<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برآمدات میں کمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283238/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے نو علاقائی ممالک کے ساتھ تجارتی خسارے میں 41.32 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، جس میں چین بدستور سرفہرست ہے۔ 2025 میں چین کو ہونے والی برآمدات 1.467 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کے 1.482 ارب ڈالر کے مقابلے میں معمولی کمی (تقریباً 1 فیصد) کو ظاہر کرتی ہیں۔ اس کے برعکس، چین سے ہونے والی درآمدات جو پچھلے سال 8.907 ارب ڈالر تھیں، 24.58 فیصد اضافے کے ساتھ 2025 میں 11.097 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمدات اور درآمدات کے درمیان اس عدم توازن کی وجہ وہ بوم بسٹ سائیکل (تیزی اور مندی کا چکر) ہوسکتا ہے، جس کے بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا کہنا ہے کہ اس کی بنیاد مشکل کاروباری ماحول اور ناقص گورننس ہے جس نے سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی ہیں۔ یہ سرمایہ کاری ہم پلہ ممالک کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم رہی ہے جس سے (پاکستان کی) عالمی مسابقت مزید کمزور ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وقت کے ساتھ ساتھ معاشی اتار چڑھاؤ میں اضافہ ہی ہوا ہے، جس کی بڑی وجہ پاکستان کے بوم بسٹ (تیزی اور مندی) کے نتائج اور اس کی میکرو اکنامک پالیسیوں کے درمیان گہرا تعلق ہے۔ مالیاتی اور مانیٹری مراعات کے ذریعے معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنے کی بار بار کی جانے والی کوششیں پائیدار ترقی میں تبدیل نہیں ہو سکیں، کیونکہ ملکی طلب پاکستان کی پائیدار صلاحیت سے زیادہ بڑھ گئی، جس کے نتیجے میں مہنگائی بڑھی اور زرمبادلہ ذخائر میں کمی واقع ہوئی جس کی ایک وجہ مستحکم شرحِ مبادلہ کے لیے موجود مضبوط سیاسی ترجیح بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر آنے والی معاشی مندی  نے پاکستان کی پالیسی سازی کی ساکھ اور سرمایہ کاری کے رجحان کو مزید نقصان پہنچایا ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نہ تو ملک کے پیداواری ڈھانچے میں کوئی تبدیلی آئی ہے اور نہ ہی ترقی کو مہمیز دینے کے لیے انتظامیہ کی پالیسیوں میں، جو انسان کو آئن اسٹائن کے اس مشہور قول کی طرف لے جاتی ہے کہ؛ آپ بار بار وہی ایک کام کر کے مختلف نتائج کی توقع نہیں رکھ سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ سنگین سیکیورٹی خدشات علاقائی ممالک، بالخصوص افغانستان اور بھارت کو ہونے والی برآمدات میں کمی کی ایک بڑی وجہ ہیں۔ تاہم برآمدات میں کمی یا جمود کا سبب جغرافیائی سیاسی عوامل بھی ہیں جس میں مشرقِ وسطیٰ پر چھائے جنگ کے بادل اور جاری روس یوکرین جنگ نمایاں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ محصولات کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے ہنگامی اختیارات کے استعمال پر امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے نے عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے، تاہم بھارت کا یورپی یونین  کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ، جو اگلے سال سے نافذ العمل ہوگا، جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے سہارے یورپی یونین کو ہونے والی پاکستان کی موجودہ برآمدات کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ مہینوں میں آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ دو بڑی شرائط کے باعث پاکستان کی اقتصادی صورتحال مزید ابتر ہو گئی ہے۔ پہلی شرط تمام یوٹیلیٹیز، بالخصوص بجلی کے شعبے میں فل کاسٹ ریکوری (پوری لاگت کی وصولی) کو یقینی بنانے پر آئی ایم ایف کا اصرار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ انتظامیہ نے بجلی کے نرخوں میں کمی کی ہے، لیکن یہ صرف ان پرانے قرضوں کی ادائیگی  سے ہی ممکن ہو پایا ہے جو موجودہ شرح کے مقابلے میں زیادہ شرحِ منافع پر لیے گئے تھے جن کا بوجھ صارفین کو اٹھانا پڑ رہا تھا۔ یہ ایک ایسا عنصر ہے جو وقت کے ساتھ بدل سکتا ہے اور اسی بنیاد پر آئی ایم ایف نے یہ شرط عائد کی ہے کہ اگر ڈیٹ سروس سرچارج کو بڑھانے کی ضرورت پڑی تو حکام اسے بڑھانے کا عہد کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب تک اس شعبے (بجلی) کی مسلسل انتہائی ناقص کارکردگی میں بہتری کے کوئی آثار نظر نہیں آئے ہیں۔ دوسری شرط، آئی ایم ایف کا یہ اصرار ہے کہ پیداواری شعبے کو مراعات دینے کے لیے مالیاتی اور مانیٹری پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے۔ تاہم، صنعت سے متعلق ایک امدادی پیکیج کے اعلان کے بعد اس فیصلے کو جزوی طور پر واپس لے لیا گیا، جس میں چاول کے برآمد کنندگان کے لیے سبسڈیز بھی شامل تھیں۔ یہ قدم اس لیے ناگزیر ہو گیا تھا کیونکہ بھارت نے چاول کی برآمد پر عائد اپنی پابندی ختم کر دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے اجلاس میں برآمدات میں کمی کا معاملہ زیرِ بحث آیا، جہاں اراکین نے ملکی برآمدات میں ہونے والے معمولی یا نہ ہونے کے برابر اضافے پر گہرے افسوس کا اظہار کیا، تاہم ایک اہم نکتہ جو اس موقع پر مسئلے کے طور پر نہیں اٹھایا گیا، وہ درآمدات میں ہونے والا بے پناہ اضافہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکرٹری برائے تجارت  نے (یہ واضح نہیں کہ وزارت کو خصوصی سیکرٹری کی خدمات کی ضرورت ہے یا نہیں) اس بات کی نشاندہی کی کہ اگرچہ سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی  نے چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کی برآمدات میں تیزی لانے کے لیے 4.629 ارب روپے کی منظوری دے دی ہے، تاہم وزارتِ منصوبہ بندی  کے ساتھ اختلافِ رائے کی وجہ سے یہ فنڈز جاری نہیں کیے جا سکے ہیں۔ دوسری جانب وزارتِ منصوبہ بندی نے وضاحت کی ہے کہ فنڈز محدود ہیں اور انہیں منصوبوں کی ترجیحات کے مطابق جاری کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے اپنی آئندہ میٹنگ کے لیے وزارتِ داخلہ، دفاع اور خارجہ امور کے ساتھ ساتھ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو بھی طلب کر لیا ہے، تاہم یہ امر مشکوک ہے کہ زمینی حقائق میں اس وقت تک کوئی تبدیلی آئے گی جب تک ایسے پیداواری یونٹس قائم کرنے کے لیے فعال اقدامات نہیں کیے جاتے جن کا محور صرف موجودہ فیکٹریوں کی ویلیو ایڈیشن اور محض فاضل مال  برآمد کرنا نہ ہو۔ لہٰذا، حکام کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ وہ ایسی اشیاء کی مینوفیکچرنگ پر توجہ دیں جو خاص طور پر برآمدات کے لیے ہی تیار کی جائیں۔ اس مقصد کے لیے ایسی ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے جو مصنوعات کے معیار کو یقینی بنائے اور پیداواری لاگت کو کم کرے (جیسے کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال، جس میں چین ہمیں گراں قدر تعاون فراہم کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے نو علاقائی ممالک کے ساتھ تجارتی خسارے میں 41.32 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، جس میں چین بدستور سرفہرست ہے۔ 2025 میں چین کو ہونے والی برآمدات 1.467 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کے 1.482 ارب ڈالر کے مقابلے میں معمولی کمی (تقریباً 1 فیصد) کو ظاہر کرتی ہیں۔ اس کے برعکس، چین سے ہونے والی درآمدات جو پچھلے سال 8.907 ارب ڈالر تھیں، 24.58 فیصد اضافے کے ساتھ 2025 میں 11.097 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔</strong></p>
<p>برآمدات اور درآمدات کے درمیان اس عدم توازن کی وجہ وہ بوم بسٹ سائیکل (تیزی اور مندی کا چکر) ہوسکتا ہے، جس کے بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا کہنا ہے کہ اس کی بنیاد مشکل کاروباری ماحول اور ناقص گورننس ہے جس نے سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی ہیں۔ یہ سرمایہ کاری ہم پلہ ممالک کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم رہی ہے جس سے (پاکستان کی) عالمی مسابقت مزید کمزور ہوئی ہے۔</p>
<p>وقت کے ساتھ ساتھ معاشی اتار چڑھاؤ میں اضافہ ہی ہوا ہے، جس کی بڑی وجہ پاکستان کے بوم بسٹ (تیزی اور مندی) کے نتائج اور اس کی میکرو اکنامک پالیسیوں کے درمیان گہرا تعلق ہے۔ مالیاتی اور مانیٹری مراعات کے ذریعے معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنے کی بار بار کی جانے والی کوششیں پائیدار ترقی میں تبدیل نہیں ہو سکیں، کیونکہ ملکی طلب پاکستان کی پائیدار صلاحیت سے زیادہ بڑھ گئی، جس کے نتیجے میں مہنگائی بڑھی اور زرمبادلہ ذخائر میں کمی واقع ہوئی جس کی ایک وجہ مستحکم شرحِ مبادلہ کے لیے موجود مضبوط سیاسی ترجیح بھی ہے۔</p>
<p>ہر آنے والی معاشی مندی  نے پاکستان کی پالیسی سازی کی ساکھ اور سرمایہ کاری کے رجحان کو مزید نقصان پہنچایا ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نہ تو ملک کے پیداواری ڈھانچے میں کوئی تبدیلی آئی ہے اور نہ ہی ترقی کو مہمیز دینے کے لیے انتظامیہ کی پالیسیوں میں، جو انسان کو آئن اسٹائن کے اس مشہور قول کی طرف لے جاتی ہے کہ؛ آپ بار بار وہی ایک کام کر کے مختلف نتائج کی توقع نہیں رکھ سکتے۔</p>
<p>اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ سنگین سیکیورٹی خدشات علاقائی ممالک، بالخصوص افغانستان اور بھارت کو ہونے والی برآمدات میں کمی کی ایک بڑی وجہ ہیں۔ تاہم برآمدات میں کمی یا جمود کا سبب جغرافیائی سیاسی عوامل بھی ہیں جس میں مشرقِ وسطیٰ پر چھائے جنگ کے بادل اور جاری روس یوکرین جنگ نمایاں ہیں۔</p>
<p>اگرچہ محصولات کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے ہنگامی اختیارات کے استعمال پر امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے نے عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے، تاہم بھارت کا یورپی یونین  کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ، جو اگلے سال سے نافذ العمل ہوگا، جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے سہارے یورپی یونین کو ہونے والی پاکستان کی موجودہ برآمدات کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوگا۔</p>
<p>حالیہ مہینوں میں آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ دو بڑی شرائط کے باعث پاکستان کی اقتصادی صورتحال مزید ابتر ہو گئی ہے۔ پہلی شرط تمام یوٹیلیٹیز، بالخصوص بجلی کے شعبے میں فل کاسٹ ریکوری (پوری لاگت کی وصولی) کو یقینی بنانے پر آئی ایم ایف کا اصرار ہے۔</p>
<p>اگرچہ انتظامیہ نے بجلی کے نرخوں میں کمی کی ہے، لیکن یہ صرف ان پرانے قرضوں کی ادائیگی  سے ہی ممکن ہو پایا ہے جو موجودہ شرح کے مقابلے میں زیادہ شرحِ منافع پر لیے گئے تھے جن کا بوجھ صارفین کو اٹھانا پڑ رہا تھا۔ یہ ایک ایسا عنصر ہے جو وقت کے ساتھ بدل سکتا ہے اور اسی بنیاد پر آئی ایم ایف نے یہ شرط عائد کی ہے کہ اگر ڈیٹ سروس سرچارج کو بڑھانے کی ضرورت پڑی تو حکام اسے بڑھانے کا عہد کریں۔</p>
<p>اب تک اس شعبے (بجلی) کی مسلسل انتہائی ناقص کارکردگی میں بہتری کے کوئی آثار نظر نہیں آئے ہیں۔ دوسری شرط، آئی ایم ایف کا یہ اصرار ہے کہ پیداواری شعبے کو مراعات دینے کے لیے مالیاتی اور مانیٹری پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے۔ تاہم، صنعت سے متعلق ایک امدادی پیکیج کے اعلان کے بعد اس فیصلے کو جزوی طور پر واپس لے لیا گیا، جس میں چاول کے برآمد کنندگان کے لیے سبسڈیز بھی شامل تھیں۔ یہ قدم اس لیے ناگزیر ہو گیا تھا کیونکہ بھارت نے چاول کی برآمد پر عائد اپنی پابندی ختم کر دی تھی۔</p>
<p>قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے اجلاس میں برآمدات میں کمی کا معاملہ زیرِ بحث آیا، جہاں اراکین نے ملکی برآمدات میں ہونے والے معمولی یا نہ ہونے کے برابر اضافے پر گہرے افسوس کا اظہار کیا، تاہم ایک اہم نکتہ جو اس موقع پر مسئلے کے طور پر نہیں اٹھایا گیا، وہ درآمدات میں ہونے والا بے پناہ اضافہ تھا۔</p>
<p>سیکرٹری برائے تجارت  نے (یہ واضح نہیں کہ وزارت کو خصوصی سیکرٹری کی خدمات کی ضرورت ہے یا نہیں) اس بات کی نشاندہی کی کہ اگرچہ سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی  نے چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کی برآمدات میں تیزی لانے کے لیے 4.629 ارب روپے کی منظوری دے دی ہے، تاہم وزارتِ منصوبہ بندی  کے ساتھ اختلافِ رائے کی وجہ سے یہ فنڈز جاری نہیں کیے جا سکے ہیں۔ دوسری جانب وزارتِ منصوبہ بندی نے وضاحت کی ہے کہ فنڈز محدود ہیں اور انہیں منصوبوں کی ترجیحات کے مطابق جاری کیا جائے گا۔</p>
<p>کمیٹی نے اپنی آئندہ میٹنگ کے لیے وزارتِ داخلہ، دفاع اور خارجہ امور کے ساتھ ساتھ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو بھی طلب کر لیا ہے، تاہم یہ امر مشکوک ہے کہ زمینی حقائق میں اس وقت تک کوئی تبدیلی آئے گی جب تک ایسے پیداواری یونٹس قائم کرنے کے لیے فعال اقدامات نہیں کیے جاتے جن کا محور صرف موجودہ فیکٹریوں کی ویلیو ایڈیشن اور محض فاضل مال  برآمد کرنا نہ ہو۔ لہٰذا، حکام کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ وہ ایسی اشیاء کی مینوفیکچرنگ پر توجہ دیں جو خاص طور پر برآمدات کے لیے ہی تیار کی جائیں۔ اس مقصد کے لیے ایسی ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے جو مصنوعات کے معیار کو یقینی بنائے اور پیداواری لاگت کو کم کرے (جیسے کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال، جس میں چین ہمیں گراں قدر تعاون فراہم کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے)۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283238</guid>
      <pubDate>Thu, 26 Feb 2026 11:46:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/26111408a3c9d46.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/26111408a3c9d46.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
