<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:58:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:58:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حقیقی اور برائے نام روپے کی شرحِ مبادلہ میں فرق</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283133/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ویب سائٹ کے مطابق حقیقی مؤثر شرحِ مبادلہ (آر ای ای آر) دسمبر 2025 میں 103.73 ریکارڈ کی گئی، جو نومبر میں 104.88 اور اکتوبر میں 103.96 کے مقابلے میں کم ہے، جبکہ برائے نام موثر غیر ملکی شرحِ مبادلہ (این ای ای آر) دسمبر میں 37.97، نومبر میں 38.18 اور اکتوبر 2025 میں 38 رہی، اس طرح دسمبر میں 65.76، نومبر میں 66.7 اور اکتوبر میں 65.96 کا فرق ریکارڈ کیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رئیر(آر ای ای آر) کو بڑی تجارتی شراکت دار ممالک کی کرنسیوں کے ایک باسکٹ کے مقابلے میں شمار کیا جاتا ہے اور اسے نسبتاً افراطِ زر کے مطابق ایڈجسٹ کیا جاتا ہے، جبکہ نیئر( این ای ای آر) کی تعریف روپے کی قدر کا بڑی تجارتی کرنسیوں کے ایک باسکٹ کے مقابلے میں وزنی اوسط کے طور پر کی جاتی ہے اور یہ بین الاقوامی مسابقت کا غیر ایڈجسٹڈ، تجارت کے وزن پر مبنی اشاریہ ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رئیر(آر ای ای آر) میں اضافہ برآمدی لاگت میں اضافے اور درآمدی لاگت میں کمی کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ اس میں کمی روپے کی قدر میں کمی (ڈیپریسی ایشن) کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس کا حساب نیئر( این ای ای آر) کو غیر ملکی قیمتوں اور مقامی قیمتوں کے تناسب سے ضرب دے کر لگایا جاتا ہے (یا اسے ہیڈلائن مہنگائی ، کنزیومر پرائس انڈیکس کے مطابق ایڈجسٹ کیا جاتا ہے)۔ اگر این ای ای آر، آر ای ای آر سے زیادہ ہو تو اس کا مطلب ہے کہ مقامی اشیا (برآمدات) غیر ملکیوں کے لیے مہنگی ہیں، جس سے ملک کی برآمدی مسابقت کم ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر نیئر(این ای ای آر)، ریئر( آر ای ای آر) سے کم ہو تو اس کا مطلب ہے کہ کرنسی کی قدر کم ہے یا برآمدات مسابقتی ہیں (یہ صورتِ حال پاکستان میں واضح نہیں، کیونکہ تجارتی خسارہ مسلسل بڑھ رہا ہے)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے حوالے سے دو اہم نکات قابلِ ذکر ہیں۔ پہلا یہ کہ اپریل 2019 کے اختتام تک آر ای ای آر کا 100 سے زیادہ ہونا روپے کی قدر کے زیادہ ہونے (اوور ویلیوڈ) اور 100 سے کم ہونا روپے کی قدر کے کم ہونے (انڈر ویلیوڈ) کی نشاندہی کرتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتِ حال 6 مئی 2019 کے بعد تبدیل ہوئی، جب رضا باقر، جو اس وقت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ میں مصر کے کنٹری ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، کو 5 مئی 2019 کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا گورنر مقرر کیا گیا۔ بعد ازاں انہوں نے آئی ایم ایف ہی کے ایک اور عہدیدار مرتضیٰ سید کو اسٹیٹ بینک کا سینئر ترین ڈپٹی گورنر تعینات کیا، جو باقر کی مدت ختم ہونے کے بعد قائم مقام گورنر مقرر ہوئے، تاہم انہیں اس عہدے پر مستقل طور پر توثیق نہیں ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا، اس حوالے سے زیادہ وضاحت موجود نہیں کہ باقر کی رخصتی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے موجودہ گورنر کی تقرری کے بعد آیا آر ای ای آر کے حساب کا طریقہ کار باقر سے پہلے کے دور میں واپس چلا گیا یا نہیں، تاہم اسٹیٹ بینک آف پاکستان اب بھی باقر کے دور کے درج ذیل تین وضاحتی نوٹس کا حوالہ دیتا ہے: ”آر ای ای آر کا 100 کا اشاریہ کرنسی کی توازن قدر کی نمائندگی نہیں کرتا۔ 100 محض کسی منتخب وقت میں کرنسی کی قدر کو ظاہر کرتا ہے (اس معاملے میں 2010 میں کرنسی کی اوسط قدر)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا آر ای ای آر کا 100 سے اوپر یا نیچے جانا صرف 2010 کی اوسط قدر کے مقابلے میں تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے اور اس کا توازن قدر سے کوئی تعلق نہیں، جولائی 2020 سے پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس نے 2007-08 کے اساسی سال پر صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) کی اشاعت بند کر دی، جس کی بنیاد پر آر ای ای آر انڈیکس شمار کیا جاتا تھا، اور اساسی سال کو 2015-16 میں تبدیل کر دیا۔ چنانچہ آر ای ای آر انڈیکس کی تیاری کے لیے سی پی آئی (اساس 2015-16) کو آئی ایم ایف کے طریقہ کار کے مطابق 2010 پر مربوط (اسپلائس) اور ازسرِنو اساس بندی (ری بیس) کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آر پی آئی اور آر ای ای آر اشاریوں میں نظرثانی کی جا سکتی ہے، اگر پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی جانب سے سی پی آئی ڈیٹا کے اساس سال یا ربطی عامل (اسپلائس فیکٹر) میں تبدیلی کی جائے۔۔۔ آر ای ای آر میں اضافہ (یا کمی) کو بعض اوقات کرنسی کی زائد قدر (اوور ویلیوایشن) یا کم قدر (انڈر ویلیوایشن) کے تصور سے خلط ملط کیا جاتا ہے، حالانکہ یہ دونوں الگ تصورات ہیں اور ضروری نہیں کہ ان کی سمت ایک ہی ہو۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسی ملک کی کرنسی کی غیر متوازن قیمت (ایکسچینج ریٹ مِس الائنمنٹ) کا جائزہ لینے کے لیے ایک زیادہ پیچیدہ تجزیہ درکار ہوتا ہے، جس میں درمیانی مدت میں آبادیاتی عوامل، بیرونی اور مالیاتی پائیداری، اور دیگر اہم معاشی بنیادیں شامل کی جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ باقر اور ان کے بعد آنے والے آئی ایم ایف کے دو اہلکاروں یا اسٹیٹ بینک کے اہل عملے نے یہ پیچیدہ تجزیہ کیوں نہیں کیا، حالانکہ بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس ( بی آئی ایس) 64 ممالک کے لیے وقت کی تسلسل (ٹائم سیریز) کی مشق باقاعدگی سے کرتا ہے، پاکستان ان میں شامل نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ 2010 میں روپے کی اوسط قدر 85.17 سے 85.19 فی ڈالر تھی، جو 2015-16 میں 104.71 فی ڈالر اور موجودہ شرح 280 روپے فی ڈالر سے کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود، پاکستان میں آر ای ای آر اور این ای ای آر کے درمیان اوسط فرق 65 پوائنٹس سے زیادہ ہے، جس کے لیے دیگر ممالک کے ساتھ موازنہ ضروری ہے۔ 31 دسمبر 2025 تک پانچ ممالک اور یورپی یونین کے لیے، جن کے لیے بی آئی ایس طویل مدتی وقت کی تسلسل تیار کرتا ہے اور سی پی آئی بیس سال 2020=100 پر مبنی ہے، اعداد و شمار درج ذیل ہیں: چین: آر ای ای آر 89.2، این ای ای آر 107.1، بھارت: آر ای ای آر 93، این ای ای آر 86.4، سعودی عرب: آر ای ای آر 100.4، این ای ای آر 109،انڈونیشیا: آر ای ای آر 94، این ای ای آر 94، جاپان: آر ای ای آر 68.8، این ای ای آر 70.7،یورو ایریا: آر ای ای آر 105، این ای ای آر 110.9&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ درست ہے کہ بی آئی ایس باقی 131 ممالک کے لیے حساب نہیں کرتا (اقوام متحدہ کے مطابق کل ممالک کی تعداد 193 ہے جن میں 2 نگران ممالک شامل ہیں) اور ممکن ہے کہ ان میں بھی پاکستان کی طرح آر ای ای آر اور این ای ای آر کے درمیان وسیع فرق موجود ہو، تاہم یہ فرق خود کچھ سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نظریہ یہ بتاتا ہے کہ اگر دونوں اشاریوں کے درمیان نمایاں فرق ہو تو یہ ملکی  مہنگائی کے ایسے فرق کی نشاندہی کرتا ہے جو تجارتی شراکت داروں کے مقابلے میں مختلف شرح پر ہے، اور اگر کرنسی مستحکم رہتی ہے تو یہ مسابقت کو متاثر کر سکتا ہے۔ پاکستانی روپے نے ایک سال سے زیادہ عرصے تک استحکام برقرار رکھا ہے اور اوسط افراطِ زر 2023-24 میں 28.79 فیصد سے کم ہو کر 2024-25 میں 7.22 فیصد اور موجودہ سال کے پہلے سات ماہ میں 5.15 فیصد ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود، پاکستان کے تجارتی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے، جولائی-جنوری 2024-25 میں منفی 14.1 بلین ڈالر سے بڑھ کر اسی مدت میں اس سال منفی 18.4 بلین ڈالر ہو گیا ہے (برآمدات 19.33 بلین ڈالر سے کم ہو کر 18.26 بلین ڈالر اور درآمدات 33.38 بلین ڈالر سے بڑھ کر 36.66 بلین ڈالر ہو گئی ہیں)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجارتی خسارے میں اضافہ اس ترقی و زوال چکر( بوم بسٹ سائیکل) سے پیدا ہوا ہے، جس نے ملک کو پچیسویں بار بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) کے پروگرام میں جانے پر مجبور کیا۔ ترقی و زوال کا یہ چکر 10 اکتوبر 2024 کے آئی ایم ایف دستاویزات میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: ” معاشی اتار چڑھاؤ وقت کے ساتھ بڑھ گیا ہے، جس کا مضبوط تعلق پاکستان کے ترقی و زوال (بوم بسٹ) پر مبنی اقتصادی نتائج اور اس کی معاشی پالیسیوں کے درمیان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی اور مانیٹری محرکات کے ذریعے اقتصادی سرگرمی بڑھانے کی بار بار کوششیں پائیدار ترقی میں تبدیل نہیں ہوئیں، کیونکہ ملکی طلب پاکستان کی قابلِ برداشت صلاحیت سے تجاوز کر گئی، جس کے نتیجے میں مہنگائی اور زرِ مبادلہ کے ذخائر میں کمی ہوئی، جبکہ مستحکم شرحِ مبادلہ کو ترجیح دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر نئے بحران نے پاکستان کی پالیسی سازی کی ساکھ اور سرمایہ کاری کے رجحان کو مزید نقصان پہنچایا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتحال حکومت کے کئی دعووں پر سوالات اٹھاتی ہے، خاص طور پر روپے کی بیرونی قدر کی استحکام (جو کئی ماہ سے تقریباً 280 فی ڈالر مستحکم ہے) اور داخلی روپے کی قدر (اوسط سی پی آئی 5.15 فیصد) کے حوالے سے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف نے 10 اکتوبر کی دستاویزات میں نوٹ کیا کہ ”جی ڈی پی کا تقریباً ایک تہائی حصہ رکھنے والے شعبوں کے لیے دستیاب ماخذ اعداد و شمار میں اہم خامیاں موجود ہیں… حکام ان کمزوریوں کو دور کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں، جس میں فنڈ کی تکنیکی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، تکنیکی معاونت موجودہ مالی سال کے پہلے دن، یکم جولائی 2025 سے شروع ہوئی اور یہ صرف پاکستان بیورو آف اسٹاٹسٹکس تک محدود تھی، جس کی متوقع تکمیل 30 جون 2026 ہے۔ لیکن وقت ہی بتائے گا کہ آیا یہ بھی دیگر تکنیکی معاونت کی طرح ہوگی، یعنی ایک رپورٹ جس میں مخصوص سفارشات شامل ہوں، جو کسی الماری میں پڑی رہ جائے اور کبھی نہ کھولی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ویب سائٹ کے مطابق حقیقی مؤثر شرحِ مبادلہ (آر ای ای آر) دسمبر 2025 میں 103.73 ریکارڈ کی گئی، جو نومبر میں 104.88 اور اکتوبر میں 103.96 کے مقابلے میں کم ہے، جبکہ برائے نام موثر غیر ملکی شرحِ مبادلہ (این ای ای آر) دسمبر میں 37.97، نومبر میں 38.18 اور اکتوبر 2025 میں 38 رہی، اس طرح دسمبر میں 65.76، نومبر میں 66.7 اور اکتوبر میں 65.96 کا فرق ریکارڈ کیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>رئیر(آر ای ای آر) کو بڑی تجارتی شراکت دار ممالک کی کرنسیوں کے ایک باسکٹ کے مقابلے میں شمار کیا جاتا ہے اور اسے نسبتاً افراطِ زر کے مطابق ایڈجسٹ کیا جاتا ہے، جبکہ نیئر( این ای ای آر) کی تعریف روپے کی قدر کا بڑی تجارتی کرنسیوں کے ایک باسکٹ کے مقابلے میں وزنی اوسط کے طور پر کی جاتی ہے اور یہ بین الاقوامی مسابقت کا غیر ایڈجسٹڈ، تجارت کے وزن پر مبنی اشاریہ ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>رئیر(آر ای ای آر) میں اضافہ برآمدی لاگت میں اضافے اور درآمدی لاگت میں کمی کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ اس میں کمی روپے کی قدر میں کمی (ڈیپریسی ایشن) کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس کا حساب نیئر( این ای ای آر) کو غیر ملکی قیمتوں اور مقامی قیمتوں کے تناسب سے ضرب دے کر لگایا جاتا ہے (یا اسے ہیڈلائن مہنگائی ، کنزیومر پرائس انڈیکس کے مطابق ایڈجسٹ کیا جاتا ہے)۔ اگر این ای ای آر، آر ای ای آر سے زیادہ ہو تو اس کا مطلب ہے کہ مقامی اشیا (برآمدات) غیر ملکیوں کے لیے مہنگی ہیں، جس سے ملک کی برآمدی مسابقت کم ہو جاتی ہے۔</p>
<p>اگر نیئر(این ای ای آر)، ریئر( آر ای ای آر) سے کم ہو تو اس کا مطلب ہے کہ کرنسی کی قدر کم ہے یا برآمدات مسابقتی ہیں (یہ صورتِ حال پاکستان میں واضح نہیں، کیونکہ تجارتی خسارہ مسلسل بڑھ رہا ہے)۔</p>
<p>پاکستان کے حوالے سے دو اہم نکات قابلِ ذکر ہیں۔ پہلا یہ کہ اپریل 2019 کے اختتام تک آر ای ای آر کا 100 سے زیادہ ہونا روپے کی قدر کے زیادہ ہونے (اوور ویلیوڈ) اور 100 سے کم ہونا روپے کی قدر کے کم ہونے (انڈر ویلیوڈ) کی نشاندہی کرتا تھا۔</p>
<p>یہ صورتِ حال 6 مئی 2019 کے بعد تبدیل ہوئی، جب رضا باقر، جو اس وقت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ میں مصر کے کنٹری ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، کو 5 مئی 2019 کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا گورنر مقرر کیا گیا۔ بعد ازاں انہوں نے آئی ایم ایف ہی کے ایک اور عہدیدار مرتضیٰ سید کو اسٹیٹ بینک کا سینئر ترین ڈپٹی گورنر تعینات کیا، جو باقر کی مدت ختم ہونے کے بعد قائم مقام گورنر مقرر ہوئے، تاہم انہیں اس عہدے پر مستقل طور پر توثیق نہیں ملی۔</p>
<p>دوسرا، اس حوالے سے زیادہ وضاحت موجود نہیں کہ باقر کی رخصتی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے موجودہ گورنر کی تقرری کے بعد آیا آر ای ای آر کے حساب کا طریقہ کار باقر سے پہلے کے دور میں واپس چلا گیا یا نہیں، تاہم اسٹیٹ بینک آف پاکستان اب بھی باقر کے دور کے درج ذیل تین وضاحتی نوٹس کا حوالہ دیتا ہے: ”آر ای ای آر کا 100 کا اشاریہ کرنسی کی توازن قدر کی نمائندگی نہیں کرتا۔ 100 محض کسی منتخب وقت میں کرنسی کی قدر کو ظاہر کرتا ہے (اس معاملے میں 2010 میں کرنسی کی اوسط قدر)۔</p>
<p>لہٰذا آر ای ای آر کا 100 سے اوپر یا نیچے جانا صرف 2010 کی اوسط قدر کے مقابلے میں تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے اور اس کا توازن قدر سے کوئی تعلق نہیں، جولائی 2020 سے پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس نے 2007-08 کے اساسی سال پر صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) کی اشاعت بند کر دی، جس کی بنیاد پر آر ای ای آر انڈیکس شمار کیا جاتا تھا، اور اساسی سال کو 2015-16 میں تبدیل کر دیا۔ چنانچہ آر ای ای آر انڈیکس کی تیاری کے لیے سی پی آئی (اساس 2015-16) کو آئی ایم ایف کے طریقہ کار کے مطابق 2010 پر مربوط (اسپلائس) اور ازسرِنو اساس بندی (ری بیس) کیا گیا۔</p>
<p>آر پی آئی اور آر ای ای آر اشاریوں میں نظرثانی کی جا سکتی ہے، اگر پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی جانب سے سی پی آئی ڈیٹا کے اساس سال یا ربطی عامل (اسپلائس فیکٹر) میں تبدیلی کی جائے۔۔۔ آر ای ای آر میں اضافہ (یا کمی) کو بعض اوقات کرنسی کی زائد قدر (اوور ویلیوایشن) یا کم قدر (انڈر ویلیوایشن) کے تصور سے خلط ملط کیا جاتا ہے، حالانکہ یہ دونوں الگ تصورات ہیں اور ضروری نہیں کہ ان کی سمت ایک ہی ہو۔“</p>
<p>کسی ملک کی کرنسی کی غیر متوازن قیمت (ایکسچینج ریٹ مِس الائنمنٹ) کا جائزہ لینے کے لیے ایک زیادہ پیچیدہ تجزیہ درکار ہوتا ہے، جس میں درمیانی مدت میں آبادیاتی عوامل، بیرونی اور مالیاتی پائیداری، اور دیگر اہم معاشی بنیادیں شامل کی جائیں۔</p>
<p>سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ باقر اور ان کے بعد آنے والے آئی ایم ایف کے دو اہلکاروں یا اسٹیٹ بینک کے اہل عملے نے یہ پیچیدہ تجزیہ کیوں نہیں کیا، حالانکہ بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس ( بی آئی ایس) 64 ممالک کے لیے وقت کی تسلسل (ٹائم سیریز) کی مشق باقاعدگی سے کرتا ہے، پاکستان ان میں شامل نہیں ہے۔</p>
<p>مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ 2010 میں روپے کی اوسط قدر 85.17 سے 85.19 فی ڈالر تھی، جو 2015-16 میں 104.71 فی ڈالر اور موجودہ شرح 280 روپے فی ڈالر سے کم ہے۔</p>
<p>اس کے باوجود، پاکستان میں آر ای ای آر اور این ای ای آر کے درمیان اوسط فرق 65 پوائنٹس سے زیادہ ہے، جس کے لیے دیگر ممالک کے ساتھ موازنہ ضروری ہے۔ 31 دسمبر 2025 تک پانچ ممالک اور یورپی یونین کے لیے، جن کے لیے بی آئی ایس طویل مدتی وقت کی تسلسل تیار کرتا ہے اور سی پی آئی بیس سال 2020=100 پر مبنی ہے، اعداد و شمار درج ذیل ہیں: چین: آر ای ای آر 89.2، این ای ای آر 107.1، بھارت: آر ای ای آر 93، این ای ای آر 86.4، سعودی عرب: آر ای ای آر 100.4، این ای ای آر 109،انڈونیشیا: آر ای ای آر 94، این ای ای آر 94، جاپان: آر ای ای آر 68.8، این ای ای آر 70.7،یورو ایریا: آر ای ای آر 105، این ای ای آر 110.9</p>
<p>یہ درست ہے کہ بی آئی ایس باقی 131 ممالک کے لیے حساب نہیں کرتا (اقوام متحدہ کے مطابق کل ممالک کی تعداد 193 ہے جن میں 2 نگران ممالک شامل ہیں) اور ممکن ہے کہ ان میں بھی پاکستان کی طرح آر ای ای آر اور این ای ای آر کے درمیان وسیع فرق موجود ہو، تاہم یہ فرق خود کچھ سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔</p>
<p>نظریہ یہ بتاتا ہے کہ اگر دونوں اشاریوں کے درمیان نمایاں فرق ہو تو یہ ملکی  مہنگائی کے ایسے فرق کی نشاندہی کرتا ہے جو تجارتی شراکت داروں کے مقابلے میں مختلف شرح پر ہے، اور اگر کرنسی مستحکم رہتی ہے تو یہ مسابقت کو متاثر کر سکتا ہے۔ پاکستانی روپے نے ایک سال سے زیادہ عرصے تک استحکام برقرار رکھا ہے اور اوسط افراطِ زر 2023-24 میں 28.79 فیصد سے کم ہو کر 2024-25 میں 7.22 فیصد اور موجودہ سال کے پہلے سات ماہ میں 5.15 فیصد ہو گئی ہے۔</p>
<p>اس کے باوجود، پاکستان کے تجارتی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے، جولائی-جنوری 2024-25 میں منفی 14.1 بلین ڈالر سے بڑھ کر اسی مدت میں اس سال منفی 18.4 بلین ڈالر ہو گیا ہے (برآمدات 19.33 بلین ڈالر سے کم ہو کر 18.26 بلین ڈالر اور درآمدات 33.38 بلین ڈالر سے بڑھ کر 36.66 بلین ڈالر ہو گئی ہیں)۔</p>
<p>تجارتی خسارے میں اضافہ اس ترقی و زوال چکر( بوم بسٹ سائیکل) سے پیدا ہوا ہے، جس نے ملک کو پچیسویں بار بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) کے پروگرام میں جانے پر مجبور کیا۔ ترقی و زوال کا یہ چکر 10 اکتوبر 2024 کے آئی ایم ایف دستاویزات میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: ” معاشی اتار چڑھاؤ وقت کے ساتھ بڑھ گیا ہے، جس کا مضبوط تعلق پاکستان کے ترقی و زوال (بوم بسٹ) پر مبنی اقتصادی نتائج اور اس کی معاشی پالیسیوں کے درمیان ہے۔</p>
<p>مالیاتی اور مانیٹری محرکات کے ذریعے اقتصادی سرگرمی بڑھانے کی بار بار کوششیں پائیدار ترقی میں تبدیل نہیں ہوئیں، کیونکہ ملکی طلب پاکستان کی قابلِ برداشت صلاحیت سے تجاوز کر گئی، جس کے نتیجے میں مہنگائی اور زرِ مبادلہ کے ذخائر میں کمی ہوئی، جبکہ مستحکم شرحِ مبادلہ کو ترجیح دی گئی۔</p>
<p>ہر نئے بحران نے پاکستان کی پالیسی سازی کی ساکھ اور سرمایہ کاری کے رجحان کو مزید نقصان پہنچایا۔“</p>
<p>یہ صورتحال حکومت کے کئی دعووں پر سوالات اٹھاتی ہے، خاص طور پر روپے کی بیرونی قدر کی استحکام (جو کئی ماہ سے تقریباً 280 فی ڈالر مستحکم ہے) اور داخلی روپے کی قدر (اوسط سی پی آئی 5.15 فیصد) کے حوالے سے۔</p>
<p>آئی ایم ایف نے 10 اکتوبر کی دستاویزات میں نوٹ کیا کہ ”جی ڈی پی کا تقریباً ایک تہائی حصہ رکھنے والے شعبوں کے لیے دستیاب ماخذ اعداد و شمار میں اہم خامیاں موجود ہیں… حکام ان کمزوریوں کو دور کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں، جس میں فنڈ کی تکنیکی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔“</p>
<p>تاہم، تکنیکی معاونت موجودہ مالی سال کے پہلے دن، یکم جولائی 2025 سے شروع ہوئی اور یہ صرف پاکستان بیورو آف اسٹاٹسٹکس تک محدود تھی، جس کی متوقع تکمیل 30 جون 2026 ہے۔ لیکن وقت ہی بتائے گا کہ آیا یہ بھی دیگر تکنیکی معاونت کی طرح ہوگی، یعنی ایک رپورٹ جس میں مخصوص سفارشات شامل ہوں، جو کسی الماری میں پڑی رہ جائے اور کبھی نہ کھولی جائے۔</p>
<p>کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283133</guid>
      <pubDate>Mon, 23 Feb 2026 16:23:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجم ابراہیم)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/23152656930207e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/23152656930207e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
