<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:43:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:43:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ریکوڈک منصوبے میں او جی ڈی سی کی سرمایہ کاری جاری، سہ ماہی میں 25 ملین ڈالر فراہم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283168/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی سب سے بڑی ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن (ای اینڈ پی) کمپنی او جی ڈی سی  کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ ریکوڈک منصوبے میں سرمایہ کاری میں مسلسل اضافہ کیا جارہا ہے جس کے تحت سہ ماہی کے دوران تقریباً 75 ملین ڈالر لگائے گئے ہیں۔ اس رقم میں سے 25 ملین ڈالر او جی ڈی سی کے حصے کی نمائندگی کرتے ہیں جبکہ کان پر ترقیاتی کام بغیر کسی تاخیر کے جاری ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معلومات 23 فروری 2026 کو منعقدہ ایک کارپوریٹ بریفنگ سیشن کے دوران شیئر کی گئیں جس میں بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے بھی شرکت کی، جیسا کہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق انتظامیہ ریکوڈک منصوبے کے حوالے سے مثبت ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اب تک کسی تاخیر کا کوئی امکان نہیں کیونکہ کان پر کام تاحال جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انتظامیہ کے مطابق اس سہ ماہی کے دوران پاکستان منرلز پرائیویٹ لمیٹڈ’ (پی ایم پی ایل) کی جانب سے تقریباً 75 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی جس میں او جی ڈی سی کا حصہ 25 ملین ڈالر بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریکوڈک بلوچستان (پاکستان) میں واقع تانبے اور سونے کے ذخائر کا ایک بہت بڑا اور غیر ترقی یافتہ منصوبہ ہے، جسے دنیا کے بڑے ذخائر میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ اس منصوبے کی ملکیت کی تقسیم کچھ یوں ہے: 50 فیصد حصہ بیرک گولڈ کے پاس ہے، 25 فیصد وفاقی حکومت کے تین سرکاری اداروں بشمول او جی ڈی سی کے پاس ہے جبکہ باقی 25 فیصد حکومتِ بلوچستان کی ملکیت ہے (جس میں سے 15 فیصد مکمل مالی معاونت کی بنیاد پر اور 10 فیصد فری کیریڈ یعنی بغیر کسی مالی بوجھ کے بنیاد پر ہے)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریکوڈک منصوبہ جس کا ہدف 2028 میں پیداوار کا آغاز کرنا ہے، توقع ہے کہ یہ ایک عالمی سطح کی تانبے اور سونے کی کان بن جائے گا، جو پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا او جی ڈی سی انتظامیہ نے بتایا کہ چھ منصوبہ بند ترقیاتی منصوبوں میں سے کمپنی نے دو، یعنی جھل مگسی اور دکنی مکمل کرلیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ باقی چار منصوبے اوچ ، کے پی ڈی-ٹی اے وائی، بیٹانی اور سنجھورو اس وقت زیرِ تکمیل ہیں اور توقع ہے کہ یہ مالی سال 2026 کی دوسری ششماہی سے مالی سال 2027 کے دوران فعال ہو جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان منصوبوں کی تکمیل پر یومیہ تقریباً 215 ملین مکعب فٹ  گیس اور 5,342 بیرل  تیل کی اضافی پیداوار متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی سب سے بڑی ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن (ای اینڈ پی) کمپنی او جی ڈی سی  کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ ریکوڈک منصوبے میں سرمایہ کاری میں مسلسل اضافہ کیا جارہا ہے جس کے تحت سہ ماہی کے دوران تقریباً 75 ملین ڈالر لگائے گئے ہیں۔ اس رقم میں سے 25 ملین ڈالر او جی ڈی سی کے حصے کی نمائندگی کرتے ہیں جبکہ کان پر ترقیاتی کام بغیر کسی تاخیر کے جاری ہے۔</strong></p>
<p>یہ معلومات 23 فروری 2026 کو منعقدہ ایک کارپوریٹ بریفنگ سیشن کے دوران شیئر کی گئیں جس میں بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے بھی شرکت کی، جیسا کہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق انتظامیہ ریکوڈک منصوبے کے حوالے سے مثبت ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اب تک کسی تاخیر کا کوئی امکان نہیں کیونکہ کان پر کام تاحال جاری ہے۔</p>
<p>انتظامیہ کے مطابق اس سہ ماہی کے دوران پاکستان منرلز پرائیویٹ لمیٹڈ’ (پی ایم پی ایل) کی جانب سے تقریباً 75 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی جس میں او جی ڈی سی کا حصہ 25 ملین ڈالر بنتا ہے۔</p>
<p>ریکوڈک بلوچستان (پاکستان) میں واقع تانبے اور سونے کے ذخائر کا ایک بہت بڑا اور غیر ترقی یافتہ منصوبہ ہے، جسے دنیا کے بڑے ذخائر میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ اس منصوبے کی ملکیت کی تقسیم کچھ یوں ہے: 50 فیصد حصہ بیرک گولڈ کے پاس ہے، 25 فیصد وفاقی حکومت کے تین سرکاری اداروں بشمول او جی ڈی سی کے پاس ہے جبکہ باقی 25 فیصد حکومتِ بلوچستان کی ملکیت ہے (جس میں سے 15 فیصد مکمل مالی معاونت کی بنیاد پر اور 10 فیصد فری کیریڈ یعنی بغیر کسی مالی بوجھ کے بنیاد پر ہے)۔</p>
<p>ریکوڈک منصوبہ جس کا ہدف 2028 میں پیداوار کا آغاز کرنا ہے، توقع ہے کہ یہ ایک عالمی سطح کی تانبے اور سونے کی کان بن جائے گا، جو پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔</p>
<p>دریں اثنا او جی ڈی سی انتظامیہ نے بتایا کہ چھ منصوبہ بند ترقیاتی منصوبوں میں سے کمپنی نے دو، یعنی جھل مگسی اور دکنی مکمل کرلیے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ باقی چار منصوبے اوچ ، کے پی ڈی-ٹی اے وائی، بیٹانی اور سنجھورو اس وقت زیرِ تکمیل ہیں اور توقع ہے کہ یہ مالی سال 2026 کی دوسری ششماہی سے مالی سال 2027 کے دوران فعال ہو جائیں گے۔</p>
<p>ان منصوبوں کی تکمیل پر یومیہ تقریباً 215 ملین مکعب فٹ  گیس اور 5,342 بیرل  تیل کی اضافی پیداوار متوقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283168</guid>
      <pubDate>Tue, 24 Feb 2026 13:00:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/241249018b18fff.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/241249018b18fff.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
