<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:00:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:00:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ نے بڑی ٹیک کمپنیوں کو اپنے پاور پلانٹ لگانے کی ہدایت کردی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283193/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو اپنے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کے دوران اعلان کیا کہ ان کی انتظامیہ نے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے ڈیٹا سینٹرز کے لیے خود کے پاور پلانٹ تعمیر کریں، تاکہ صارفین کو بڑھتے ہوئے بجلی کے بلوں سے تحفظ مل سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں توانائی زیادہ استعمال کرنے والے ڈیٹا سینٹر منصوبوں کے خلاف مقامی سطح پر مخالفت بڑھ رہی ہے، جنہیں بجلی کے نرخ بڑھنے کا سبب قرار دیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ پرانا گرڈ اس مقدار میں بجلی فراہم کرنے کے قابل نہیں، اس لیے کمپنیوں کو خود کے پلانٹ بنانے کی اجازت دی جا رہی ہے، جس سے کمپنیوں کی بجلی کی دستیابی یقینی ہوگی اور صارفین کے لیے قیمتیں کم رہیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر نے کمپنیوں کے نام یا منصوبے کے نفاذ کی تفصیلات نہیں بتائیں، تاہم اطلاعات کے مطابق وائٹ ہاؤس مارچ کے اوائل میں کمپنیوں کے ساتھ ملاقات کر کے اس منصوبے کو رسمی شکل دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ انتظامیہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں چین سے مقابلہ بڑھانے کی کوششوں کی حمایت کرتی ہے، لیکن ڈیٹا سینٹرز کی بڑھتی ہوئی تعداد کے بجلی پر اثرات ری پبلکنز کے لیے نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایک حساس مسئلہ بن گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی پاور گرڈ آپریٹر پی جے ایم انٹرکنیکشن نے بھی اعلان کیا کہ نئے بڑے صارفین یا تو خود اپنی پیداوار لائیں یا سسٹم دباؤ میں ہو تو استعمال محدود کریں۔ اینتھروپک اور مائیکروسافٹ جیسی کمپنیوں نے بھی صارفین پر اثر کم کرنے کے اقدامات کی رضاکارانہ طور پر تصدیق کی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو اپنے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کے دوران اعلان کیا کہ ان کی انتظامیہ نے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے ڈیٹا سینٹرز کے لیے خود کے پاور پلانٹ تعمیر کریں، تاکہ صارفین کو بڑھتے ہوئے بجلی کے بلوں سے تحفظ مل سکے۔</strong></p>
<p>یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں توانائی زیادہ استعمال کرنے والے ڈیٹا سینٹر منصوبوں کے خلاف مقامی سطح پر مخالفت بڑھ رہی ہے، جنہیں بجلی کے نرخ بڑھنے کا سبب قرار دیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ پرانا گرڈ اس مقدار میں بجلی فراہم کرنے کے قابل نہیں، اس لیے کمپنیوں کو خود کے پلانٹ بنانے کی اجازت دی جا رہی ہے، جس سے کمپنیوں کی بجلی کی دستیابی یقینی ہوگی اور صارفین کے لیے قیمتیں کم رہیں گی۔</p>
<p>صدر نے کمپنیوں کے نام یا منصوبے کے نفاذ کی تفصیلات نہیں بتائیں، تاہم اطلاعات کے مطابق وائٹ ہاؤس مارچ کے اوائل میں کمپنیوں کے ساتھ ملاقات کر کے اس منصوبے کو رسمی شکل دے گا۔</p>
<p>ٹرمپ انتظامیہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں چین سے مقابلہ بڑھانے کی کوششوں کی حمایت کرتی ہے، لیکن ڈیٹا سینٹرز کی بڑھتی ہوئی تعداد کے بجلی پر اثرات ری پبلکنز کے لیے نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایک حساس مسئلہ بن گئے ہیں۔</p>
<p>امریکی پاور گرڈ آپریٹر پی جے ایم انٹرکنیکشن نے بھی اعلان کیا کہ نئے بڑے صارفین یا تو خود اپنی پیداوار لائیں یا سسٹم دباؤ میں ہو تو استعمال محدود کریں۔ اینتھروپک اور مائیکروسافٹ جیسی کمپنیوں نے بھی صارفین پر اثر کم کرنے کے اقدامات کی رضاکارانہ طور پر تصدیق کی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283193</guid>
      <pubDate>Wed, 25 Feb 2026 09:30:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/250929039b2536a.webp" type="image/webp" medium="image" height="640" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/250929039b2536a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
