<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایم ایف شرائط اور حکومتی بے حسی سے غربت میں اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283204/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لاکھوں پاکستانیوں کی روزمرہ کی جدوجہد جو سکڑتی ہوئی آمدنی، بڑھتے اخراجات اور ختم ہوتے ہوئے مواقع کی مرہونِ منت ہے سے واقف کوئی بھی شخص، وزارتِ منصوبہ بندی کے 20 فروری کو جاری کردہ سروے میں غربت اور آمدنی کی عدم مساوات کے حالیہ اعداد و شمار دیکھ کر شاید ہی حیران ہو۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتی دعووں کے برعکس کہ ملک نے معاشی استحکام حاصل کرلیا ہے اور وہ پائیدار ترقی کی دہلیز پر ہے، یہ سروے ایک انتہائی بھیانک تصویر پیش کرتا ہے: غربت 11 سال کی بلند ترین سطح 29 فیصد پر پہنچ گئی ہے، آمدنی کی عدم مساوات 27 سال کی بلند ترین سطح 32.7 فیصد پر ہے اور تقریباً 7 کروڑ (70 ملین) لوگ 8,484 روپے ماہانہ کی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے زیادہ خطرے کی بات یہ ہے کہ غربت میں کمی کا دیرینہ رجحان 13 سالوں میں پہلی بار الٹ گیا ہے جبکہ گھرانوں کی حقیقی ماہانہ آمدنی میں 2019 سے اب تک 12 فیصد کمی واقع ہوئی ہے جو 35,454 روپے سے گر کر مالی سال 2024-25 میں 31,127 روپے رہ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نتائج نہ صرف حکومت کے موجودہ پالیسی انتخاب کی سنگین سماجی و معاشی قیمت  کو اجاگر کرتے ہیں بلکہ اگر یہی روش برقرار رہی تو جلد بہتری کی کسی بھی امید کو بھی دم توڑ دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سروے کے ان پریشان کن انکشافات کے ساتھ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ حالیہ لیبر فورس سروے نے بے روزگاری کی شرح 21 سال کی بلند ترین سطح یعنی 7.1 فیصد پر بتائی ہے جبکہ مالی سال 2025 میں سرمایہ کاری اور جی ڈی پی کا تناسب مجموعی طور پر 13.8 فیصد پر منجمد رہا ہے جو سرمایہ کاری کے کمزور ماحول کی نشاندہی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ برسوں میں کئی ملٹی نیشنل (کثیر القومی) کمپنیاں یہاں سے اپنا کاروبار سمیٹ چکی ہیں جب کہ متعدد مقامی ادارے بھی شدید معاشی دباؤ کے باعث یا تو اپنے کام کو محدود کرچکے ہیں یا مکمل طور پر بند ہوگئے ہیں۔ یہ دباؤ آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے تحت اپنائی گئی سکڑتی ہوئی معاشی پالیسیوں کا نتیجہ ہے جن میں اجناس کی قیمتوں میں حکومتی مداخلت کی کمی، سبسڈیز کا خاتمہ، سود کی بلند شرح، بجلی و گیس کے بھاری نرخ اور ٹیکسوں کا ظالمانہ نظام شامل ہیں۔ اس کے نتیجے میں معیشت کی روزگار پیدا کرنے کی صلاحیت واضح طور پر مفلوج ہوکر رہ گئی ہے جس سے بے روزگاری کی شرح میں ناگزیر طور پر اضافہ ہوا ہے۔ یہ صورتحال ایک ایسے تباہ کن چکر کو جنم دے رہی ہے جہاں بے روزگاری آمدنی کو دبا دیتی ہے اور یہی وہ عوامل ہیں جو وزارتِ منصوبہ بندی کے سروے میں درج غربت اور عدم مساوات کے ریکارڈ اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چنانچہ اب یہ بات تیزی سے واضح ہوتی جارہی ہے کہ آئی ایم ایف کا وضع کردہ پالیسی فریم ورک ترقی مخالف اور غریب دشمن دونوں ہے۔ اگرچہ ماضی میں پاکستان کی جانب سے اہم ڈھانچہ جاتی تبدیلیاں ادھوری چھوڑنے کے ٹریک ریکارڈ کی وجہ سے آئی ایم ایف نے ان پالیسیوں کو مرحلہ وار ختم کرنے میں بہت کم لچک دکھائی ہے، لیکن یہ بات معاشی منیجرز کے لیے فعال مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔ انہیں (آئی ایم ایف سے) ریلیف حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، خاص طور پر ان اقدامات میں نرمی پیدا کرنے کے لیے جو سب سے زیادہ سخت ہیں اور جن کا اثر بجلی کے ٹیرف اور ضروری اشیاء کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کو یہ مقدمہ بھرپور طریقے سے پیش کرنا چاہیے کہ موجودہ پالیسیاں ناقابلِ برداشت سماجی قیمت وصول کررہی ہیں اور لاکھوں لوگوں کے لیے ایک باوقار زندگی کی رہی سہی امید کو بھی ختم کررہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، صرف آئی ایم ایف کو الزام دینا ذمہ داری سے کٹ جانے کے مترادف ہوگا۔ اقتدار میں بیٹھے لوگ بھی اکثریتی آبادی کی تلخ زندگی کے حقائق سے بے حسی برتنے کے برابر کے ذمہ دار ہیں۔ یہ آئی ایم ایف نہیں ہے جس نے پالیسی سازوں کو زیادہ ترقی پسندانہ  ٹیکس نظام نافذ کرنے یا ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے سے روکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بالواسطہ ٹیکسوں پر مسلسل انحصار جو کم آمدنی والے طبقات پر غیر متناسب بوجھ ڈالتے ہیں اور پسندیدہ طبقات کو ٹیکس نیٹ سے مسلسل باہر رکھنا، درحقیقت مقامی پالیسی سازی کے شعوری انتخابات کی عکاسی کرتا ہے جس میں مزید اضافہ جاری اخراجات  کو لگام دینے کی معمولی کوششوں سے ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درحقیقت مالیاتی بے راہ روی موجودہ نظام کا خاصہ بن چکی ہے، جہاں ریکارڈ غربت اور عدم مساوات حکمرانوں کی الٹی ترجیحات کے ساتھ واضح تضاد پیش کرتی ہے: ایک طرف جہاں بجلی کے بھاری بلوں اور ٹیکسوں نے گھرانوں کا کچومر نکال دیا ہے، وہیں عوامی فنڈز کو انتہائی مشکوک اخراجات پر ضائع کیا جا رہا ہے، خواہ وہ حکومت کی جانب سے لگژری طیاروں کی خریداری ہو یا انٹرنیٹ فائر وال کے ناکام پروگرام پر ضائع کیے گئے اربوں روپے، جسے اس وقت ادھورا چھوڑ دیا گیا جب یہ واضح ہوا کہ ملک اسے نافذ کرنے کی تکنیکی صلاحیت ہی نہیں رکھتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی صورتحال میں حکومت کس ساکھ کے ساتھ آئی ایم ایف سے رعایت مانگ سکتی ہے جب اس نے خود اپنے شہریوں کی تکالیف کا اتنا کم خیال رکھا ہو؟ پالیسی فریم ورک میں کسی بھی بامعنی ریلیف کے لیے ضروری ہے کہ اسے اندرونِ ملک ایک فیصلہ کن تبدیلی کے ساتھ جوڑا جائے جو بے حسی کو احتساب سے بدل دے اور حکومتی ترجیحات کو عوام کے معاشی حقائق کے مطابق بنائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لاکھوں پاکستانیوں کی روزمرہ کی جدوجہد جو سکڑتی ہوئی آمدنی، بڑھتے اخراجات اور ختم ہوتے ہوئے مواقع کی مرہونِ منت ہے سے واقف کوئی بھی شخص، وزارتِ منصوبہ بندی کے 20 فروری کو جاری کردہ سروے میں غربت اور آمدنی کی عدم مساوات کے حالیہ اعداد و شمار دیکھ کر شاید ہی حیران ہو۔</strong></p>
<p>حکومتی دعووں کے برعکس کہ ملک نے معاشی استحکام حاصل کرلیا ہے اور وہ پائیدار ترقی کی دہلیز پر ہے، یہ سروے ایک انتہائی بھیانک تصویر پیش کرتا ہے: غربت 11 سال کی بلند ترین سطح 29 فیصد پر پہنچ گئی ہے، آمدنی کی عدم مساوات 27 سال کی بلند ترین سطح 32.7 فیصد پر ہے اور تقریباً 7 کروڑ (70 ملین) لوگ 8,484 روپے ماہانہ کی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔</p>
<p>سب سے زیادہ خطرے کی بات یہ ہے کہ غربت میں کمی کا دیرینہ رجحان 13 سالوں میں پہلی بار الٹ گیا ہے جبکہ گھرانوں کی حقیقی ماہانہ آمدنی میں 2019 سے اب تک 12 فیصد کمی واقع ہوئی ہے جو 35,454 روپے سے گر کر مالی سال 2024-25 میں 31,127 روپے رہ گئی ہے۔</p>
<p>یہ نتائج نہ صرف حکومت کے موجودہ پالیسی انتخاب کی سنگین سماجی و معاشی قیمت  کو اجاگر کرتے ہیں بلکہ اگر یہی روش برقرار رہی تو جلد بہتری کی کسی بھی امید کو بھی دم توڑ دیتے ہیں۔</p>
<p>سروے کے ان پریشان کن انکشافات کے ساتھ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ حالیہ لیبر فورس سروے نے بے روزگاری کی شرح 21 سال کی بلند ترین سطح یعنی 7.1 فیصد پر بتائی ہے جبکہ مالی سال 2025 میں سرمایہ کاری اور جی ڈی پی کا تناسب مجموعی طور پر 13.8 فیصد پر منجمد رہا ہے جو سرمایہ کاری کے کمزور ماحول کی نشاندہی کرتا ہے۔</p>
<p>حالیہ برسوں میں کئی ملٹی نیشنل (کثیر القومی) کمپنیاں یہاں سے اپنا کاروبار سمیٹ چکی ہیں جب کہ متعدد مقامی ادارے بھی شدید معاشی دباؤ کے باعث یا تو اپنے کام کو محدود کرچکے ہیں یا مکمل طور پر بند ہوگئے ہیں۔ یہ دباؤ آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے تحت اپنائی گئی سکڑتی ہوئی معاشی پالیسیوں کا نتیجہ ہے جن میں اجناس کی قیمتوں میں حکومتی مداخلت کی کمی، سبسڈیز کا خاتمہ، سود کی بلند شرح، بجلی و گیس کے بھاری نرخ اور ٹیکسوں کا ظالمانہ نظام شامل ہیں۔ اس کے نتیجے میں معیشت کی روزگار پیدا کرنے کی صلاحیت واضح طور پر مفلوج ہوکر رہ گئی ہے جس سے بے روزگاری کی شرح میں ناگزیر طور پر اضافہ ہوا ہے۔ یہ صورتحال ایک ایسے تباہ کن چکر کو جنم دے رہی ہے جہاں بے روزگاری آمدنی کو دبا دیتی ہے اور یہی وہ عوامل ہیں جو وزارتِ منصوبہ بندی کے سروے میں درج غربت اور عدم مساوات کے ریکارڈ اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔</p>
<p>چنانچہ اب یہ بات تیزی سے واضح ہوتی جارہی ہے کہ آئی ایم ایف کا وضع کردہ پالیسی فریم ورک ترقی مخالف اور غریب دشمن دونوں ہے۔ اگرچہ ماضی میں پاکستان کی جانب سے اہم ڈھانچہ جاتی تبدیلیاں ادھوری چھوڑنے کے ٹریک ریکارڈ کی وجہ سے آئی ایم ایف نے ان پالیسیوں کو مرحلہ وار ختم کرنے میں بہت کم لچک دکھائی ہے، لیکن یہ بات معاشی منیجرز کے لیے فعال مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔ انہیں (آئی ایم ایف سے) ریلیف حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، خاص طور پر ان اقدامات میں نرمی پیدا کرنے کے لیے جو سب سے زیادہ سخت ہیں اور جن کا اثر بجلی کے ٹیرف اور ضروری اشیاء کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔</p>
<p>حکومت کو یہ مقدمہ بھرپور طریقے سے پیش کرنا چاہیے کہ موجودہ پالیسیاں ناقابلِ برداشت سماجی قیمت وصول کررہی ہیں اور لاکھوں لوگوں کے لیے ایک باوقار زندگی کی رہی سہی امید کو بھی ختم کررہی ہیں۔</p>
<p>تاہم، صرف آئی ایم ایف کو الزام دینا ذمہ داری سے کٹ جانے کے مترادف ہوگا۔ اقتدار میں بیٹھے لوگ بھی اکثریتی آبادی کی تلخ زندگی کے حقائق سے بے حسی برتنے کے برابر کے ذمہ دار ہیں۔ یہ آئی ایم ایف نہیں ہے جس نے پالیسی سازوں کو زیادہ ترقی پسندانہ  ٹیکس نظام نافذ کرنے یا ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے سے روکا ہے۔</p>
<p>بالواسطہ ٹیکسوں پر مسلسل انحصار جو کم آمدنی والے طبقات پر غیر متناسب بوجھ ڈالتے ہیں اور پسندیدہ طبقات کو ٹیکس نیٹ سے مسلسل باہر رکھنا، درحقیقت مقامی پالیسی سازی کے شعوری انتخابات کی عکاسی کرتا ہے جس میں مزید اضافہ جاری اخراجات  کو لگام دینے کی معمولی کوششوں سے ہوتا ہے۔</p>
<p>درحقیقت مالیاتی بے راہ روی موجودہ نظام کا خاصہ بن چکی ہے، جہاں ریکارڈ غربت اور عدم مساوات حکمرانوں کی الٹی ترجیحات کے ساتھ واضح تضاد پیش کرتی ہے: ایک طرف جہاں بجلی کے بھاری بلوں اور ٹیکسوں نے گھرانوں کا کچومر نکال دیا ہے، وہیں عوامی فنڈز کو انتہائی مشکوک اخراجات پر ضائع کیا جا رہا ہے، خواہ وہ حکومت کی جانب سے لگژری طیاروں کی خریداری ہو یا انٹرنیٹ فائر وال کے ناکام پروگرام پر ضائع کیے گئے اربوں روپے، جسے اس وقت ادھورا چھوڑ دیا گیا جب یہ واضح ہوا کہ ملک اسے نافذ کرنے کی تکنیکی صلاحیت ہی نہیں رکھتا۔</p>
<p>ایسی صورتحال میں حکومت کس ساکھ کے ساتھ آئی ایم ایف سے رعایت مانگ سکتی ہے جب اس نے خود اپنے شہریوں کی تکالیف کا اتنا کم خیال رکھا ہو؟ پالیسی فریم ورک میں کسی بھی بامعنی ریلیف کے لیے ضروری ہے کہ اسے اندرونِ ملک ایک فیصلہ کن تبدیلی کے ساتھ جوڑا جائے جو بے حسی کو احتساب سے بدل دے اور حکومتی ترجیحات کو عوام کے معاشی حقائق کے مطابق بنائے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283204</guid>
      <pubDate>Wed, 25 Feb 2026 11:51:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/25113028277fdd3.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/25113028277fdd3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
