<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:34:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:34:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پنجاب میں حراستی اموات</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283155/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن (ایچ آر سی پی) کی تازہ رپورٹ، جس میں پچھلے سال پنجاب میں حراستی اموات پر روشنی ڈالی گئی ہے، صوبے میں موجود بے احتسابی، غیر شفاف پولیسنگ اور بلا روک ٹوک طاقت کے استعمال پر سوال اٹھاتی ہے جو اب بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے رویوں کی پہچان ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ رجحان اب کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے رویے سے مزید بڑھ گیا ہے، جسے فروری 2025 میں پنجاب حکومت نے منظم جرائم کو روکنے اور شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کے لیے قائم کیا تھا، مگر یہ ادارہ  شفافیت، احتساب اور قانونی عمل کی مناسب پاسداری کے بغیر بظاہرریاستی جبر کی رسائی کو بڑھا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف آٹھ ماہ میں سی سی ڈی کی قیادت میں ہونے والی کم از کم 670 جھڑپوں میں 924 مشتبہ افراد ہلاک ہوئے، جبکہ صرف دو پولیس اہلکار جان سے گئے۔ یہ واضح عدم توازن – یومیہ اوسطاً دو سے زائد جھڑپیں اور تین سے زائد ہلاکتیں – ان کارروائیوں کی قانونی حیثیت اور مہلک طاقت کے استعمال کے افعال پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے، جو اب آخری حل کے بجائے ایک معمول بن چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ اعداد و شمار، جتنے بھی خطرناک ہیں، حقیقت کے صرف ایک حصے کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ حیران کن ہے کہ ان واقعات کو دستاویزی شکل دینے کا ایک یکساں طریقہ کار پایا جاتا ہے، جس میں ایف آئی آرز میں جھڑپ کے بعد تقریباً یکساں جملوں اور مشابہ بیان کا استعمال کیا گیا ہے: مشتبہ افراد نے مبینہ طور پر فائرنگ کی، پولیس نے جوابی کارروائی کی اور ملزمان ہلاک ہوئے، جبکہ معاونین فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، متعدد ایف آئی آرز میں ایک ایکساں منظرنامہ دہرایا گیا ہے، جس میں شدید زخمی مشتبہ عارضی طور پر ہوش میں آتے ہیں تاکہ ذاتی معلومات فراہم کریں – نام، والد کا نام، پتہ یا مبینہ مجرمانہ تاریخ – اور پھر زخمی حالت میں دم توڑ دیتے ہیں، اور ان واقعات میں استعمال ہونے والی زبان میں ایک غیر معمولی مماثلت پائی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اس طرح کی مشینی یکسانیت ایک مقررہ اسکرپٹ کی طرف اشارہ کرتی ہے، جو کہ محض الگ واقعات نہیں بلکہ ایک معیاری سانچہ ہے، جس نے آزادانہ جانچ اور احتساب کو متاثر کیا ہے۔ یہ بھی واضح کیا جانا چاہیے کہ تشدد اور حراستی موت (روک تھام اور سزا) ایکٹ 2022 کے تحت ہر حراستی موت کی تحقیقات ایف آئی اے کے ذریعے نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق کی نگرانی میں کی جانی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس عمل کی پیروی ہونے کے شواہد نہ ہونے کے برابر ہیں، جو قانونی عمل کے نظام کے زوال کی نشاندہی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طویل عرصے سے عدالتی کمزوری یا تاخیر شدہ فیصلوں کو غیر قانونی کارروائیوں کی وجہ قرار دیا جاتا رہا ہے، مگر یہ دلیل حقیقت میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داریوں سے توجہ ہٹا دیتی ہے، اور انہیں سخت تحقیقات کرنے، قانونی عمل کی پاسداری کرنے اور طاقت کے استعمال پر منحصر پولیسنگ کلچر میں اصلاحات کرنے سے گریز کرنے کی اجازت دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت یہ ہے کہ ایسی ہلاکتیں عدالتی نظام کو کمزور کرتی ہیں، عوام کے اعتماد کو متاثر کرتی ہیں اور احتساب کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ اس موجودہ بحران کی ذمہ داری براہ راست پنجاب میں قانون نافذ کرنے والے اعلیٰ حکام اور متعلقہ وفاقی اداروں پر عائد ہوتی ہے، چاہے وہ پنجاب پولیس ہو، سی سی ڈی ہو یا ایف آئی اے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر قانونی ہلاکتوں کا پاکستان میں ایک طویل اور شرمناک پس منظر رہا ہے، مگر حالیہ اضافہ پنجاب میں، بار بار دہرائے جانے والے نمونوں کے ساتھ، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ طریقے ادارہ جاتی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ سی سی ڈی کی اعلیٰ قیادت کو احتساب کے دائرہ کار میں لانا لازمی ہے، اور ایچ آر سی پی کی سفارش کے مطابق ایک عدالتی تحقیق کی اشد ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیشن نے یہ بھی رپورٹ کیا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد کے اہل خانہ پر ایف آئی آر درج نہ کروانے کے لیے دباؤ ڈالا گیا، اور حالیہ آئینی تبدیلیوں نے عدالتی نگرانی کو کمزور کر دیا، جس سے ایک ماحول پیدا ہوا ہے جس میں قواعد و ضوابط کی پاسداری واضح طور پر کمزور ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے کے لیے صوبائی قیادت کی مداخلت ضروری ہے، جسے یہ سمجھنا چاہیے کہ اگر شفافیت، قانونی عمل اور قانون کی حکمرانی کو نافذ نہیں کیا گیا تو شہریوں کے تحفظ یا انصاف کے دعوے محض کاغذی رہ جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن (ایچ آر سی پی) کی تازہ رپورٹ، جس میں پچھلے سال پنجاب میں حراستی اموات پر روشنی ڈالی گئی ہے، صوبے میں موجود بے احتسابی، غیر شفاف پولیسنگ اور بلا روک ٹوک طاقت کے استعمال پر سوال اٹھاتی ہے جو اب بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے رویوں کی پہچان ہیں۔</strong></p>
<p>رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ رجحان اب کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے رویے سے مزید بڑھ گیا ہے، جسے فروری 2025 میں پنجاب حکومت نے منظم جرائم کو روکنے اور شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کے لیے قائم کیا تھا، مگر یہ ادارہ  شفافیت، احتساب اور قانونی عمل کی مناسب پاسداری کے بغیر بظاہرریاستی جبر کی رسائی کو بڑھا رہا ہے۔</p>
<p>صرف آٹھ ماہ میں سی سی ڈی کی قیادت میں ہونے والی کم از کم 670 جھڑپوں میں 924 مشتبہ افراد ہلاک ہوئے، جبکہ صرف دو پولیس اہلکار جان سے گئے۔ یہ واضح عدم توازن – یومیہ اوسطاً دو سے زائد جھڑپیں اور تین سے زائد ہلاکتیں – ان کارروائیوں کی قانونی حیثیت اور مہلک طاقت کے استعمال کے افعال پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے، جو اب آخری حل کے بجائے ایک معمول بن چکی ہے۔</p>
<p>مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ اعداد و شمار، جتنے بھی خطرناک ہیں، حقیقت کے صرف ایک حصے کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ حیران کن ہے کہ ان واقعات کو دستاویزی شکل دینے کا ایک یکساں طریقہ کار پایا جاتا ہے، جس میں ایف آئی آرز میں جھڑپ کے بعد تقریباً یکساں جملوں اور مشابہ بیان کا استعمال کیا گیا ہے: مشتبہ افراد نے مبینہ طور پر فائرنگ کی، پولیس نے جوابی کارروائی کی اور ملزمان ہلاک ہوئے، جبکہ معاونین فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔</p>
<p>مزید برآں، متعدد ایف آئی آرز میں ایک ایکساں منظرنامہ دہرایا گیا ہے، جس میں شدید زخمی مشتبہ عارضی طور پر ہوش میں آتے ہیں تاکہ ذاتی معلومات فراہم کریں – نام، والد کا نام، پتہ یا مبینہ مجرمانہ تاریخ – اور پھر زخمی حالت میں دم توڑ دیتے ہیں، اور ان واقعات میں استعمال ہونے والی زبان میں ایک غیر معمولی مماثلت پائی جاتی ہے۔</p>
<p>یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اس طرح کی مشینی یکسانیت ایک مقررہ اسکرپٹ کی طرف اشارہ کرتی ہے، جو کہ محض الگ واقعات نہیں بلکہ ایک معیاری سانچہ ہے، جس نے آزادانہ جانچ اور احتساب کو متاثر کیا ہے۔ یہ بھی واضح کیا جانا چاہیے کہ تشدد اور حراستی موت (روک تھام اور سزا) ایکٹ 2022 کے تحت ہر حراستی موت کی تحقیقات ایف آئی اے کے ذریعے نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق کی نگرانی میں کی جانی چاہیے۔</p>
<p>تاہم اس عمل کی پیروی ہونے کے شواہد نہ ہونے کے برابر ہیں، جو قانونی عمل کے نظام کے زوال کی نشاندہی کرتا ہے۔</p>
<p>طویل عرصے سے عدالتی کمزوری یا تاخیر شدہ فیصلوں کو غیر قانونی کارروائیوں کی وجہ قرار دیا جاتا رہا ہے، مگر یہ دلیل حقیقت میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داریوں سے توجہ ہٹا دیتی ہے، اور انہیں سخت تحقیقات کرنے، قانونی عمل کی پاسداری کرنے اور طاقت کے استعمال پر منحصر پولیسنگ کلچر میں اصلاحات کرنے سے گریز کرنے کی اجازت دیتی ہے۔</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ ایسی ہلاکتیں عدالتی نظام کو کمزور کرتی ہیں، عوام کے اعتماد کو متاثر کرتی ہیں اور احتساب کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ اس موجودہ بحران کی ذمہ داری براہ راست پنجاب میں قانون نافذ کرنے والے اعلیٰ حکام اور متعلقہ وفاقی اداروں پر عائد ہوتی ہے، چاہے وہ پنجاب پولیس ہو، سی سی ڈی ہو یا ایف آئی اے۔</p>
<p>غیر قانونی ہلاکتوں کا پاکستان میں ایک طویل اور شرمناک پس منظر رہا ہے، مگر حالیہ اضافہ پنجاب میں، بار بار دہرائے جانے والے نمونوں کے ساتھ، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ طریقے ادارہ جاتی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ سی سی ڈی کی اعلیٰ قیادت کو احتساب کے دائرہ کار میں لانا لازمی ہے، اور ایچ آر سی پی کی سفارش کے مطابق ایک عدالتی تحقیق کی اشد ضرورت ہے۔</p>
<p>کمیشن نے یہ بھی رپورٹ کیا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد کے اہل خانہ پر ایف آئی آر درج نہ کروانے کے لیے دباؤ ڈالا گیا، اور حالیہ آئینی تبدیلیوں نے عدالتی نگرانی کو کمزور کر دیا، جس سے ایک ماحول پیدا ہوا ہے جس میں قواعد و ضوابط کی پاسداری واضح طور پر کمزور ہوئی ہے۔</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے کے لیے صوبائی قیادت کی مداخلت ضروری ہے، جسے یہ سمجھنا چاہیے کہ اگر شفافیت، قانونی عمل اور قانون کی حکمرانی کو نافذ نہیں کیا گیا تو شہریوں کے تحفظ یا انصاف کے دعوے محض کاغذی رہ جائیں گے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283155</guid>
      <pubDate>Tue, 24 Feb 2026 10:18:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/241013570d16110.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/241013570d16110.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
