<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:23:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:23:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت اور اسرائیل دفاعی تعاون بڑھائیں گے، مودی کا اعلان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283261/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت اور اسرائیل دفاع کے شعبے میں ٹیکنالوجی کی مشترکہ ترقی، پیداوار اور منتقلی کے ساتھ ساتھ آزاد تجارتی معاہدے پر بھی کام کریں گے۔ یہ بات بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو کہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مودی کے دو روزہ دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان کیے گئے معاہدوں کی کچھ تفصیلات درج ذیل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق دونوں ممالک ”ہورائزن اسکیننگ“ کے شعبے میں تعاون کریں گے، جس سے بھارت کی اسٹریٹجک صلاحیتیں بڑھائی جا سکیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ مشترکہ تحقیق، صلاحیت سازی اور مصنوعی ذہانت پر مبنی آلات کے ذریعے اسٹریٹجک بصیرت، خطرے کا اندازہ اور ٹیکنالوجی کی منصوبہ بندی کو مضبوط بنانے میں مدد دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق اسرائیل آئندہ پانچ سال کے دوران ملک میں 50 ہزار اضافی بھارتی کارکنوں کو داخلے کی اجازت دے گا، خاص طور پر مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نریندر مودی نے کہا کہ بھارت مغربی ایشیا میں امن قائم کرنے کے لیے تمام شراکت داروں سے مشاورت اور تعاون جاری رکھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مودی نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ مشترکہ پریس بریفنگ میں کہا کہ ”غزہ امن منصوبے نے امن کی راہ ہموار کی، اور بھارت نے ان کوششوں کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مودی کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ ایران کے ساحل کے قریب ایک وسیع بحری دستہ تعینات کر رہا ہے، ممکنہ حملوں کے پیشِ نظر، اور دونوں ممالک تہران کے ایٹمی پروگرام پر بات چیت میں تعطل کا شکار ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت اور اسرائیل دفاع کے شعبے میں ٹیکنالوجی کی مشترکہ ترقی، پیداوار اور منتقلی کے ساتھ ساتھ آزاد تجارتی معاہدے پر بھی کام کریں گے۔ یہ بات بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو کہی ہے۔</strong></p>
<p>مودی کے دو روزہ دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان کیے گئے معاہدوں کی کچھ تفصیلات درج ذیل ہیں۔</p>
<p>بھارتی وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق دونوں ممالک ”ہورائزن اسکیننگ“ کے شعبے میں تعاون کریں گے، جس سے بھارت کی اسٹریٹجک صلاحیتیں بڑھائی جا سکیں گی۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ مشترکہ تحقیق، صلاحیت سازی اور مصنوعی ذہانت پر مبنی آلات کے ذریعے اسٹریٹجک بصیرت، خطرے کا اندازہ اور ٹیکنالوجی کی منصوبہ بندی کو مضبوط بنانے میں مدد دے گا۔</p>
<p>بیان کے مطابق اسرائیل آئندہ پانچ سال کے دوران ملک میں 50 ہزار اضافی بھارتی کارکنوں کو داخلے کی اجازت دے گا، خاص طور پر مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں۔</p>
<p>نریندر مودی نے کہا کہ بھارت مغربی ایشیا میں امن قائم کرنے کے لیے تمام شراکت داروں سے مشاورت اور تعاون جاری رکھے گا۔</p>
<p>مودی نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ مشترکہ پریس بریفنگ میں کہا کہ ”غزہ امن منصوبے نے امن کی راہ ہموار کی، اور بھارت نے ان کوششوں کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔“</p>
<p>مودی کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ ایران کے ساحل کے قریب ایک وسیع بحری دستہ تعینات کر رہا ہے، ممکنہ حملوں کے پیشِ نظر، اور دونوں ممالک تہران کے ایٹمی پروگرام پر بات چیت میں تعطل کا شکار ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283261</guid>
      <pubDate>Thu, 26 Feb 2026 19:46:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/26193142a2ed73a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/26193142a2ed73a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
