<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:01:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:01:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>زرِمبادلہ ذخائر،اسٹیٹ بینک نے 18 ماہ میں ملکی فارن ایکسچینج مارکیٹ سے 11.4 ارب ڈالر خرید لیے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283158/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مرکزی بینک کے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق اسٹیٹ بینک نے جون 2024 سے نومبر 2025 کے درمیان مقامی فارن ایکسچینج (ایف ایکس) مارکیٹ سے 11.38 ارب ڈالر خریدے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی بینک زرمبادلہ مارکیٹ میں اپنی مداخلت کی تفصیلات 3 ماہ کی تاخیر سے جاری کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے مطابق نیٹ فارن ایکسچینج مداخلت سے مراد انٹر بینک فارن ایکسچینج مارکیٹ میں اسٹیٹ بینک کی جانب سے بینکوں کے ساتھ کی جانے والی غیر ملکی کرنسی کی مجموعی خریداری میں سے مجموعی فروخت کو منہا کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے ماہانہ اعدادوشمارسے معلوم ہوتا ہے کہ مرکزی بینک نے جون 2024 میں 573 ملین ڈالر مالیت کے امریکی ڈالر خریدے جس کے بعد جولائی میں 722 ملین ڈالر، اگست میں 569 ملین ڈالر، ستمبر میں 946 ملین ڈالر، اکتوبر میں 1.03 ارب ڈالر اور نومبر میں 1.15 ارب ڈالر کی خریداری کی گئی۔سلسلہ جاری رکھتے ہوئے، دسمبر میں 536 ملین ڈالر، جنوری 2025 میں 154 ملین ڈالر، فروری میں 223 ملین ڈالر، مارچ میں 860 ملین ڈالر اور اپریل 2025 میں 473 ملین ڈالر کی خریداری ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی بینک نے مئی 2025 میں 522 ملین ڈالر، جون میں 502 ملین ڈالر، جولائی میں 189 ملین ڈالر اور اگست 2025 میں 257 ملین ڈالر کی خریداری کی۔ اس کے بعد ستمبر 2025 میں 1.02 ارب ڈالر، اکتوبر 2025 میں 1.03 ارب ڈالر اور نومبر 2025 میں 620 ملین ڈالر خریدے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عارف حبیب لمیٹڈ  کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق (مرکزی بینک کی) ان مداخلتوں اور دیگر رقوم کی آمد و رفت کے باعث اس عرصے کے دوران اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں ملا جلا رجحان دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے مطابق جون 2024 میں غیر ملکی زرمبادلہ  ذخائر 280 ملین ڈالر کے اضافے کے ساتھ 9.39 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، تاہم جولائی 2024 میں ان میں 169 ملین ڈالر کی کمی واقع ہوئی جس سے یہ سطح 9.22 ارب ڈالر پر آگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگست 2024 میں ذخائر 216 ملین ڈالر کے اضافے کے ساتھ 9.44 ارب ڈالر ہو گئے، جس کے بعد ستمبر 2024 میں 1.3 ارب ڈالر کا بڑا اضافہ دیکھا گیا اور ذخائر 10.74 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ اکتوبر 2024 میں ذخائر میں 466 ملین ڈالر کی بہتری آئی اور یہ 11.2 ارب ڈالر ہو گئے جبکہ نومبر 2024 میں مزید 835 ملین ڈالر کے اضافے کے ساتھ یہ 12.03 ارب ڈالر کی سطح پر آگئے۔ تاہم دسمبر 2024 میں ان میں 306 ملین ڈالر کی کمی واقع ہوئی اور یہ 11.73 ارب ڈالر رہ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوری 2025 میں زرمبادلہ ذخائر مزید 313 ملین ڈالر کم ہوکر 11.4 ارب ڈالر رہ گئے اور فروری 2025 میں ان میں 169 ملین ڈالر کی مزید کمی واقع ہوئی جس سے یہ سطح 11.25 ارب ڈالر پر آگئی۔ مارچ 2025 میں ذخائر میں 611 ملین ڈالر کی نمایاں گراوٹ دیکھی گئی اور یہ 10.64 ارب ڈالر تک گرگئے جس کے بعد اپریل 2025 میں 364 ملین ڈالر کی مزید کمی کے ساتھ یہ 10.28 ارب ڈالر کی سطح پر آگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مئی 2025 میں ذخائر 1.24 ارب ڈالر کے اضافے سے 11.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے جبکہ جون 2025 میں ان میں 2.99 ارب ڈالر کا مزید بھاری اضافہ دیکھا گیا جس سے یہ سطح 14.5 ارب ڈالر ہو گئی۔ تاہم، جولائی 2025 میں ان میں 182 ملین ڈالر کی کمی واقع ہوئی اور یہ 14.3 ارب ڈالر رہ گئے۔ اگست 2025 میں 5 ملین ڈالر اور ستمبر میں 145 ملین ڈالر کی معمولی کمی کے بعد ذخائر 14.2 ارب ڈالر کی سطح پر آگئے۔ اکتوبر 2025 میں ان میں 328 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا جس سے یہ 14.5 ارب ڈالر ہوگئے۔ نومبر 2025 میں مزید 86 ملین ڈالر کی بہتری کے ساتھ ذخائر 14.6 ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ اعداد و شمار کے مطابق 13 فروری 2026 تک اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ  ذخائر 16.20 ارب ڈالر کی سطح پر موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اس عرصے کے دوران مرکزی بینک کی جانب سے کی جانے والی ان مداخلتوں نے ملکی زرمبادلہ ذخائر بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا اور بیرونی ادائیگیوں کی تکمیل میں بھی مدد فراہم کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مرکزی بینک کے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق اسٹیٹ بینک نے جون 2024 سے نومبر 2025 کے درمیان مقامی فارن ایکسچینج (ایف ایکس) مارکیٹ سے 11.38 ارب ڈالر خریدے۔</strong></p>
<p>مرکزی بینک زرمبادلہ مارکیٹ میں اپنی مداخلت کی تفصیلات 3 ماہ کی تاخیر سے جاری کرتا ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے مطابق نیٹ فارن ایکسچینج مداخلت سے مراد انٹر بینک فارن ایکسچینج مارکیٹ میں اسٹیٹ بینک کی جانب سے بینکوں کے ساتھ کی جانے والی غیر ملکی کرنسی کی مجموعی خریداری میں سے مجموعی فروخت کو منہا کرنا ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے ماہانہ اعدادوشمارسے معلوم ہوتا ہے کہ مرکزی بینک نے جون 2024 میں 573 ملین ڈالر مالیت کے امریکی ڈالر خریدے جس کے بعد جولائی میں 722 ملین ڈالر، اگست میں 569 ملین ڈالر، ستمبر میں 946 ملین ڈالر، اکتوبر میں 1.03 ارب ڈالر اور نومبر میں 1.15 ارب ڈالر کی خریداری کی گئی۔سلسلہ جاری رکھتے ہوئے، دسمبر میں 536 ملین ڈالر، جنوری 2025 میں 154 ملین ڈالر، فروری میں 223 ملین ڈالر، مارچ میں 860 ملین ڈالر اور اپریل 2025 میں 473 ملین ڈالر کی خریداری ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>مرکزی بینک نے مئی 2025 میں 522 ملین ڈالر، جون میں 502 ملین ڈالر، جولائی میں 189 ملین ڈالر اور اگست 2025 میں 257 ملین ڈالر کی خریداری کی۔ اس کے بعد ستمبر 2025 میں 1.02 ارب ڈالر، اکتوبر 2025 میں 1.03 ارب ڈالر اور نومبر 2025 میں 620 ملین ڈالر خریدے گئے۔</p>
<p>عارف حبیب لمیٹڈ  کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق (مرکزی بینک کی) ان مداخلتوں اور دیگر رقوم کی آمد و رفت کے باعث اس عرصے کے دوران اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں ملا جلا رجحان دیکھا گیا۔</p>
<p>اس کے مطابق جون 2024 میں غیر ملکی زرمبادلہ  ذخائر 280 ملین ڈالر کے اضافے کے ساتھ 9.39 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، تاہم جولائی 2024 میں ان میں 169 ملین ڈالر کی کمی واقع ہوئی جس سے یہ سطح 9.22 ارب ڈالر پر آگئی۔</p>
<p>اگست 2024 میں ذخائر 216 ملین ڈالر کے اضافے کے ساتھ 9.44 ارب ڈالر ہو گئے، جس کے بعد ستمبر 2024 میں 1.3 ارب ڈالر کا بڑا اضافہ دیکھا گیا اور ذخائر 10.74 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ اکتوبر 2024 میں ذخائر میں 466 ملین ڈالر کی بہتری آئی اور یہ 11.2 ارب ڈالر ہو گئے جبکہ نومبر 2024 میں مزید 835 ملین ڈالر کے اضافے کے ساتھ یہ 12.03 ارب ڈالر کی سطح پر آگئے۔ تاہم دسمبر 2024 میں ان میں 306 ملین ڈالر کی کمی واقع ہوئی اور یہ 11.73 ارب ڈالر رہ گئے۔</p>
<p>جنوری 2025 میں زرمبادلہ ذخائر مزید 313 ملین ڈالر کم ہوکر 11.4 ارب ڈالر رہ گئے اور فروری 2025 میں ان میں 169 ملین ڈالر کی مزید کمی واقع ہوئی جس سے یہ سطح 11.25 ارب ڈالر پر آگئی۔ مارچ 2025 میں ذخائر میں 611 ملین ڈالر کی نمایاں گراوٹ دیکھی گئی اور یہ 10.64 ارب ڈالر تک گرگئے جس کے بعد اپریل 2025 میں 364 ملین ڈالر کی مزید کمی کے ساتھ یہ 10.28 ارب ڈالر کی سطح پر آگئے۔</p>
<p>مئی 2025 میں ذخائر 1.24 ارب ڈالر کے اضافے سے 11.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے جبکہ جون 2025 میں ان میں 2.99 ارب ڈالر کا مزید بھاری اضافہ دیکھا گیا جس سے یہ سطح 14.5 ارب ڈالر ہو گئی۔ تاہم، جولائی 2025 میں ان میں 182 ملین ڈالر کی کمی واقع ہوئی اور یہ 14.3 ارب ڈالر رہ گئے۔ اگست 2025 میں 5 ملین ڈالر اور ستمبر میں 145 ملین ڈالر کی معمولی کمی کے بعد ذخائر 14.2 ارب ڈالر کی سطح پر آگئے۔ اکتوبر 2025 میں ان میں 328 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا جس سے یہ 14.5 ارب ڈالر ہوگئے۔ نومبر 2025 میں مزید 86 ملین ڈالر کی بہتری کے ساتھ ذخائر 14.6 ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے۔</p>
<p>حالیہ اعداد و شمار کے مطابق 13 فروری 2026 تک اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ  ذخائر 16.20 ارب ڈالر کی سطح پر موجود ہیں۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق اس عرصے کے دوران مرکزی بینک کی جانب سے کی جانے والی ان مداخلتوں نے ملکی زرمبادلہ ذخائر بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا اور بیرونی ادائیگیوں کی تکمیل میں بھی مدد فراہم کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283158</guid>
      <pubDate>Wed, 25 Feb 2026 08:45:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/25084520ffb386e.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/25084520ffb386e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
