<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:00:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:00:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>700 ملین روپے کے سامان کا غبن: قومی اسمبلی کمیٹی کا ہیزیکو کے صارفین کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا فیصلہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283228/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کی ذیلی کمیٹی نے ہزاره الیکٹرک سپلائی کمپنی (ہیزیکو) کے اُن صارفین کے خلاف مقدمات درج کرنے کا فیصلہ کیا ہے جنہوں نے مبینہ طور پر کمپنی کا تقریباً 700 ملین روپے مالیت کا سامان واپس نہیں کیا اور اسے اپنے گھروں میں رکھا ہوا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذیلی کمیٹی، جس میں بابر نواز خان، شیخ آفتاب احمد، سید وسیم حسین اور سید نوشین افتخار شامل ہیں، نے ہیزیکو کے امور کا جائزہ لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذیلی کمیٹی کے کنوینر بابر نواز خان نے اراکین کو بتایا کہ انہیں ایک جامع رپورٹ موصول ہوئی ہے جس کے ساتھ اُن افراد کے شناختی کارڈز کی نقول بھی شامل ہیں جن کے پاس مبینہ طور پر کمپنی کے اثاثے موجود ہے۔ اس سامان میں ٹرانسفارمرز، تاریں اور بجلی کے کھمبے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر متعلقہ افراد کو نوٹس جاری کیے جائیں گے۔ اگر انہوں نے سامان واپس نہ کیا تو ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی کیونکہ یہ سامان عوامی فنڈز سے خریدا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہیزیکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے کمیٹی کو بتایا کہ 11 کے وی فیڈرز پر لوڈشیڈنگ اے ٹی اینڈ سی نقصانات کی بنیاد پر کی جاتی ہے اور یہی پالیسی دیگر ڈسکوز میں بھی موجودہ قواعد کے مطابق یکساں طور پر نافذ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے وضاحت کی کہ جب کسی مخصوص فیڈر پر اے ٹی اینڈ سی نقصانات کم ہوتے ہیں تو لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم کر دیا جاتا ہے یا مکمل طور پر ختم کر دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید بتایا گیا کہ دونوں اداروں کے ملازمین اس وقت پی ٹی اے کے تحت منتقلی کے مرحلے میں ہیں اور یہ عمل 30 جون 2026 تک جاری رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مستقبل میں اپ گریڈیشن کی تیاری جاری ہے اور بی ٹی اے کے تحت منتقلی مکمل ہونے کے بعد ہیزیکو کی سطح پر ترقیوں پر غور کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذیلی کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ پی پی ایم سی کی ایک ٹیم مجوزہ گرڈ اسٹیشن کے مقام اور متوقع اخراجات کی تصدیق کے لیے ہیزیکو کے علاقے کا دورہ کر رہی ہے۔ اس منصوبے کی مجموعی لاگت کا تخمینہ 800 ملین روپے ہے، تاہم زمینی سطح پر پیش رفت نہ ہونے کے برابر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی پی ایم سی کی ٹیم جمعرات 26 فروری کو سائٹ کا دورہ کرے گی اور ذیلی کمیٹی کو ابتدائی رپورٹ پیش کرے گی جبکہ تفصیلی رپورٹ بعد میں جمع کرائی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے پینل کو آگاہ کیا کہ کمپنی کا تفصیلی بزنس پلان اپریل 2026 تک نیپرا کو جمع کرا دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کی ذیلی کمیٹی نے ہزاره الیکٹرک سپلائی کمپنی (ہیزیکو) کے اُن صارفین کے خلاف مقدمات درج کرنے کا فیصلہ کیا ہے جنہوں نے مبینہ طور پر کمپنی کا تقریباً 700 ملین روپے مالیت کا سامان واپس نہیں کیا اور اسے اپنے گھروں میں رکھا ہوا ہے۔</strong></p>
<p>ذیلی کمیٹی، جس میں بابر نواز خان، شیخ آفتاب احمد، سید وسیم حسین اور سید نوشین افتخار شامل ہیں، نے ہیزیکو کے امور کا جائزہ لیا۔</p>
<p>ذیلی کمیٹی کے کنوینر بابر نواز خان نے اراکین کو بتایا کہ انہیں ایک جامع رپورٹ موصول ہوئی ہے جس کے ساتھ اُن افراد کے شناختی کارڈز کی نقول بھی شامل ہیں جن کے پاس مبینہ طور پر کمپنی کے اثاثے موجود ہے۔ اس سامان میں ٹرانسفارمرز، تاریں اور بجلی کے کھمبے شامل ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر متعلقہ افراد کو نوٹس جاری کیے جائیں گے۔ اگر انہوں نے سامان واپس نہ کیا تو ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی کیونکہ یہ سامان عوامی فنڈز سے خریدا گیا تھا۔</p>
<p>ہیزیکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے کمیٹی کو بتایا کہ 11 کے وی فیڈرز پر لوڈشیڈنگ اے ٹی اینڈ سی نقصانات کی بنیاد پر کی جاتی ہے اور یہی پالیسی دیگر ڈسکوز میں بھی موجودہ قواعد کے مطابق یکساں طور پر نافذ ہے۔</p>
<p>انہوں نے وضاحت کی کہ جب کسی مخصوص فیڈر پر اے ٹی اینڈ سی نقصانات کم ہوتے ہیں تو لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم کر دیا جاتا ہے یا مکمل طور پر ختم کر دیا جاتا ہے۔</p>
<p>مزید بتایا گیا کہ دونوں اداروں کے ملازمین اس وقت پی ٹی اے کے تحت منتقلی کے مرحلے میں ہیں اور یہ عمل 30 جون 2026 تک جاری رہے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ مستقبل میں اپ گریڈیشن کی تیاری جاری ہے اور بی ٹی اے کے تحت منتقلی مکمل ہونے کے بعد ہیزیکو کی سطح پر ترقیوں پر غور کیا جائے گا۔</p>
<p>ذیلی کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ پی پی ایم سی کی ایک ٹیم مجوزہ گرڈ اسٹیشن کے مقام اور متوقع اخراجات کی تصدیق کے لیے ہیزیکو کے علاقے کا دورہ کر رہی ہے۔ اس منصوبے کی مجموعی لاگت کا تخمینہ 800 ملین روپے ہے، تاہم زمینی سطح پر پیش رفت نہ ہونے کے برابر ہے۔</p>
<p>پی پی ایم سی کی ٹیم جمعرات 26 فروری کو سائٹ کا دورہ کرے گی اور ذیلی کمیٹی کو ابتدائی رپورٹ پیش کرے گی جبکہ تفصیلی رپورٹ بعد میں جمع کرائی جائے گی۔</p>
<p>کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے پینل کو آگاہ کیا کہ کمپنی کا تفصیلی بزنس پلان اپریل 2026 تک نیپرا کو جمع کرا دیا جائے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283228</guid>
      <pubDate>Thu, 26 Feb 2026 09:08:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/260904383f631e8.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/260904383f631e8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
