<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:37:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:37:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>صدر ٹرمپ کا عالمی ٹیرف میں بڑے اضافے کا اعلان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283161/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;1977 کے اکنامک ایمرجنسی پاورز ایکٹ کے تحت ٹیرف نافذ کرنے کے صدارتی اختیار کو مسترد کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر برہم ہو کر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے درآمدات پر ٹیرف 10 سے بڑھا کر 15 فیصد کرنے کا اعلان کردیا۔ انہوں نے 1974 کے ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 122 کا حوالہ دیا جو بڑے اور سنگین ادائیگیوں کے توازن (بیلنس آف پیمنٹ) کے خسارے سے نمٹنے کے لئے 150 دنوں تک 15 فیصد تک ٹیرف لگانے کی اجازت دیتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجرباتی اعدادوشمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ٹیرف (درآمدی محصولات) کا پورا بوجھ درآمدات کی قیمتیں بڑھا کر درآمد کرنے والے ملک کے صارفین پر ڈال دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس نے جمعہ کو ایک بیان جاری کیا جس میں واضح کیا گیا کہ کچھ اشیاء پر 15 فیصد اضافی محصولات  لاگو نہیں ہوں گے۔ ان مستثنیٰ اشیاء میں گوشت ، ٹماٹر، قدرتی کھادیں (جو امریکہ میں پیدا نہیں ہوتیں) اور  ہوابازی کی مصنوعات  شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں گزشتہ جمعہ کو پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کے دیگر ممالک بشمول یورپی یونین، چین اور دنیا بھر کے دیگر تجارتی شراکت داروں کے ساتھ پہلے سے دستخط شدہ متعدد تجارتی معاہدے غالباً برقرار رہیں گے کیونکہ وہ بین الاقوامی نوعیت کے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ لفظ غالباً کے استعمال کی وجہ سے دیگر ممالک مزید وضاحت طلب کریں گے اور پاکستان بھی ایسا ہی کرے گا، کیونکہ پاکستانی حکام کی بھرپور سفارتی کوششوں کے بعد امریکہ اور پاکستان کے درمیان 19 فیصد ٹیرف پر اتفاق ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کے ناقدین نے حکام کی جانب سے طے شدہ 19 فیصد ٹیرف کو چیلنج کیا ہے، کیونکہ ان کے خیال میں یہ پاکستان کے حق میں موجود تجارتی سرپلس (تجارت میں بہتری) کو خسارے میں بدل سکتا ہے۔ ناقدین نے اس معاہدے کو طے کرنے میں دکھائی جانے والی جلد بازی پر بھی افسوس کا اظہار کیا، جس کی وجہ سے ٹیرف کی شرح اس شرح سے زیادہ مقرر ہوئی جو بھارت نے ایک سال سے بھی کم عرصے کے بعد مذاکرات کے ذریعے حاصل کی (یہ ایک ایسا عنصر ہے جو امریکہ میں ہماری برآمدی مسابقت کو متاثر کرے گا)۔ تاہم، اس بات کا اعتراف بھی ضروری ہے کہ اس وقت امریکہ اور اس کے بعض دیگر تجارتی شراکت داروں، خاص طور پر ملائیشیا، کمبوڈیا اور انڈونیشیا کے درمیان طے پانے والے معاہدوں میں 19 فیصد سب سے کم شرح تھی، جبکہ ویتنام کے لیے طے شدہ ٹیرف 20 فیصد تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں کوئی شک نہیں کہ صدر ٹرمپ وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے لیے انتہائی گرمجوشی کے جذبات رکھتے ہیں جن کا وہ اکثر عوامی سطح پر اعتراف بھی کرتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اب تک پاکستان کے لیے کسی سفیر کا تقرر نہیں کیا، کیونکہ وہ ممکنہ طور پر ہماری قیادت کے ساتھ براہِ راست رابطے کو ترجیح دیتے ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ  یہ نوٹ کرنا بھی ضروری ہے کہ پاکستانی معیشت اب بھی شدید دباؤ کا شکار ہے اور اب تک، وعدوں اور غیر پابند مفاہمتی یاداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کے باوجود، ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی آمد بہت کم رہی ہے (جس میں جولائی تا جنوری 2025-26 کے دوران 53 فیصد کی بڑی کمی دیکھی گئی ہے)۔ یہ صورتحال 3 دوست ممالک، یعنی چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے معاملے میں بھی واضح ہے، جنہوں نے آئی ایم ایف کے جاری قرضہ پروگرام کی مدت (جو 2027 کے آخر میں ختم ہونا ہے) تک 12 ارب ڈالر سے زائد کے قرضوں کو رول اوور (موخر) کرنے کی درخواستیں اب تک مسترد کر دی ہیں۔ اس کے بجائے وہ اسے سالانہ بنیادوں پر رینیو کرتے ہیں جس کی وجہ ماہرین کے نزدیک یہ ہے کہ انہیں اس بات پر مکمل اطمینان نہیں کہ حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ سیاسی طور پر مشکل اصلاحات کے راستے پر قائم رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تجدید شدہ فنڈز اسٹیٹ بینک میں جمع ہیں اور ملکی کرنسی کو مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں کوئی شک نہیں کہ واحد ایٹمی مسلم ملک ہونے کے ناطے حالیہ مہینوں میں پاکستان کی جیو پولیٹیکل اہمیت واضح طور پر بڑھی ہے، اس صورتحال نے ہمیں اس مقام پر لا کھڑا کیا جہاں ہم مشرقِ وسطیٰ کے ان ممالک کو ایٹمی چھتری فراہم کرنے کے بدلے مالی یا معاشی فوائد  حاصل کرسکتے ہیں جنہیں خطے میں اسرائیل کی بالادستی پر مبنی پالیسیوں سے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حرفِ آخر کے طور پر، یہ امید کی جاتی ہے کہ پاکستانی حکام کم از کم قلیل مدت کے لیے، گرانٹ (امداد) اور/یا قرضوں کی معافی کیلئے کوششیں کریں گے۔ اس درخواست کو بجٹ میں موجودہ اخراجات میں بڑے پیمانے پر کمی کر کے تقویت دی جا سکتی ہے، جو کہ عالمی مالیاتی اداروں  کے سامنے آئی ایم ایف کی انتہائی سخت شرائط کو مرحلہ وار ختم کرنے کے لیے ایک مؤثر دلیل ثابت ہوگی۔ ساتھ ہی یہ دوطرفہ  شراکت داروں کو بھی یہ پیغام دے گا کہ پاکستان حقیقی اصلاحات کی راہ پر گامزن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>1977 کے اکنامک ایمرجنسی پاورز ایکٹ کے تحت ٹیرف نافذ کرنے کے صدارتی اختیار کو مسترد کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر برہم ہو کر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے درآمدات پر ٹیرف 10 سے بڑھا کر 15 فیصد کرنے کا اعلان کردیا۔ انہوں نے 1974 کے ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 122 کا حوالہ دیا جو بڑے اور سنگین ادائیگیوں کے توازن (بیلنس آف پیمنٹ) کے خسارے سے نمٹنے کے لئے 150 دنوں تک 15 فیصد تک ٹیرف لگانے کی اجازت دیتا ہے۔</strong></p>
<p>تجرباتی اعدادوشمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ٹیرف (درآمدی محصولات) کا پورا بوجھ درآمدات کی قیمتیں بڑھا کر درآمد کرنے والے ملک کے صارفین پر ڈال دیا جاتا ہے۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس نے جمعہ کو ایک بیان جاری کیا جس میں واضح کیا گیا کہ کچھ اشیاء پر 15 فیصد اضافی محصولات  لاگو نہیں ہوں گے۔ ان مستثنیٰ اشیاء میں گوشت ، ٹماٹر، قدرتی کھادیں (جو امریکہ میں پیدا نہیں ہوتیں) اور  ہوابازی کی مصنوعات  شامل ہیں۔</p>
<p>مزید برآں گزشتہ جمعہ کو پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کے دیگر ممالک بشمول یورپی یونین، چین اور دنیا بھر کے دیگر تجارتی شراکت داروں کے ساتھ پہلے سے دستخط شدہ متعدد تجارتی معاہدے غالباً برقرار رہیں گے کیونکہ وہ بین الاقوامی نوعیت کے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ لفظ غالباً کے استعمال کی وجہ سے دیگر ممالک مزید وضاحت طلب کریں گے اور پاکستان بھی ایسا ہی کرے گا، کیونکہ پاکستانی حکام کی بھرپور سفارتی کوششوں کے بعد امریکہ اور پاکستان کے درمیان 19 فیصد ٹیرف پر اتفاق ہوا تھا۔</p>
<p>حکومت کے ناقدین نے حکام کی جانب سے طے شدہ 19 فیصد ٹیرف کو چیلنج کیا ہے، کیونکہ ان کے خیال میں یہ پاکستان کے حق میں موجود تجارتی سرپلس (تجارت میں بہتری) کو خسارے میں بدل سکتا ہے۔ ناقدین نے اس معاہدے کو طے کرنے میں دکھائی جانے والی جلد بازی پر بھی افسوس کا اظہار کیا، جس کی وجہ سے ٹیرف کی شرح اس شرح سے زیادہ مقرر ہوئی جو بھارت نے ایک سال سے بھی کم عرصے کے بعد مذاکرات کے ذریعے حاصل کی (یہ ایک ایسا عنصر ہے جو امریکہ میں ہماری برآمدی مسابقت کو متاثر کرے گا)۔ تاہم، اس بات کا اعتراف بھی ضروری ہے کہ اس وقت امریکہ اور اس کے بعض دیگر تجارتی شراکت داروں، خاص طور پر ملائیشیا، کمبوڈیا اور انڈونیشیا کے درمیان طے پانے والے معاہدوں میں 19 فیصد سب سے کم شرح تھی، جبکہ ویتنام کے لیے طے شدہ ٹیرف 20 فیصد تھا۔</p>
<p>اس میں کوئی شک نہیں کہ صدر ٹرمپ وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے لیے انتہائی گرمجوشی کے جذبات رکھتے ہیں جن کا وہ اکثر عوامی سطح پر اعتراف بھی کرتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اب تک پاکستان کے لیے کسی سفیر کا تقرر نہیں کیا، کیونکہ وہ ممکنہ طور پر ہماری قیادت کے ساتھ براہِ راست رابطے کو ترجیح دیتے ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ  یہ نوٹ کرنا بھی ضروری ہے کہ پاکستانی معیشت اب بھی شدید دباؤ کا شکار ہے اور اب تک، وعدوں اور غیر پابند مفاہمتی یاداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کے باوجود، ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی آمد بہت کم رہی ہے (جس میں جولائی تا جنوری 2025-26 کے دوران 53 فیصد کی بڑی کمی دیکھی گئی ہے)۔ یہ صورتحال 3 دوست ممالک، یعنی چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے معاملے میں بھی واضح ہے، جنہوں نے آئی ایم ایف کے جاری قرضہ پروگرام کی مدت (جو 2027 کے آخر میں ختم ہونا ہے) تک 12 ارب ڈالر سے زائد کے قرضوں کو رول اوور (موخر) کرنے کی درخواستیں اب تک مسترد کر دی ہیں۔ اس کے بجائے وہ اسے سالانہ بنیادوں پر رینیو کرتے ہیں جس کی وجہ ماہرین کے نزدیک یہ ہے کہ انہیں اس بات پر مکمل اطمینان نہیں کہ حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ سیاسی طور پر مشکل اصلاحات کے راستے پر قائم رہے گی۔</p>
<p>یہ تجدید شدہ فنڈز اسٹیٹ بینک میں جمع ہیں اور ملکی کرنسی کو مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔</p>
<p>اس میں کوئی شک نہیں کہ واحد ایٹمی مسلم ملک ہونے کے ناطے حالیہ مہینوں میں پاکستان کی جیو پولیٹیکل اہمیت واضح طور پر بڑھی ہے، اس صورتحال نے ہمیں اس مقام پر لا کھڑا کیا جہاں ہم مشرقِ وسطیٰ کے ان ممالک کو ایٹمی چھتری فراہم کرنے کے بدلے مالی یا معاشی فوائد  حاصل کرسکتے ہیں جنہیں خطے میں اسرائیل کی بالادستی پر مبنی پالیسیوں سے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔</p>
<p>حرفِ آخر کے طور پر، یہ امید کی جاتی ہے کہ پاکستانی حکام کم از کم قلیل مدت کے لیے، گرانٹ (امداد) اور/یا قرضوں کی معافی کیلئے کوششیں کریں گے۔ اس درخواست کو بجٹ میں موجودہ اخراجات میں بڑے پیمانے پر کمی کر کے تقویت دی جا سکتی ہے، جو کہ عالمی مالیاتی اداروں  کے سامنے آئی ایم ایف کی انتہائی سخت شرائط کو مرحلہ وار ختم کرنے کے لیے ایک مؤثر دلیل ثابت ہوگی۔ ساتھ ہی یہ دوطرفہ  شراکت داروں کو بھی یہ پیغام دے گا کہ پاکستان حقیقی اصلاحات کی راہ پر گامزن ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283161</guid>
      <pubDate>Tue, 24 Feb 2026 11:38:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/241120238dcd661.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/241120238dcd661.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
