<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:00:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:00:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت نے کمزور صنعتی یونٹس کیلئے بحالی اور قرض حل منصوبہ شروع کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283231/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیرِ اعظم کے خصوصی معاون برائے صنعت و پیداوار، ہارون اختر خان نے بدھ کو کہا کہ حکومت نے کمزور صنعتی یونٹس کے لیے ریوائیول اینڈ ڈیبٹ ریزولوشن فریم ورک کا آغاز کیا ہے، جس کی نگرانی نیشنل انڈسٹریل ریوائیول کمیشن(این آئی آر سی) کرے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بیان انہوں نے وزیرِ دفاع خواجہ آصف سے ملاقات کے دوران دیا، جو سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایس سی سی آئی) کے وفد کے ہمراہ وزارتِ صنعت و پیداوار پہنچے تھے۔ ہارون اختر خان نے اس موقع پر زور دیا کہ آنے والا وفاقی بجٹ صنعت دوست اور کاروبار دوست ہوگا، جس کا مقصد کاروباری طبقے کو ریلیف اور مراعات فراہم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں پاکستان کی اقتصادی ترقی، برآمدات کے فروغ اور آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق امور پر بات چیت ہوئی۔ ایس سی سی آئی کے وفد نے تجاویز اور سفارشات پیش کیں، جن پر حکومت غور کر رہی ہے۔ ہارون اختر خان نے کہا کہ ٹیکس میں نرمی اور دیگر مراعات کے بارے میں تجاویز زیرِ جائزہ ہیں اور حکومت عملی اور ترقی پسند اقدامات شامل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایس سی سی آئی کے نمائندوں کو نیشنل انڈسٹریل پالیسی 2025–30 کے اہم نکات سے آگاہ کیا اور کہا کہ اس پالیسی کا مقصد ملکی صنعتوں کو مضبوط بنانا اور برآمدات بڑھانا ہے۔ اس میں خام مال، درمیانی مصنوعات اور مشینری پر ٹیرف کم کرنا شامل ہے تاکہ پیداوار کی لاگت میں کمی آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیڈرل بورڈ آف ریونیو درآمدی ان پٹ پر کسٹمز ڈیوٹی، ریگولیٹری ڈیوٹی اور اضافی کسٹمز ڈیوٹی کو مرحلہ وار ختم کرے گا تاکہ صنعت کار عالمی مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔ اصلاحات میں کارپوریٹ ٹیکس کو آسان بنانا، اضافی محصولات ختم کرنا، وی اے ٹی ریفنڈ کی فوری ادائیگی، درآمدی ڈیوٹی میں چھوٹ اور ڈیوٹی بیک ڈراو کلیمز کی سہل پروسیسنگ شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہارون اختر خان نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے بہتر کیش فلو اور برآمدی مارکیٹس تک آسان رسائی حاصل کریں گے۔ حکومت نے تمام اسٹیک ہولڈرز کے تعاون سے یہ پالیسی تیار کی ہے تاکہ صنعتی ترقی، سرمایہ کاری میں اضافہ اور روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور تمام وزارتیں برآمدات بڑھانے اور قومی معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے دن رات کام کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیرِ اعظم کے خصوصی معاون برائے صنعت و پیداوار، ہارون اختر خان نے بدھ کو کہا کہ حکومت نے کمزور صنعتی یونٹس کے لیے ریوائیول اینڈ ڈیبٹ ریزولوشن فریم ورک کا آغاز کیا ہے، جس کی نگرانی نیشنل انڈسٹریل ریوائیول کمیشن(این آئی آر سی) کرے گا۔</strong></p>
<p>یہ بیان انہوں نے وزیرِ دفاع خواجہ آصف سے ملاقات کے دوران دیا، جو سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایس سی سی آئی) کے وفد کے ہمراہ وزارتِ صنعت و پیداوار پہنچے تھے۔ ہارون اختر خان نے اس موقع پر زور دیا کہ آنے والا وفاقی بجٹ صنعت دوست اور کاروبار دوست ہوگا، جس کا مقصد کاروباری طبقے کو ریلیف اور مراعات فراہم کرنا ہے۔</p>
<p>ملاقات میں پاکستان کی اقتصادی ترقی، برآمدات کے فروغ اور آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق امور پر بات چیت ہوئی۔ ایس سی سی آئی کے وفد نے تجاویز اور سفارشات پیش کیں، جن پر حکومت غور کر رہی ہے۔ ہارون اختر خان نے کہا کہ ٹیکس میں نرمی اور دیگر مراعات کے بارے میں تجاویز زیرِ جائزہ ہیں اور حکومت عملی اور ترقی پسند اقدامات شامل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔</p>
<p>انہوں نے ایس سی سی آئی کے نمائندوں کو نیشنل انڈسٹریل پالیسی 2025–30 کے اہم نکات سے آگاہ کیا اور کہا کہ اس پالیسی کا مقصد ملکی صنعتوں کو مضبوط بنانا اور برآمدات بڑھانا ہے۔ اس میں خام مال، درمیانی مصنوعات اور مشینری پر ٹیرف کم کرنا شامل ہے تاکہ پیداوار کی لاگت میں کمی آئے۔</p>
<p>فیڈرل بورڈ آف ریونیو درآمدی ان پٹ پر کسٹمز ڈیوٹی، ریگولیٹری ڈیوٹی اور اضافی کسٹمز ڈیوٹی کو مرحلہ وار ختم کرے گا تاکہ صنعت کار عالمی مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔ اصلاحات میں کارپوریٹ ٹیکس کو آسان بنانا، اضافی محصولات ختم کرنا، وی اے ٹی ریفنڈ کی فوری ادائیگی، درآمدی ڈیوٹی میں چھوٹ اور ڈیوٹی بیک ڈراو کلیمز کی سہل پروسیسنگ شامل ہے۔</p>
<p>ہارون اختر خان نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے بہتر کیش فلو اور برآمدی مارکیٹس تک آسان رسائی حاصل کریں گے۔ حکومت نے تمام اسٹیک ہولڈرز کے تعاون سے یہ پالیسی تیار کی ہے تاکہ صنعتی ترقی، سرمایہ کاری میں اضافہ اور روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور تمام وزارتیں برآمدات بڑھانے اور قومی معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے دن رات کام کر رہی ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283231</guid>
      <pubDate>Thu, 26 Feb 2026 09:35:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبدالرشید آزاد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/26093119b7bae55.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/26093119b7bae55.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
