<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:18:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:18:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عمران خان کی رات گئے اسپتال منتقلی، آنکھ کیلئے انجیکشن کی دوسری خوراک دیدی گئی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283167/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو رات گئے آنکھ کے علاج کے فالو اَپ کے سلسلے میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انہیں اینٹی وی ای جی ایف انجکشن کی دوسری ڈوز دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج نیوز کے مطابق انہیں اڈیالہ جیل سے سخت سیکیورٹی میں اسپتال لایا گیا اور طبی کارروائی کے بعد دوبارہ جیل منتقل کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپتال انتظامیہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق یہ منتقلی پہلے سے طے شدہ طبی شیڈول کے تحت کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کو ماہر ڈاکٹروں کے بورڈ نے مکمل طبی معائنے کے بعد انجکشن کی دوسری ڈوز لگائی۔ علاج سے پہلے ان کی باقاعدہ رضامندی حاصل کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق انجکشن آنکھ کے اندر لگایا جانے والا اینٹی وی ای جی ایف انٹراوٹرئیل انجکشن تھا جو ماہر امراض چشم اور ویٹریوریٹینل سرجنز کی نگرانی میں آپریشن تھیٹر میں طے شدہ طبی اصولوں کے تحت دیا گیا۔ اس عمل کو ڈے کیئر سرجری کے طور پر مکمل کیا گیا جس کے باعث وہ اسی دن اسپتال سے ڈسچارج کردیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ علاج کا عمل معمول کے مطابق مکمل کیا گیا اور مریض کی حالت پر مسلسل نظر رکھی گئی۔ طبی ٹیم کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر عمران خان کی حالت مستحکم ہے ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ آئندہ طبی ضرورت کے مطابق مزید فالو اپ کیا جائے گا اور صحت کی صورتحال پر نظر رکھی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپتال حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ تمام طبی اقدامات ماہرین کی نگرانی میں کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی ایک رپورٹ کے مطابق عمران خان کو سنٹرل ریٹینل وین اوکلوژن نامی آنکھ کی ایک سنجیدہ بیماری تشخیص ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ وہ اپنی دائیں آنکھ کی تقریباً 85 فیصد بینائی کھونے کی شکایت کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ عمران خان کو دوسری مرتبہ پمز اسپتال لے جایا گیا تھا۔ اس سے قبل وہ 24 اور 25 جنوری کو بھی آنکھ کے معائنے اور علاج کیلئے اسپتال آئے تھے۔ اس وقت ڈاکٹروں نے ان کی آنکھ کے علاج کے لیے تین انجکشن تجویز کیے تھے، جن میں سے دوسری خوراک اب دی جا چکی ہے جبکہ تیسرا انجکشن 23 مارچ کو لگائے جانے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پی ٹی آئی کا شفافیت اور نجی طبی سہولتوں کا مطالبہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے بھی عمران خان کا پمز میں آنکھ کا فالو اپ مکمل ہونے کی تصدیق کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ انہیں طبی معائنے کے بعد اطلاع دی گئی تھی اور بتایا گیا تھا کہ عمران خان کو اڈیالہ جیل سے پمز منتقل کیا گیا تھا اور علاج کے بعد واپس بھیج دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیرسٹر گوہر نے مطالبہ کیا کہ آئندہ طبی معائنہ ان کے ذاتی معالجین کی موجودگی میں کیا جائے تاکہ شفافیت برقرار رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی کہا کہ پارٹی عمران خان کو مزید علاج کیلئے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ کررہی ہے، پارٹی سرکاری اسپتالوں میں کیے گئے موجودہ انتظامات سے مطمئن نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/BarristerGohar/status/2026099056687427934?'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/BarristerGohar/status/2026099056687427934?"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سی آر وی او  ایک پیچیدہ عارضہ ہے جس کا تعلق اکثر جسمانی صحت کے دیگر مسائل جیسے کہ بلڈ پریشر اور دل کی صحت سے ہوتا ہے جس کے لیے مستقل اور اعلیٰ سطح کی خصوصی نگرانی ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان نے پی ٹی آئی کے بانی کے اہل خانہ یا ذاتی معالجین کی موجودگی کے بغیر رات کی تاریکی میں کیے گئے طبی معائنے اور عمل (پروسجر) کی شدید مذمت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جماعت نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ اقدام نہ صرف شفافیت کے فقدان کی عکاسی کرتا ہے، بلکہ ایک سابق وزیراعظم اور قومی رہنما کے بنیادی انسانی اور قانونی حقوق کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہر قیدی، خاص طور پر ایک سابق منتخب وزیراعظم، یہ حق رکھتا ہے کہ طبی معائنے اور علاج کے دوران اس کے اہل خانہ اور قابلِ اعتماد ذاتی معالجین موجود ہوں، تاکہ شفافیت، اعتماد اور مناسب طبی نگرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/TTAP_OFFICIAL/status/2026192844088562038?'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/TTAP_OFFICIAL/status/2026192844088562038?"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ٹی ٹی اے پی  نے مزید واضح کیا کہ اس عمل کے حوالے سے نہ تو پارٹی قیادت کو اعتماد میں لیا گیا اور نہ ہی کوئی پیشگی اطلاع فراہم کی گئی۔ انہوں نے خاص طور پر اس بات کی نشاندہی کی کہ محمود خان اچکزئی سمیت سینئر قیادت کو اس معاملے سے بے خبر رکھا گیا اور انہیں اس اقدام کے بارے میں پہلے سے کوئی علم نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو رات گئے آنکھ کے علاج کے فالو اَپ کے سلسلے میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انہیں اینٹی وی ای جی ایف انجکشن کی دوسری ڈوز دی گئی۔</p>
<p>آج نیوز کے مطابق انہیں اڈیالہ جیل سے سخت سیکیورٹی میں اسپتال لایا گیا اور طبی کارروائی کے بعد دوبارہ جیل منتقل کردیا گیا۔</p>
<p>اسپتال انتظامیہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق یہ منتقلی پہلے سے طے شدہ طبی شیڈول کے تحت کی گئی۔</p>
<p>ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کو ماہر ڈاکٹروں کے بورڈ نے مکمل طبی معائنے کے بعد انجکشن کی دوسری ڈوز لگائی۔ علاج سے پہلے ان کی باقاعدہ رضامندی حاصل کی گئی۔</p>
<p>بیان کے مطابق انجکشن آنکھ کے اندر لگایا جانے والا اینٹی وی ای جی ایف انٹراوٹرئیل انجکشن تھا جو ماہر امراض چشم اور ویٹریوریٹینل سرجنز کی نگرانی میں آپریشن تھیٹر میں طے شدہ طبی اصولوں کے تحت دیا گیا۔ اس عمل کو ڈے کیئر سرجری کے طور پر مکمل کیا گیا جس کے باعث وہ اسی دن اسپتال سے ڈسچارج کردیے گئے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ علاج کا عمل معمول کے مطابق مکمل کیا گیا اور مریض کی حالت پر مسلسل نظر رکھی گئی۔ طبی ٹیم کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر عمران خان کی حالت مستحکم ہے ۔</p>
<p>اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ آئندہ طبی ضرورت کے مطابق مزید فالو اپ کیا جائے گا اور صحت کی صورتحال پر نظر رکھی جائے گی۔</p>
<p>اسپتال حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ تمام طبی اقدامات ماہرین کی نگرانی میں کیے گئے۔</p>
<p>واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی ایک رپورٹ کے مطابق عمران خان کو سنٹرل ریٹینل وین اوکلوژن نامی آنکھ کی ایک سنجیدہ بیماری تشخیص ہوئی ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ وہ اپنی دائیں آنکھ کی تقریباً 85 فیصد بینائی کھونے کی شکایت کر چکے ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ عمران خان کو دوسری مرتبہ پمز اسپتال لے جایا گیا تھا۔ اس سے قبل وہ 24 اور 25 جنوری کو بھی آنکھ کے معائنے اور علاج کیلئے اسپتال آئے تھے۔ اس وقت ڈاکٹروں نے ان کی آنکھ کے علاج کے لیے تین انجکشن تجویز کیے تھے، جن میں سے دوسری خوراک اب دی جا چکی ہے جبکہ تیسرا انجکشن 23 مارچ کو لگائے جانے کا امکان ہے۔</p>
<p><strong>پی ٹی آئی کا شفافیت اور نجی طبی سہولتوں کا مطالبہ</strong></p>
<p>پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے بھی عمران خان کا پمز میں آنکھ کا فالو اپ مکمل ہونے کی تصدیق کی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ انہیں طبی معائنے کے بعد اطلاع دی گئی تھی اور بتایا گیا تھا کہ عمران خان کو اڈیالہ جیل سے پمز منتقل کیا گیا تھا اور علاج کے بعد واپس بھیج دیا گیا۔</p>
<p>بیرسٹر گوہر نے مطالبہ کیا کہ آئندہ طبی معائنہ ان کے ذاتی معالجین کی موجودگی میں کیا جائے تاکہ شفافیت برقرار رہے۔</p>
<p>انہوں نے یہ بھی کہا کہ پارٹی عمران خان کو مزید علاج کیلئے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ کررہی ہے، پارٹی سرکاری اسپتالوں میں کیے گئے موجودہ انتظامات سے مطمئن نہیں ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/BarristerGohar/status/2026099056687427934?'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/BarristerGohar/status/2026099056687427934?"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سی آر وی او  ایک پیچیدہ عارضہ ہے جس کا تعلق اکثر جسمانی صحت کے دیگر مسائل جیسے کہ بلڈ پریشر اور دل کی صحت سے ہوتا ہے جس کے لیے مستقل اور اعلیٰ سطح کی خصوصی نگرانی ضروری ہے۔</p>
<p>تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان نے پی ٹی آئی کے بانی کے اہل خانہ یا ذاتی معالجین کی موجودگی کے بغیر رات کی تاریکی میں کیے گئے طبی معائنے اور عمل (پروسجر) کی شدید مذمت کی ہے۔</p>
<p>جماعت نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ اقدام نہ صرف شفافیت کے فقدان کی عکاسی کرتا ہے، بلکہ ایک سابق وزیراعظم اور قومی رہنما کے بنیادی انسانی اور قانونی حقوق کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہر قیدی، خاص طور پر ایک سابق منتخب وزیراعظم، یہ حق رکھتا ہے کہ طبی معائنے اور علاج کے دوران اس کے اہل خانہ اور قابلِ اعتماد ذاتی معالجین موجود ہوں، تاکہ شفافیت، اعتماد اور مناسب طبی نگرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/TTAP_OFFICIAL/status/2026192844088562038?'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/TTAP_OFFICIAL/status/2026192844088562038?"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ٹی ٹی اے پی  نے مزید واضح کیا کہ اس عمل کے حوالے سے نہ تو پارٹی قیادت کو اعتماد میں لیا گیا اور نہ ہی کوئی پیشگی اطلاع فراہم کی گئی۔ انہوں نے خاص طور پر اس بات کی نشاندہی کی کہ محمود خان اچکزئی سمیت سینئر قیادت کو اس معاملے سے بے خبر رکھا گیا اور انہیں اس اقدام کے بارے میں پہلے سے کوئی علم نہیں تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283167</guid>
      <pubDate>Tue, 24 Feb 2026 12:46:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/24124110efc8673.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/24124110efc8673.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
