<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:58:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:58:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک مارکیٹ میں فروخت کا سلسلہ جاری، 100 انڈیکس میں تقریباً 1 فیصد کی کمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283157/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں منگل کو بھی مندی کا رجحان رہا جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں تقریباً 1 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا، ابتدائی تجارت کے دوران انڈیکس میں مختصر اضافہ بھی دیکھا گیا لیکن جلد ہی فروخت کا دباؤ غالب آگیا جس نے انڈیکس کو تیزی سے نیچے دھکیل دیا اور انڈیکس 163,907.59 کی کم ترین سطح پر آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعدازاں مارکیٹ میں ریکوری دیکھی گئی, تاہم یہ بحالی عارضی ثابت ہوئی اور کاروبار کے اختتام تک 100 انڈیکس دوبارہ منفی زون میں چلا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک 100 انڈیکس 1,432.54 پوائنٹس یا 0.85 فیصد کی کمی سے 166,258.54 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جے ایس گلوبل کے ہیڈ آف ریسرچ وقاص غنی نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ کچھ جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں کمی آئی ہے، تاہم سرمایہ کاروں کی رسک لینے کی صلاحیت اب بھی کمزور ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا مارکیٹس اب بھی غیر یقینی صورتحال کو مدنظر رکھ کر قیمتوں کا تعین کررہی ہیں کیونکہ سرمایہ کار مہنگائی کے اعدادوشمار، تجارتی رکاوٹوں یا معاشی ڈیٹا کے ذریعے نقصانات کی تصدیق کا انتظار نہیں کرتے بلکہ بڑھتے ہوئے جغرافیائی خطرات، غیر یقینی حالات اور رسک سے گریز کے رجحان کے باعث پہلے ہی فروخت شروع کردیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکورٹیز نے منگل کو بعد از مارکیٹ رپورٹ میں کہا ہے کہ ”سرمایہ کار محتاط رہے کیونکہ بینچ مارک انڈیکس اپنی حالیہ بلند ترین سطح سے 11 فیصد نیچے آ گیا ہے، جس کی وجہ سے مارکیٹ میں شرکاء زیادہ منتخب اور محتاط انداز میں عمل کر رہے ہیں،“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروکریج ہاؤس نے نوٹ کیا کہ دن کے دوران مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ سرمایہ کاروں کی محتاط پوزیشننگ کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ وہ قدر میں کچھ حد تک سکون محسوس کرنے کے ساتھ ساتھ باقی ماندہ غیر یقینی صورتحال اور قریبی مثبت محرکات کی کمی کے درمیان توازن قائم رکھ رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈیکس کے بھاری اسٹاکس یو بی ایل، ایچ بی ایل، ایف ایف سی، ماری، اور ایچ یو بی سی سب سے زیادہ پیچھے رہے اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس کو مجموعی طور پر 949 پوائنٹس نیچے لے گئے، جبکہ لاک، پی او ایل، ایم سی بی، ایفرٹ اور اے ٹی آر ایل نے جزوی سہارا دیا اور کے ایس ای 100 انڈیکس میں 439 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو اسٹاک ایکسچینج کو ایک بار پھر شدید مندی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ مارکیٹ خوف و ہراس کے زیرِ اثر حصص کی فروخت کی لپیٹ میں آگئی۔ اس مندی کی بنیادی وجوہات میں بڑھتی ہوئی جیو پولیٹیکل کشیدگی، آئی ایم ایف کے آئندہ جائزے سے متعلق غیر یقینی صورتحال اور کارپوریٹ نتائج کے جاری سیزن کے حوالے سے محتاط توقعات شامل تھیں۔ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 5,478.63 پوائنٹس یا 3.16 فیصد کی کمی کے بعد 167,691.08 کی سطح پر بند ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر منگل کو ابتدائی تجارت کے دوران ایشیائی اسٹاک مارکیٹس لڑکھڑا گئیں، کیونکہ گزشتہ رات وال اسٹریٹ (امریکی مارکیٹ) میں ہونے والی فروخت نے سرمایہ کاروں کو پریشان کردیا۔ مارکیٹ کے جذبات پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیرف (محصولات) پالیسی سے متعلق بڑھتی غیریقینی صورتحال اور ابھرتی ہوئی جیو پولیٹیکل کشیدگی کے منفی اثرات مرتب ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص کے وسیع تر ایم ایس سی آئی انڈیکس کی مسلسل چھ روزہ تیزی مندی میں بدل گئی اور جنوبی کوریا کے بازاروں میں گراوٹ کی وجہ سے یہ انڈیکس 0.2 فیصد نیچے آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، جاپانی مارکیٹ میں چھٹی کے بعد واپسی پر مثبت رجحان دیکھا گیا اور نکی 225 انڈیکس میں 0.7 فیصد کا اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس اینڈ پی 500 ای منی فیوچرز میں 0.1 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو صدر ٹرمپ نے ان ممالک کو خبردار کیا جو امریکہ کے ساتھ حالیہ تجارتی معاہدوں سے پیچھے ہٹنے کی کوشش کر رہے ہیں، یہ تنبیہ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے ان کے ہنگامی ٹیرفز کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد سامنے آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے کہا کہ وہ مختلف تجارتی قوانین کا سہارا لیتے ہوئے ان ممالک پر کہیں زیادہ بھاری ڈیوٹی عائد کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نئے ٹیرف ٹریڈ ایکٹ 1974 کے سیکشن 122 پر مبنی ہیں، جس نے ان مارکیٹس میں مزید الجھن پیدا کر دی ہے جو پہلے ہی امریکہ کی تحفظ پسند پالیسیوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثناء انٹر بینک مارکیٹ میں منگل کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ معمولی بہتری کے ساتھ 0.01 فیصد مضبوط ہوا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 279.52 پر بند ہوئی، یعنی ڈالر کے مقابلے میں صرف 3 پیسے کا اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل شیئر انڈیکس پر تجارتی حجم بڑھ کر 687.96 ملین ہوگیا، جو پچھلے سیشن کے 461.26 ملین کے مقابلے میں زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حصص کی مجموعی قیمت 38.46 ارب روپے تک بڑھ گئی، جبکہ پچھلے سیشن میں یہ 24.93 ارب روپے تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے الیکٹرک لمیٹڈ سب سے زیادہ تجارتی حجم رکھنے والی اسٹاک رہی جس کے 64.85 ملین شیئرز ٹریڈ ہوئے، اس کے بعد بینک آف پنجاب کے 49.14 ملین اور ورلڈ کال ٹیلی کام کے 45.98 ملین حصص شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو مجموعی طورپر 487 کمپنیوں کے حصص ٹریڈ ہوئے، جن میں سے 139 کے شیئرز میں اضافہ،  292 کے حصص کی قیمتوں میں کمی اور 56  کمپنیوں کے حصص میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/02/24150607b6de21f.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/02/24150607b6de21f.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں منگل کو بھی مندی کا رجحان رہا جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں تقریباً 1 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔</strong></p>
<p>تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا، ابتدائی تجارت کے دوران انڈیکس میں مختصر اضافہ بھی دیکھا گیا لیکن جلد ہی فروخت کا دباؤ غالب آگیا جس نے انڈیکس کو تیزی سے نیچے دھکیل دیا اور انڈیکس 163,907.59 کی کم ترین سطح پر آگیا۔</p>
<p>بعدازاں مارکیٹ میں ریکوری دیکھی گئی, تاہم یہ بحالی عارضی ثابت ہوئی اور کاروبار کے اختتام تک 100 انڈیکس دوبارہ منفی زون میں چلا گیا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک 100 انڈیکس 1,432.54 پوائنٹس یا 0.85 فیصد کی کمی سے 166,258.54 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>جے ایس گلوبل کے ہیڈ آف ریسرچ وقاص غنی نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ کچھ جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں کمی آئی ہے، تاہم سرمایہ کاروں کی رسک لینے کی صلاحیت اب بھی کمزور ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا مارکیٹس اب بھی غیر یقینی صورتحال کو مدنظر رکھ کر قیمتوں کا تعین کررہی ہیں کیونکہ سرمایہ کار مہنگائی کے اعدادوشمار، تجارتی رکاوٹوں یا معاشی ڈیٹا کے ذریعے نقصانات کی تصدیق کا انتظار نہیں کرتے بلکہ بڑھتے ہوئے جغرافیائی خطرات، غیر یقینی حالات اور رسک سے گریز کے رجحان کے باعث پہلے ہی فروخت شروع کردیتے ہیں۔</p>
<p>بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکورٹیز نے منگل کو بعد از مارکیٹ رپورٹ میں کہا ہے کہ ”سرمایہ کار محتاط رہے کیونکہ بینچ مارک انڈیکس اپنی حالیہ بلند ترین سطح سے 11 فیصد نیچے آ گیا ہے، جس کی وجہ سے مارکیٹ میں شرکاء زیادہ منتخب اور محتاط انداز میں عمل کر رہے ہیں،“</p>
<p>بروکریج ہاؤس نے نوٹ کیا کہ دن کے دوران مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ سرمایہ کاروں کی محتاط پوزیشننگ کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ وہ قدر میں کچھ حد تک سکون محسوس کرنے کے ساتھ ساتھ باقی ماندہ غیر یقینی صورتحال اور قریبی مثبت محرکات کی کمی کے درمیان توازن قائم رکھ رہے تھے۔</p>
<p>انڈیکس کے بھاری اسٹاکس یو بی ایل، ایچ بی ایل، ایف ایف سی، ماری، اور ایچ یو بی سی سب سے زیادہ پیچھے رہے اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس کو مجموعی طور پر 949 پوائنٹس نیچے لے گئے، جبکہ لاک، پی او ایل، ایم سی بی، ایفرٹ اور اے ٹی آر ایل نے جزوی سہارا دیا اور کے ایس ای 100 انڈیکس میں 439 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔</p>
<p>پیر کو اسٹاک ایکسچینج کو ایک بار پھر شدید مندی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ مارکیٹ خوف و ہراس کے زیرِ اثر حصص کی فروخت کی لپیٹ میں آگئی۔ اس مندی کی بنیادی وجوہات میں بڑھتی ہوئی جیو پولیٹیکل کشیدگی، آئی ایم ایف کے آئندہ جائزے سے متعلق غیر یقینی صورتحال اور کارپوریٹ نتائج کے جاری سیزن کے حوالے سے محتاط توقعات شامل تھیں۔ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 5,478.63 پوائنٹس یا 3.16 فیصد کی کمی کے بعد 167,691.08 کی سطح پر بند ہوا تھا۔</p>
<p>عالمی سطح پر منگل کو ابتدائی تجارت کے دوران ایشیائی اسٹاک مارکیٹس لڑکھڑا گئیں، کیونکہ گزشتہ رات وال اسٹریٹ (امریکی مارکیٹ) میں ہونے والی فروخت نے سرمایہ کاروں کو پریشان کردیا۔ مارکیٹ کے جذبات پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیرف (محصولات) پالیسی سے متعلق بڑھتی غیریقینی صورتحال اور ابھرتی ہوئی جیو پولیٹیکل کشیدگی کے منفی اثرات مرتب ہوئے۔</p>
<p>جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص کے وسیع تر ایم ایس سی آئی انڈیکس کی مسلسل چھ روزہ تیزی مندی میں بدل گئی اور جنوبی کوریا کے بازاروں میں گراوٹ کی وجہ سے یہ انڈیکس 0.2 فیصد نیچے آگیا۔</p>
<p>دوسری جانب، جاپانی مارکیٹ میں چھٹی کے بعد واپسی پر مثبت رجحان دیکھا گیا اور نکی 225 انڈیکس میں 0.7 فیصد کا اضافہ ہوا۔</p>
<p>ایس اینڈ پی 500 ای منی فیوچرز میں 0.1 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔</p>
<p>پیر کو صدر ٹرمپ نے ان ممالک کو خبردار کیا جو امریکہ کے ساتھ حالیہ تجارتی معاہدوں سے پیچھے ہٹنے کی کوشش کر رہے ہیں، یہ تنبیہ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے ان کے ہنگامی ٹیرفز کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد سامنے آئی ہے۔</p>
<p>ٹرمپ نے کہا کہ وہ مختلف تجارتی قوانین کا سہارا لیتے ہوئے ان ممالک پر کہیں زیادہ بھاری ڈیوٹی عائد کریں گے۔</p>
<p>یہ نئے ٹیرف ٹریڈ ایکٹ 1974 کے سیکشن 122 پر مبنی ہیں، جس نے ان مارکیٹس میں مزید الجھن پیدا کر دی ہے جو پہلے ہی امریکہ کی تحفظ پسند پالیسیوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔</p>
<p>دریں اثناء انٹر بینک مارکیٹ میں منگل کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ معمولی بہتری کے ساتھ 0.01 فیصد مضبوط ہوا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 279.52 پر بند ہوئی، یعنی ڈالر کے مقابلے میں صرف 3 پیسے کا اضافہ ہوا۔</p>
<p>آل شیئر انڈیکس پر تجارتی حجم بڑھ کر 687.96 ملین ہوگیا، جو پچھلے سیشن کے 461.26 ملین کے مقابلے میں زیادہ ہے۔</p>
<p>حصص کی مجموعی قیمت 38.46 ارب روپے تک بڑھ گئی، جبکہ پچھلے سیشن میں یہ 24.93 ارب روپے تھی۔</p>
<p>کے الیکٹرک لمیٹڈ سب سے زیادہ تجارتی حجم رکھنے والی اسٹاک رہی جس کے 64.85 ملین شیئرز ٹریڈ ہوئے، اس کے بعد بینک آف پنجاب کے 49.14 ملین اور ورلڈ کال ٹیلی کام کے 45.98 ملین حصص شامل ہیں۔</p>
<p>منگل کو مجموعی طورپر 487 کمپنیوں کے حصص ٹریڈ ہوئے، جن میں سے 139 کے شیئرز میں اضافہ،  292 کے حصص کی قیمتوں میں کمی اور 56  کمپنیوں کے حصص میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/02/24150607b6de21f.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/02/24150607b6de21f.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283157</guid>
      <pubDate>Tue, 24 Feb 2026 19:41:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/24104033c137bb6.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/24104033c137bb6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
