<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایف پی سی سی آئی کا ڈی پی پی اور پی ایس کیو سی اے کے رسک مینجمنٹ سسٹم کو فعال کرنے کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283132/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عاطف اکرام شیخ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کسٹمز کی طرز پر محکمہ تحفظِ نباتات (ڈی پی پی)، پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (پی ایس کیو سی اے) اور دیگر سرکاری اداروں کے رسک مینجمنٹ سسٹم (آر ایم ایس) کو فعال کیا جائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو جاری ایک بیان میں انہوں نے تجارت میں آسانی کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کے ڈیجیٹل وژن، فیس لیس اسیسمنٹ اور ’پری ارائیول سہولت کے نفاذ کو سراہا۔ تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ بہتری کے باوجود درآمدات اور برآمدات کے ریگولیٹری شعبے میں اب بھی چیلنجز موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ایف پی سی سی آئی کا کہنا تھا کہ اگرچہ زیادہ تر تجارت پاکستان سنگل ونڈو(پی ایس ڈبلیو) کے ذریعے ہو رہی ہے لیکن کنسائمنٹس کو اب بھی بلاوجہ لازمی معائنے کے بعد کلیئر کیا جاتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سرکاری محکموں میں آر ایم ایس کا نفاذ درآمد و برآمد کے عمل کو ہموار کرے گا، غیر ضروری معائنوں کو ختم کرے گا اور کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے اس حوالے سے کہا کہ فیس لیس اسیسمنٹ سسٹم کے آغاز میں کچھ مشکلات تھیں لیکن چیف کلیکٹر واجد علی کی صنعت کاروں کے ساتھ مشاورت کے بعد یہ مسائل حل کر لیے گئے۔ اب یہ نظام تجارت کے لیے انتہائی مؤثر ثابت ہو رہا ہے اور مال کی کلیئرنس کے وقت میں بھی کمی آ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عاطف اکرام شیخ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کسٹمز کی طرز پر محکمہ تحفظِ نباتات (ڈی پی پی)، پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (پی ایس کیو سی اے) اور دیگر سرکاری اداروں کے رسک مینجمنٹ سسٹم (آر ایم ایس) کو فعال کیا جائے۔</strong></p>
<p>پیر کو جاری ایک بیان میں انہوں نے تجارت میں آسانی کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کے ڈیجیٹل وژن، فیس لیس اسیسمنٹ اور ’پری ارائیول سہولت کے نفاذ کو سراہا۔ تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ بہتری کے باوجود درآمدات اور برآمدات کے ریگولیٹری شعبے میں اب بھی چیلنجز موجود ہیں۔</p>
<p>صدر ایف پی سی سی آئی کا کہنا تھا کہ اگرچہ زیادہ تر تجارت پاکستان سنگل ونڈو(پی ایس ڈبلیو) کے ذریعے ہو رہی ہے لیکن کنسائمنٹس کو اب بھی بلاوجہ لازمی معائنے کے بعد کلیئر کیا جاتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سرکاری محکموں میں آر ایم ایس کا نفاذ درآمد و برآمد کے عمل کو ہموار کرے گا، غیر ضروری معائنوں کو ختم کرے گا اور کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کرے گا۔</p>
<p>ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے اس حوالے سے کہا کہ فیس لیس اسیسمنٹ سسٹم کے آغاز میں کچھ مشکلات تھیں لیکن چیف کلیکٹر واجد علی کی صنعت کاروں کے ساتھ مشاورت کے بعد یہ مسائل حل کر لیے گئے۔ اب یہ نظام تجارت کے لیے انتہائی مؤثر ثابت ہو رہا ہے اور مال کی کلیئرنس کے وقت میں بھی کمی آ رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283132</guid>
      <pubDate>Mon, 23 Feb 2026 14:57:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/2314483036745aa.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/2314483036745aa.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
