<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>معاشی صورتحال: ملک لمحہ بہ لمحہ بحران سے نمٹنے میں مصروف</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283130/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی معیشت کامیابی کی راہ تلاش کرنے میں ناکام ہورہی ہے۔ بنیادی ڈھانچہ (ماڈل) وہی رہتا ہے، صرف چہرے بدلتے ہیں۔ یہ سکڑتے ہوئے وسائل کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کی چھینا جھپٹی بن چکی ہے۔ سماجی اور معاشی بہتری (ترقی) کے بنیادی ڈھانچے کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جارہا ہے۔ ایک طرف جہاں ناہمواری اور غربت بڑھ رہی ہے، وہیں ریاست کی مالیاتی حالت بگڑتی جارہی ہے۔ اسے ایک ری سیٹ (نئے سرے سے آغاز) کی ضرورت ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آگے بڑھنے کا مؤثر طریقہ معاشی مواقع پیدا کرکے عوام کا معیارِ زندگی بلند کرنا ہے۔ ایک ہی نسل کے دوران کئی ممالک نے بنیادی طور پر برآمدات پر مبنی (ایکسپورٹ لیڈ) ترقی کے ذریعے سماجی بہتری حاصل کی ہے۔ پاکستان کو بھی اسی منزل کے لیے تگ ودو کرنی چاہیے اور ساتھ ہی سرکاری خدمات کی فراہمی، بالخصوص تعلیم کے شعبے میں گورننس کی بڑے پیمانے پر اصلاح کرنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کم از کم نعروں اور عوامی تقاریر کی حد تک برآمدات پر مبنی ترقی کے ذریعے معاشی اور سماجی بہتری کی اہمیت کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ تاہم زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔ مالیاتی اختیارات صوبوں کے پاس ہیں، اور بڑے صوبے شاہانہ اخراجات (فضول خرچی) کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت میں موجود سیاسی جماعتیں مرکز میں مضبوط کنٹرول قائم کرنے سے گریزاں نظر آتی ہیں اور اس کی بجائے اپنے اپنے صوبوں میں مالی وسائل برقرار رکھنے کو ترجیح دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ حکومت کے تیسرے درجے (بلدیاتی نظام) کو اختیارات منتقل کرنے کی مزاحمت کرتی ہیں۔ میونسپل اور صوبائی سطح پر ٹیکس کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کی ترغیب بہت کم ہے، جس کا سارا بوجھ وفاقی حکومت پر پڑتا ہے، جو دستاویزی آمدنی (فارمل انکم) پر بھاری ٹیکس عائد کرتی ہے۔ ساتھ ہی، توانائی کے شعبے کی نااہلیاں برآمدی منڈیوں میں مقابلے کی سکت کو ختم کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زمین پر ٹیکس کی وصولی نہ ہونے کے برابر ہے, پنجاب جائیداد سے متعلق ٹیکسوں کی مد میں بھارت کے ایک بڑے شہر کے مقابلے میں بھی کم رقم جمع کرتا ہے۔ زرعی انکم ٹیکس اور خدمات (سروسز) پر سیلز ٹیکس اپنی اصل صلاحیت سے بہت کم ہے، جبکہ مینوفیکچرنگ کے شعبے پر بھاری ٹیکسوں اور مہنگی بجلی کا بوجھ لاد دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی حکومت دیوالیہ ہونے کے قریب ہے اور اسے صوبوں کے ساتھ مالی بوجھ بانٹنے کی ضرورت ہے۔ تمام اسٹیک ہولڈرز (حصہ داروں) کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لا کر ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا ہوگا۔ بلدیاتی اداروں کو ٹیکس جمع کرنے اور سہولیات فراہم کرنے کے لیے بااختیار بنانا چاہیے تاکہ شہروں کو رہنے کے لیے بہتر (قابلِ رہائش) بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی کے ساتھ وفاقی حکومت کو توانائی شعبے میں اپنی مداخلت کم کرنی چاہیے۔ اس شعبے کے قرضوں کا بوجھ صوبوں کے ساتھ بانٹنا چاہیے۔ سرکاری ملکیتی اداروں کے معاملات درست کر کے ان کی نجکاری کی جانی چاہیے، جیسا کہ قومی ایئرلائن پی آئی اے کے معاملے میں کوشش کی گئی ہے۔ حکومت کو اپنے مجموعی حجم (سائز) کو کم کرنا ہوگا۔ مالیاتی احتیاط اور کفایت شعاری کی خاص طور پر صوبائی سطح پر ضرورت ہے، جہاں سرکاری ملازمتوں میں نئی بھرتیاں بے تحاشا جاری ہیں۔ اس رجحان کو اب رکنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر یہ تمام اقدامات کر بھی لیے جائیں، تب بھی پالیسیوں کا تسلسل (استحکام) نہایت ناگزیر رہے گا۔ اس وقت یہ سرمایہ کاری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، جو کہ کئی دہائیوں کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری  تقریباً ختم ہو چکی ہے اور برآمدات پر مبنی شعبوں میں مقامی سطح پر بھی نئی سرمایہ کاری کے آثار بہت کم نظر آرہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتی بیان بازی کافی نہیں ہے، بلکہ ساکھ کو بحال کرنا ہوگا۔ ہر تبدیلیِ اقتدار کے ساتھ پالیسیاں ڈرامائی طور پر، اور اکثر 180 ڈگری کے زاویے پر بدل جاتی ہیں۔ توجہ معاشی تسلسل کو یقینی بنانے کے بجائے اپوزیشن اور اس سے وابستہ کاروباری گروہوں کو کمزور کرنے پر مرکوز کر دی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیاسی دباؤ عارضی طور پر استحکام کا تاثر پیدا کر سکتا ہے، لیکن یہ سرمایہ کاری کو راغب نہیں کرتا۔ پائیدار ترقی کے لیے سب کی شمولیت اور اداروں کی مضبوطی ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجارتی خسارے کو پورا کرنے کے لیے صرف سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر (ریمی ٹینس) پر ضرورت سے زیادہ انحصار معیشت کو ڈھانچہ جاتی طور پر ترقی کرنے نہیں دے گا۔ ترسیلاتِ زر کی آمد کا بڑا حصہ استعمال (کنزپشن) پر خرچ ہو جاتا ہے، جس سے درآمدات کو شہ ملتی ہے۔ یہ عمل بیرونی استحکام کا ایک مغالطہ تو پیدا کرتا ہے، لیکن ضروری ڈھانچہ جاتی اصلاحات میں تاخیر کا سبب بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاشی ساختی از سر نو جائزہ موجود نہیں۔ جب تک بنیادی مسائل حل نہیں کیے جاتے، یہ سلسلہ بس جاری رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی معیشت کامیابی کی راہ تلاش کرنے میں ناکام ہورہی ہے۔ بنیادی ڈھانچہ (ماڈل) وہی رہتا ہے، صرف چہرے بدلتے ہیں۔ یہ سکڑتے ہوئے وسائل کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کی چھینا جھپٹی بن چکی ہے۔ سماجی اور معاشی بہتری (ترقی) کے بنیادی ڈھانچے کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جارہا ہے۔ ایک طرف جہاں ناہمواری اور غربت بڑھ رہی ہے، وہیں ریاست کی مالیاتی حالت بگڑتی جارہی ہے۔ اسے ایک ری سیٹ (نئے سرے سے آغاز) کی ضرورت ہے۔</strong></p>
<p>آگے بڑھنے کا مؤثر طریقہ معاشی مواقع پیدا کرکے عوام کا معیارِ زندگی بلند کرنا ہے۔ ایک ہی نسل کے دوران کئی ممالک نے بنیادی طور پر برآمدات پر مبنی (ایکسپورٹ لیڈ) ترقی کے ذریعے سماجی بہتری حاصل کی ہے۔ پاکستان کو بھی اسی منزل کے لیے تگ ودو کرنی چاہیے اور ساتھ ہی سرکاری خدمات کی فراہمی، بالخصوص تعلیم کے شعبے میں گورننس کی بڑے پیمانے پر اصلاح کرنی چاہیے۔</p>
<p>کم از کم نعروں اور عوامی تقاریر کی حد تک برآمدات پر مبنی ترقی کے ذریعے معاشی اور سماجی بہتری کی اہمیت کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ تاہم زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔ مالیاتی اختیارات صوبوں کے پاس ہیں، اور بڑے صوبے شاہانہ اخراجات (فضول خرچی) کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں۔</p>
<p>حکومت میں موجود سیاسی جماعتیں مرکز میں مضبوط کنٹرول قائم کرنے سے گریزاں نظر آتی ہیں اور اس کی بجائے اپنے اپنے صوبوں میں مالی وسائل برقرار رکھنے کو ترجیح دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ حکومت کے تیسرے درجے (بلدیاتی نظام) کو اختیارات منتقل کرنے کی مزاحمت کرتی ہیں۔ میونسپل اور صوبائی سطح پر ٹیکس کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کی ترغیب بہت کم ہے، جس کا سارا بوجھ وفاقی حکومت پر پڑتا ہے، جو دستاویزی آمدنی (فارمل انکم) پر بھاری ٹیکس عائد کرتی ہے۔ ساتھ ہی، توانائی کے شعبے کی نااہلیاں برآمدی منڈیوں میں مقابلے کی سکت کو ختم کر رہی ہیں۔</p>
<p>زمین پر ٹیکس کی وصولی نہ ہونے کے برابر ہے, پنجاب جائیداد سے متعلق ٹیکسوں کی مد میں بھارت کے ایک بڑے شہر کے مقابلے میں بھی کم رقم جمع کرتا ہے۔ زرعی انکم ٹیکس اور خدمات (سروسز) پر سیلز ٹیکس اپنی اصل صلاحیت سے بہت کم ہے، جبکہ مینوفیکچرنگ کے شعبے پر بھاری ٹیکسوں اور مہنگی بجلی کا بوجھ لاد دیا گیا ہے۔</p>
<p>وفاقی حکومت دیوالیہ ہونے کے قریب ہے اور اسے صوبوں کے ساتھ مالی بوجھ بانٹنے کی ضرورت ہے۔ تمام اسٹیک ہولڈرز (حصہ داروں) کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لا کر ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا ہوگا۔ بلدیاتی اداروں کو ٹیکس جمع کرنے اور سہولیات فراہم کرنے کے لیے بااختیار بنانا چاہیے تاکہ شہروں کو رہنے کے لیے بہتر (قابلِ رہائش) بنایا جا سکے۔</p>
<p>اسی کے ساتھ وفاقی حکومت کو توانائی شعبے میں اپنی مداخلت کم کرنی چاہیے۔ اس شعبے کے قرضوں کا بوجھ صوبوں کے ساتھ بانٹنا چاہیے۔ سرکاری ملکیتی اداروں کے معاملات درست کر کے ان کی نجکاری کی جانی چاہیے، جیسا کہ قومی ایئرلائن پی آئی اے کے معاملے میں کوشش کی گئی ہے۔ حکومت کو اپنے مجموعی حجم (سائز) کو کم کرنا ہوگا۔ مالیاتی احتیاط اور کفایت شعاری کی خاص طور پر صوبائی سطح پر ضرورت ہے، جہاں سرکاری ملازمتوں میں نئی بھرتیاں بے تحاشا جاری ہیں۔ اس رجحان کو اب رکنا چاہیے۔</p>
<p>اگر یہ تمام اقدامات کر بھی لیے جائیں، تب بھی پالیسیوں کا تسلسل (استحکام) نہایت ناگزیر رہے گا۔ اس وقت یہ سرمایہ کاری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، جو کہ کئی دہائیوں کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری  تقریباً ختم ہو چکی ہے اور برآمدات پر مبنی شعبوں میں مقامی سطح پر بھی نئی سرمایہ کاری کے آثار بہت کم نظر آرہے ہیں۔</p>
<p>حکومتی بیان بازی کافی نہیں ہے، بلکہ ساکھ کو بحال کرنا ہوگا۔ ہر تبدیلیِ اقتدار کے ساتھ پالیسیاں ڈرامائی طور پر، اور اکثر 180 ڈگری کے زاویے پر بدل جاتی ہیں۔ توجہ معاشی تسلسل کو یقینی بنانے کے بجائے اپوزیشن اور اس سے وابستہ کاروباری گروہوں کو کمزور کرنے پر مرکوز کر دی جاتی ہے۔</p>
<p>سیاسی دباؤ عارضی طور پر استحکام کا تاثر پیدا کر سکتا ہے، لیکن یہ سرمایہ کاری کو راغب نہیں کرتا۔ پائیدار ترقی کے لیے سب کی شمولیت اور اداروں کی مضبوطی ضروری ہے۔</p>
<p>تجارتی خسارے کو پورا کرنے کے لیے صرف سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر (ریمی ٹینس) پر ضرورت سے زیادہ انحصار معیشت کو ڈھانچہ جاتی طور پر ترقی کرنے نہیں دے گا۔ ترسیلاتِ زر کی آمد کا بڑا حصہ استعمال (کنزپشن) پر خرچ ہو جاتا ہے، جس سے درآمدات کو شہ ملتی ہے۔ یہ عمل بیرونی استحکام کا ایک مغالطہ تو پیدا کرتا ہے، لیکن ضروری ڈھانچہ جاتی اصلاحات میں تاخیر کا سبب بنتا ہے۔</p>
<p>معاشی ساختی از سر نو جائزہ موجود نہیں۔ جب تک بنیادی مسائل حل نہیں کیے جاتے، یہ سلسلہ بس جاری رہے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283130</guid>
      <pubDate>Mon, 23 Feb 2026 15:09:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/231509274e5994e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/231509274e5994e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
