<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Energy</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:58:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:58:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکہ–ایران کشیدگی سے رسد کو خطرات، خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283229/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں جمعرات کو تقریباً سات ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب رہیں کیونکہ سرمایہ کار اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات ممکنہ فوجی تصادم کو روک سکیں گے یا نہیں۔ تاہم امریکا میں خام تیل کے ذخائر میں نمایاں اضافے نے قیمتوں میں مزید تیزی کو محدود رکھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کے سودے 71.12 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتے رہے جو 27 سینٹ یا 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ تھے، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 65.65 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا جو 23 سینٹ یا 0.4 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔ پیر کو دونوں معاہدے 31 جولائی کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچے تھے اور اب تک انہی سطحوں کے قریب برقرار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا نے مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی ہے تاکہ ایران پر اس کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کے خاتمے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے منگل کو اپنے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں ایران پر ممکنہ حملے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا کے ساتھ معاہدہ ممکن ہے بشرطیکہ سفارت کاری کو ترجیح دی جائے۔ امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر جمعرات کو جنیوا میں ایرانی وفد سے تیسرے دور کے مذاکرات کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کے مطابق اگر محدود نوعیت کا مختصر تصادم بھی ہوا تو امریکی خام تیل عارضی طور پر 70 ڈالر سے اوپر جا سکتا ہے، تاہم طویل تنازع کی صورت میں رسد متاثر ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ ایران تنظیم برائے پٹرولیم برآمد کنندگان ممالک اوپیک کا تیسرا بڑا پیدا کنندہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب نے ممکنہ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر پیداوار اور برآمدات بڑھانے کی تیاری کر لی ہے۔ دوسری جانب اوپیک پلس اپریل کے لیے یومیہ 137,000 بیرل اضافے پر غور کر رہا ہے۔ تاہم امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکا میں خام تیل کے ذخائر میں 16 ملین بیرل اضافہ ہوا جو تین برسوں میں سب سے بڑا اضافہ ہے، اور اس نے قیمتوں میں اضافے کی رفتار کو سست کر دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں جمعرات کو تقریباً سات ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب رہیں کیونکہ سرمایہ کار اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات ممکنہ فوجی تصادم کو روک سکیں گے یا نہیں۔ تاہم امریکا میں خام تیل کے ذخائر میں نمایاں اضافے نے قیمتوں میں مزید تیزی کو محدود رکھا۔</strong></p>
<p>برینٹ خام تیل کے سودے 71.12 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتے رہے جو 27 سینٹ یا 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ تھے، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 65.65 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا جو 23 سینٹ یا 0.4 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔ پیر کو دونوں معاہدے 31 جولائی کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچے تھے اور اب تک انہی سطحوں کے قریب برقرار ہیں۔</p>
<p>امریکا نے مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی ہے تاکہ ایران پر اس کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کے خاتمے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے منگل کو اپنے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں ایران پر ممکنہ حملے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔</p>
<p>ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا کے ساتھ معاہدہ ممکن ہے بشرطیکہ سفارت کاری کو ترجیح دی جائے۔ امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر جمعرات کو جنیوا میں ایرانی وفد سے تیسرے دور کے مذاکرات کریں گے۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کے مطابق اگر محدود نوعیت کا مختصر تصادم بھی ہوا تو امریکی خام تیل عارضی طور پر 70 ڈالر سے اوپر جا سکتا ہے، تاہم طویل تنازع کی صورت میں رسد متاثر ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ ایران تنظیم برائے پٹرولیم برآمد کنندگان ممالک اوپیک کا تیسرا بڑا پیدا کنندہ ہے۔</p>
<p>سعودی عرب نے ممکنہ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر پیداوار اور برآمدات بڑھانے کی تیاری کر لی ہے۔ دوسری جانب اوپیک پلس اپریل کے لیے یومیہ 137,000 بیرل اضافے پر غور کر رہا ہے۔ تاہم امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکا میں خام تیل کے ذخائر میں 16 ملین بیرل اضافہ ہوا جو تین برسوں میں سب سے بڑا اضافہ ہے، اور اس نے قیمتوں میں اضافے کی رفتار کو سست کر دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283229</guid>
      <pubDate>Thu, 26 Feb 2026 09:16:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/26091422d2f340c.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/26091422d2f340c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
