<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:45:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:45:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یورپ کی امریکی جوہری چھتری پر بڑھتی تشویش، ایمانوئل میکرون جوہری پالیسی کا خاکہ پیش کریں گے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283245/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون پیر کو ملکی جوہری پالیسی کو اپڈیٹ کریں گے، جس میں وہ یورپی ملکوں کے ساتھ مشترکہ کنٹرول کو مسترد کرتے ہوئے یہ واضح کریں گے کہ پیرس اپنے اتحادیوں کو کیا پیش کر سکتا ہے جو امریکی جوہری چھتری کی افادیت پر تشویش رکھتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ فرانس اور برطانیہ دونوں جوہری طاقتیں ہیں، زیادہ تر یورپی ممالک کسی بھی ممکنہ حریف کو روکنے کے لیے بنیادی طور پر امریکہ پر انحصار کرتے ہیں، جو دہائیوں سے ٹرانس اٹلانٹک سیکیورٹی کی بنیاد رہا ہے۔ لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی روس کے ساتھ قربت اور روایتی اتحادیوں کے ساتھ سخت رویہ، بشمول گرین لینڈ پر قبضے کے دھمکی، یورپی حکومتوں کو متحرک کر گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے اس ماہ منچسٹر میں کہا کہ برلن نے فرانس کے ساتھ یورپی جوہری ڈیٹرنٹ پر بات چیت شروع کر دی ہے، جسے میکرون نے دفاع اور سیکیورٹی کے مجموعی نقطہ نظر کے طور پر دیکھا۔ دیگر ممالک نے محتاط دلچسپی ظاہر کی ہے، خاص طور پر روایتی طور پر امریکی حمایت یافتہ شمالی ممالک۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی حکام فرانسیسی صلاحیتوں پر نجی طور پر سوال اٹھاتے ہیں، جن میں لاگت کی تقسیم، لانچ کے فیصلے کون کرے گا، اور آیا جوہری قوت پر توجہ دینے سے روایتی دفاعی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری متاثر ہو سکتی ہے۔ فرانس ہر سال 290 آبدوز اور فضائی میزائلوں کے ذخیرے کو برقرار رکھنے کے لیے تقریباً 5.6 بلین یورو خرچ کرتا ہے، جو دنیا کا چوتھا سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ وہ یورپیوں کو بہتر طور پر سمجھانا چاہتے ہیں کہ فرانس کی پالیسی کیا فراہم کر سکتی ہے اور کیا نہیں، لیکن فنڈنگ کا بوجھ مکمل طور پر فرانس کی ذمہ داری رہے گا تاکہ قومی کنٹرول یقینی بنایا جا سکے۔ فرانسیسی موقف میں اسٹریٹجک ابہام شامل ہے کہ جوہری ہتھیار کب استعمال ہوں گے اور یورپی دفاع کے ساتھ فرانس کے اہم مفادات کہاں ملتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میكرون بریٹنی کے جوہری آبدوز بیس سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی سطح پر پہلا  حملہ روکنے کے لیے مؤثر ذخیرہ رکھنے پر زور دیں گے، تاکہ کسی بھی ممکنہ دشمن پر نا قابل برداشت نقصان ڈال کر حملے کو روکنے کی صلاحیت برقرار رہے۔ فرانس کے صدر کے مطابق جوہری حملے کا حکم صرف صدر فرانس دے سکتے ہیں اور یہ اصول برقرار رہے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون پیر کو ملکی جوہری پالیسی کو اپڈیٹ کریں گے، جس میں وہ یورپی ملکوں کے ساتھ مشترکہ کنٹرول کو مسترد کرتے ہوئے یہ واضح کریں گے کہ پیرس اپنے اتحادیوں کو کیا پیش کر سکتا ہے جو امریکی جوہری چھتری کی افادیت پر تشویش رکھتے ہیں۔</strong></p>
<p>اگرچہ فرانس اور برطانیہ دونوں جوہری طاقتیں ہیں، زیادہ تر یورپی ممالک کسی بھی ممکنہ حریف کو روکنے کے لیے بنیادی طور پر امریکہ پر انحصار کرتے ہیں، جو دہائیوں سے ٹرانس اٹلانٹک سیکیورٹی کی بنیاد رہا ہے۔ لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی روس کے ساتھ قربت اور روایتی اتحادیوں کے ساتھ سخت رویہ، بشمول گرین لینڈ پر قبضے کے دھمکی، یورپی حکومتوں کو متحرک کر گیا ہے۔</p>
<p>جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے اس ماہ منچسٹر میں کہا کہ برلن نے فرانس کے ساتھ یورپی جوہری ڈیٹرنٹ پر بات چیت شروع کر دی ہے، جسے میکرون نے دفاع اور سیکیورٹی کے مجموعی نقطہ نظر کے طور پر دیکھا۔ دیگر ممالک نے محتاط دلچسپی ظاہر کی ہے، خاص طور پر روایتی طور پر امریکی حمایت یافتہ شمالی ممالک۔</p>
<p>یورپی حکام فرانسیسی صلاحیتوں پر نجی طور پر سوال اٹھاتے ہیں، جن میں لاگت کی تقسیم، لانچ کے فیصلے کون کرے گا، اور آیا جوہری قوت پر توجہ دینے سے روایتی دفاعی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری متاثر ہو سکتی ہے۔ فرانس ہر سال 290 آبدوز اور فضائی میزائلوں کے ذخیرے کو برقرار رکھنے کے لیے تقریباً 5.6 بلین یورو خرچ کرتا ہے، جو دنیا کا چوتھا سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔</p>
<p>فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ وہ یورپیوں کو بہتر طور پر سمجھانا چاہتے ہیں کہ فرانس کی پالیسی کیا فراہم کر سکتی ہے اور کیا نہیں، لیکن فنڈنگ کا بوجھ مکمل طور پر فرانس کی ذمہ داری رہے گا تاکہ قومی کنٹرول یقینی بنایا جا سکے۔ فرانسیسی موقف میں اسٹریٹجک ابہام شامل ہے کہ جوہری ہتھیار کب استعمال ہوں گے اور یورپی دفاع کے ساتھ فرانس کے اہم مفادات کہاں ملتے ہیں۔</p>
<p>میكرون بریٹنی کے جوہری آبدوز بیس سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی سطح پر پہلا  حملہ روکنے کے لیے مؤثر ذخیرہ رکھنے پر زور دیں گے، تاکہ کسی بھی ممکنہ دشمن پر نا قابل برداشت نقصان ڈال کر حملے کو روکنے کی صلاحیت برقرار رہے۔ فرانس کے صدر کے مطابق جوہری حملے کا حکم صرف صدر فرانس دے سکتے ہیں اور یہ اصول برقرار رہے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283245</guid>
      <pubDate>Thu, 26 Feb 2026 12:41:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/26123931632e349.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/26123931632e349.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
