھ پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپرا نے خبردار کیا کہ اوچ گیس فیلڈ کی کمی مستقبل میں پائیداری کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح تھر کول پر مبنی پلانٹس، جو کم لاگت مقامی ذریعہ ہیں، مالی سال 2024–25 میں مسابقتی لاگت کے باوجود اوسطاً 72.9 فیصد استعداد پر چل سکے۔ محدود ڈسپیچ کے باعث مہنگے درآمدی ایندھن والے پلانٹس کا استعمال بڑھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا کہ لکی الیکٹرک پاور کمپنی لمیٹڈ کی درآمدی کوئلے سے تھر کول پر منتقلی کا انحصار کوئلے کی مناسب فراہمی اور پاکستان ریلوے کے تحت جاری تھر ریل لنک کنیکٹیویٹی پروجیکٹ کی بروقت تکمیل پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پروجیکٹ کا سیگمنٹ ون 2026 کے وسط تک مکمل ہونے کی توقع ہے، تاہم سیگمنٹ ٹو، جس میں برانچ لائن اور پورٹ قاسم پر ان لوڈنگ سہولت شامل ہے، نظرثانی شدہ پی سی ون کی منظوری کا منتظر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاخیر کی صورت میں روزانہ 10 سے 12 ہزار ٹن تھر کول کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں درآمدی کوئلے پر انحصار برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرانسمیشن کی رکاوٹوں نے بھی جنوبی علاقوں میں سستی پیداوار کو شمالی طلب مراکز تک پہنچانے میں مشکلات پیدا کیں، جس سے مہنگے پلانٹس پر انحصار بڑھا۔ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پلانٹ اور گڈو کے 747 میگاواٹ یونٹ کی طویل بندش نے بھی لاگت کی کارکردگی کو متاثر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قابل تجدید توانائی کے پلانٹس کو وقفے وقفے سے پیداوار اور ایویکیوشن کی رکاوٹوں کے باعث کرٹیلمنٹ کا سامنا رہا، جس کے نتیجے میں نان پراجیکٹ مسڈ والیوم ادائیگیاں 13 ارب روپے سے تجاوز کر گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، طلب میں اتار چڑھاؤ اور قابل تجدید توانائی کی غیر یقینی دستیابی کے باعث تھرمل پلانٹس کو جزوی لوڈ پر چلانا پڑا، جس سے سال کے دوران پارشل لوڈ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 44.6 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑا۔ مجموعی طور پر زیادہ فکسڈ لاگت، کم استعمال، غیر مؤثر ڈسپیچ اور نظامی رکاوٹوں نے ٹیرف میں اضافے اور مالی دباؤ کو بڑھایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے الیکٹرک کے نظام میں اوسط استعداد کا استعمال 34.6 فیصد رہا، جبکہ درآمدی ایندھن پر مسلسل انحصار کے باعث پیداواری لاگت قومی گرڈ کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ جولائی 2025 میں نیشنل گرڈ اور کے الیکٹرک کے درمیان انٹرکنکشن کو فعال کر دیا گیا، جس سے 2,000 میگاواٹ تک منتقلی کی صلاحیت ممکن ہوئی، تاہم بی کیو پی ایس تھری کے لیے ٹیک اور پے آر ایل این جی معاہدہ اور اس سے منسلک پارشل لوڈ چارجز اب بھی کے الیکٹرک کے جنریشن مکس اور بجلی کے حصول کے انداز کو متاثر کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپرا نے نتیجہ اخذ کیا کہ طویل مدتی پائیداری کے لیے ضروری ہے کہ پیداواری صلاحیت کو حقیقی طلب سے ہم آہنگ کیا جائے، مقامی ایندھن کو ترجیح دی جائے، ٹرانسمیشن اپ گریڈیشن کو تیز کیا جائے، کم لاگت مگر غیر فعال پلانٹس کو بحال کیا جائے اور مستقبل کی نئی صلاحیت کے اضافے کا محتاط جائزہ لیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریگولیٹر نے زور دیا کہ متوازن جنریشن مکس اور بہتر نظامی کارکردگی ہی بجلی کی لاگت میں کمی، قابل اعتماد فراہمی اور مالی طور پر مستحکم پاور سیکٹر کو یقینی بنا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کہا ہے کہ مالی سال 2024–25 کے دوران بجلی گھروں کی کم استعداد پر چلنے اور نصب شدہ صلاحیت میں اضافے کے باعث فی یونٹ بجلی کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ زیادہ کیپیسٹی ادائیگیاں تھیں۔</strong></p>
<p>ریگولیٹر نے زور دیا کہ بجلی کے نرخ کم کرنے کے لیے متوازن جنریشن مکس اور نظام کی کارکردگی میں بہتری ناگزیر ہے۔</p>
<p>مالی سال 2024–25 کے لیے آپریشنل پاور پلانٹس کی کارکردگی سے متعلق اپنی رپورٹ میں نیپرا نے سی پی پی اے-جی اور کے الیکٹرک دونوں نظاموں کے تحت استعداد کے استعمال، پیداواری لاگت اور آپریشنل کارکردگی کا جائزہ لیا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق تھرمل پاور پلانٹس نے ریفرنس صلاحیت کے مقابلے میں مجموعی طور پر 42.5 فیصد استعداد پر کام کیا، جبکہ قابل تجدید توانائی کے پلانٹس کی اوسط استعداد 36.6 فیصد رہی۔ کم استعداد کے استعمال اور زائد نصب شدہ صلاحیت کے باعث فی یونٹ بجلی کی لاگت میں اضافہ ہوا، جس کی بڑی وجہ فکسڈ کیپیسٹی ادائیگیاں تھیں۔</p>
<p>مالی سال کے دوران ایران سے بجلی کی درآمدات کو چھوڑ کر مجموعی پاور پرچیز لاگت 2,943.214 ارب روپے رہی۔ اس میں سے 61 فیصد کیپیسٹی پرچیز پرائس جبکہ 39 فیصد انرجی پرچیز پرائس پر مشتمل تھا۔</p>
<p>اوسط کیپیسٹی پرچیز پرائس 14.3 روپے فی کلوواٹ آور رہی، جبکہ انرجی پرچیز پرائس کی اوسط 9.0 روپے فی کلوواٹ آور رہی۔ زیادہ کیپیسٹی پرچیز پرائس کی وجہ زائد صلاحیت اور کم استعمال تھا، جبکہ انرجی پرچیز پرائس میں اضافہ مہنگے درآمدی ایندھن جیسے آر ایل این جی، آر ایف او اور درآمدی کوئلے پر انحصار کے باعث ہوا۔ اس کے برعکس مقامی ایندھن پر مبنی پلانٹس، جن میں نیوکلیئر، تھر کول اور مقامی گیس شامل ہیں، نمایاں طور پر کم لاگت پر بجلی پیدا کرتے رہے مگر انہیں مکمل طور پر استعمال نہیں کیا گیا۔</p>
<p>ان میں اوچ پاور اور اوچ ٹو پاور پلانٹس، جو مخصوص گیس فیلڈز پر چلتے ہیں، نے تقریباً 13.4 روپے فی کلوواٹ آور کی لاگت سے بجلی پیدا کی۔ تاہم دستیابی کا تناسب 92 فیصد سے زائد ہونے کے باوجود ان کی استعداد کا استعمال بالترتیب 80.9 فیصد اور 71.6 فیصد رہا۔</p>
<p>اکنامک میرٹ آرڈر میں سرفہرست شمار کیے جانے والے یہ پلانٹس قومی بیڑے کے کم ترین لاگت یونٹس میں شامل ہیں، مگر ان کے کم استعمال کے باعث درآمدی ایندھن پر چلنے والے مہنگے پلانٹس پر انحصار بڑھا، جس سے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹس کے ذریعے صارفین پر اضافی بوجھ پڑا۔</p>
<p>نیپرا نے خبردار کیا کہ اوچ گیس فیلڈ کی کمی مستقبل میں پائیداری کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔</p>
<p>اسی طرح تھر کول پر مبنی پلانٹس، جو کم لاگت مقامی ذریعہ ہیں، مالی سال 2024–25 میں مسابقتی لاگت کے باوجود اوسطاً 72.9 فیصد استعداد پر چل سکے۔ محدود ڈسپیچ کے باعث مہنگے درآمدی ایندھن والے پلانٹس کا استعمال بڑھا۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا کہ لکی الیکٹرک پاور کمپنی لمیٹڈ کی درآمدی کوئلے سے تھر کول پر منتقلی کا انحصار کوئلے کی مناسب فراہمی اور پاکستان ریلوے کے تحت جاری تھر ریل لنک کنیکٹیویٹی پروجیکٹ کی بروقت تکمیل پر ہے۔</p>
<p>پروجیکٹ کا سیگمنٹ ون 2026 کے وسط تک مکمل ہونے کی توقع ہے، تاہم سیگمنٹ ٹو، جس میں برانچ لائن اور پورٹ قاسم پر ان لوڈنگ سہولت شامل ہے، نظرثانی شدہ پی سی ون کی منظوری کا منتظر ہے۔</p>
<p>تاخیر کی صورت میں روزانہ 10 سے 12 ہزار ٹن تھر کول کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں درآمدی کوئلے پر انحصار برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔</p>
<p>ٹرانسمیشن کی رکاوٹوں نے بھی جنوبی علاقوں میں سستی پیداوار کو شمالی طلب مراکز تک پہنچانے میں مشکلات پیدا کیں، جس سے مہنگے پلانٹس پر انحصار بڑھا۔ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پلانٹ اور گڈو کے 747 میگاواٹ یونٹ کی طویل بندش نے بھی لاگت کی کارکردگی کو متاثر کیا۔</p>
<p>قابل تجدید توانائی کے پلانٹس کو وقفے وقفے سے پیداوار اور ایویکیوشن کی رکاوٹوں کے باعث کرٹیلمنٹ کا سامنا رہا، جس کے نتیجے میں نان پراجیکٹ مسڈ والیوم ادائیگیاں 13 ارب روپے سے تجاوز کر گئیں۔</p>
<p>مزید برآں، طلب میں اتار چڑھاؤ اور قابل تجدید توانائی کی غیر یقینی دستیابی کے باعث تھرمل پلانٹس کو جزوی لوڈ پر چلانا پڑا، جس سے سال کے دوران پارشل لوڈ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 44.6 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑا۔ مجموعی طور پر زیادہ فکسڈ لاگت، کم استعمال، غیر مؤثر ڈسپیچ اور نظامی رکاوٹوں نے ٹیرف میں اضافے اور مالی دباؤ کو بڑھایا۔</p>
<p>کے الیکٹرک کے نظام میں اوسط استعداد کا استعمال 34.6 فیصد رہا، جبکہ درآمدی ایندھن پر مسلسل انحصار کے باعث پیداواری لاگت قومی گرڈ کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ رہی۔</p>
<p>اگرچہ جولائی 2025 میں نیشنل گرڈ اور کے الیکٹرک کے درمیان انٹرکنکشن کو فعال کر دیا گیا، جس سے 2,000 میگاواٹ تک منتقلی کی صلاحیت ممکن ہوئی، تاہم بی کیو پی ایس تھری کے لیے ٹیک اور پے آر ایل این جی معاہدہ اور اس سے منسلک پارشل لوڈ چارجز اب بھی کے الیکٹرک کے جنریشن مکس اور بجلی کے حصول کے انداز کو متاثر کر رہے ہیں۔</p>
<p>نیپرا نے نتیجہ اخذ کیا کہ طویل مدتی پائیداری کے لیے ضروری ہے کہ پیداواری صلاحیت کو حقیقی طلب سے ہم آہنگ کیا جائے، مقامی ایندھن کو ترجیح دی جائے، ٹرانسمیشن اپ گریڈیشن کو تیز کیا جائے، کم لاگت مگر غیر فعال پلانٹس کو بحال کیا جائے اور مستقبل کی نئی صلاحیت کے اضافے کا محتاط جائزہ لیا جائے۔</p>
<p>ریگولیٹر نے زور دیا کہ متوازن جنریشن مکس اور بہتر نظامی کارکردگی ہی بجلی کی لاگت میں کمی، قابل اعتماد فراہمی اور مالی طور پر مستحکم پاور سیکٹر کو یقینی بنا سکتی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283268</guid>
      <pubDate>Fri, 27 Feb 2026 09:13:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/2709111020688bc.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/2709111020688bc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
