<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹریڈ آرگنائزیشن رولز میں ترامیم کی تجویز پر صنعت کاروں کے شدید تحفظات</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283217/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے سینئر  عہدیداروں نے  قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت میں پیش کیے گئے ٹریڈ آرگنائزیشن رولز (ٹی او آرز) 2013 میں مجوزہ ترامیم کے بل پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا  کہ یہ اقدام ملک کے تجارتی اداروں کے ڈھانچے کو غیر مستحکم اور ضلعی سطح کی معیشتوں پر انتہائی منفی اثرات مرتب کرسکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف پی سی سی آئی  کے صدر عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ مجوزہ قانون سازی نے ملک بھر کی تاجر برادری میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اندرونی و بیرونی تجارتی رکاوٹوں اور دباؤ کی وجہ سے کاروباری ماحول پہلے ہی غیر مستحکم ہے۔ چیمبرز آف کامرس ہی تاجر برادری کیلئے اپنی آواز بلند کرنے کا آخری سہارا ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بدھ کو جاری ایک بیان میں کہا کہ مجوزہ قانون سازی ضلعی سطح کے چیمبرز کا خاتمہ کر دے گی، ادارہ جاتی ڈھانچوں کو تباہ کر دے گی اور ضلعی معیشتوں کو شدید نقصان پہنچائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مقامی معیشتوں کی تشکیل اور ملک کی اقتصادی ترقی میں حصہ ڈالنے کیلئے ضلعی چیمبرز ایک حیاتیاتی (اہم) کردار ادا کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجارتی تنظیموں پر کسی بھی قسم کی پابندی برآمدات سے وابستہ کاروبار کو نمائندگی سے محروم کرسکتی ہے۔ یہ ترمیم تاجر برادری کی حوصلہ شکنی کرے گی اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) اور خواتین کے زیرِ انتظام چلنے والے اداروں کے لیے مایوسی کا باعث بنے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے مجوزہ ترامیم کے بل پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے  خبردار کیا کہ موجودہ فریم ورک میں کسی بھی اچانک اور غیر متوازن تبدیلی کے نتیجے میں ملک بھر کی متعدد نمائندہ تجارتی تنظیمیں بندش کے خطرے سے دوچار ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ثاقب فیاض مگوں کا کہنا تھا کہ اس مجوزہ اقدام نے تاجر برادری میں بے یقینی کی فضا پیدا کردی ہے جبکہ ملکی معیشت پہلے ہی اندرونی و بیرونی چیلنجز کے باعث دباؤ کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کاروباری طبقے کا سب سے مؤثر اور بنیادی پلیٹ فارم ہیں جہاں سے تاجر برادری اجتماعی طور پر اپنے مسائل اجاگر کرتی اور پالیسی سازی کے عمل میں فعال کردار ادا کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر تجارتی تنظیموں کو صرف میونسپل سٹی کی حدود تک محدود کر دیا گیا تو صنعتی اسٹیٹس، تحصیلوں میں قائم ایس ایم ای کلسٹرز اور دیہی برآمدی کاروبار مناسب نمائندگی سے محروم ہو جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی ترامیم نہ صرف ضلعی چیمبرز کے وجود کو خطرے میں ڈال دیں گی بلکہ برسوں کی ادارہ جاتی ترقی کو بھی نقصان پہنچائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ان تبدیلیوں کے منفی اثرات مقامی معیشتوں پر مرتب ہوں گے اور بالخصوص خواتین کاروباری شخصیات اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار شدید متاثر ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ثاقب فیاض مگوں نے ارکان پارلیمنٹ پر زور دیا کہ وہ مجوزہ ترامیم پر سنجیدگی سے نظرثانی کریں اور ضلعی چیمبرز کے تسلسل اور تحفظ کو یقینی بنائیں کیونکہ یہی ادارے نچلی سطح پر معاشی سرگرمیوں کی حقیقی بنیاد اور ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے سینئر  عہدیداروں نے  قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت میں پیش کیے گئے ٹریڈ آرگنائزیشن رولز (ٹی او آرز) 2013 میں مجوزہ ترامیم کے بل پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا  کہ یہ اقدام ملک کے تجارتی اداروں کے ڈھانچے کو غیر مستحکم اور ضلعی سطح کی معیشتوں پر انتہائی منفی اثرات مرتب کرسکتا ہے۔</strong></p>
<p>ایف پی سی سی آئی  کے صدر عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ مجوزہ قانون سازی نے ملک بھر کی تاجر برادری میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اندرونی و بیرونی تجارتی رکاوٹوں اور دباؤ کی وجہ سے کاروباری ماحول پہلے ہی غیر مستحکم ہے۔ چیمبرز آف کامرس ہی تاجر برادری کیلئے اپنی آواز بلند کرنے کا آخری سہارا ہیں۔</p>
<p>انہوں نے بدھ کو جاری ایک بیان میں کہا کہ مجوزہ قانون سازی ضلعی سطح کے چیمبرز کا خاتمہ کر دے گی، ادارہ جاتی ڈھانچوں کو تباہ کر دے گی اور ضلعی معیشتوں کو شدید نقصان پہنچائے گی۔</p>
<p>انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مقامی معیشتوں کی تشکیل اور ملک کی اقتصادی ترقی میں حصہ ڈالنے کیلئے ضلعی چیمبرز ایک حیاتیاتی (اہم) کردار ادا کرتے ہیں۔</p>
<p>تجارتی تنظیموں پر کسی بھی قسم کی پابندی برآمدات سے وابستہ کاروبار کو نمائندگی سے محروم کرسکتی ہے۔ یہ ترمیم تاجر برادری کی حوصلہ شکنی کرے گی اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) اور خواتین کے زیرِ انتظام چلنے والے اداروں کے لیے مایوسی کا باعث بنے گی۔</p>
<p>اسی طرح ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے مجوزہ ترامیم کے بل پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے  خبردار کیا کہ موجودہ فریم ورک میں کسی بھی اچانک اور غیر متوازن تبدیلی کے نتیجے میں ملک بھر کی متعدد نمائندہ تجارتی تنظیمیں بندش کے خطرے سے دوچار ہو سکتی ہیں۔</p>
<p>ثاقب فیاض مگوں کا کہنا تھا کہ اس مجوزہ اقدام نے تاجر برادری میں بے یقینی کی فضا پیدا کردی ہے جبکہ ملکی معیشت پہلے ہی اندرونی و بیرونی چیلنجز کے باعث دباؤ کا شکار ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کاروباری طبقے کا سب سے مؤثر اور بنیادی پلیٹ فارم ہیں جہاں سے تاجر برادری اجتماعی طور پر اپنے مسائل اجاگر کرتی اور پالیسی سازی کے عمل میں فعال کردار ادا کرتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر تجارتی تنظیموں کو صرف میونسپل سٹی کی حدود تک محدود کر دیا گیا تو صنعتی اسٹیٹس، تحصیلوں میں قائم ایس ایم ای کلسٹرز اور دیہی برآمدی کاروبار مناسب نمائندگی سے محروم ہو جائیں گے۔</p>
<p>ایسی ترامیم نہ صرف ضلعی چیمبرز کے وجود کو خطرے میں ڈال دیں گی بلکہ برسوں کی ادارہ جاتی ترقی کو بھی نقصان پہنچائیں گی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ان تبدیلیوں کے منفی اثرات مقامی معیشتوں پر مرتب ہوں گے اور بالخصوص خواتین کاروباری شخصیات اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار شدید متاثر ہوں گے۔</p>
<p>ثاقب فیاض مگوں نے ارکان پارلیمنٹ پر زور دیا کہ وہ مجوزہ ترامیم پر سنجیدگی سے نظرثانی کریں اور ضلعی چیمبرز کے تسلسل اور تحفظ کو یقینی بنائیں کیونکہ یہی ادارے نچلی سطح پر معاشی سرگرمیوں کی حقیقی بنیاد اور ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283217</guid>
      <pubDate>Wed, 25 Feb 2026 15:02:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/251448485d61522.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/251448485d61522.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
