<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 06:13:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 06:13:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملکی برآمدات بڑھانے کا منصوبہ : انٹرلوپ کے سی ای او نے حکمت عملی پیش کر دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283129/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے سب سے بڑے برآمد کنندگان میں سے ایک انٹرلوپ لمیٹڈ کے سی ای او مصدق ذوالقرنین نے ملکی برآمدات میں اضافے کے لیے جامع مختصر اور طویل مدتی روڈ میپ (لائحہ عمل) پیش کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر اپنی ایک پوسٹ میں انہوں نے ملبوسات اور ویلیو ایڈڈ گارمنٹس کو ترقی کا فوری ذریعہ قرار دیا جبکہ پائیدار صنعتی توسیع کے لیے ڈھانچہ جاتی اصلاحات، توانائی کے شعبے میں بہتری اور مہارتوں کی نشوونما میں مستقل سرمایہ کاری پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ  مختصر مدت میں ملبوسات اور ویلیو ایڈڈ گارمنٹس برآمدات بڑھانے کا سب سے تیز راستہ فراہم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MusadaqZ/status/2025619253911605334?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2025619253911605334%7Ctwgr%5E5df2547e521cd11595187749d523e2c092233a50%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40408569'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MusadaqZ/status/2025619253911605334?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2025619253911605334%7Ctwgr%5E5df2547e521cd11595187749d523e2c092233a50%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40408569"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سی ای او نے واضح کیا کہ پاکستان کے پاس اس شعبے میں صنعتی بنیاد، آپریشنل مہارت اور مارکیٹ کے تعلقات پہلے سے موجود ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم پالیسی کی رکاوٹوں کو ختم کر دیں اور واقعی یکساں مواقع  فراہم کریں تو یہ شعبہ نسبتاً تیزی سے نمایاں نتائج دے سکتا ہے۔ تاہم مختصر مدتی فوائد ہمیں طویل مدتی صلاحیت سازی سے غافل نہ کر دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصدق ذوالقرنین نے پاکستان کی بڑھتی ہوئی نوجوان آبادی کے لیے مہارتوں کی نشوونما  میں سرمایہ کاری کر کے مینوفیکچرنگ کے دیگر شعبوں میں تنوع لانے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آبادی کا یہ فائدہ  صرف اس صورت میں حاصل ہوگا اگر ہم اپنی افرادی قوت کو ابھی سے مستقبل کی ضروریات کے مطابق ہنر مند بنائیں، تاکہ آنے والی دہائی میں نتائج حاصل کیے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ڈھانچہ جاتی رکاوٹوں خاص طور پر توانائی کے شعبے کے مسائل کو حل کرنا ضروری ہے۔ ان کی رائے میں مسابقتی اور قابلِ بھروسہ توانائی اور ایک مستحکم پالیسی فریم ورک ہی مستقل سرمایہ کاری کی بنیاد ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اپنی بات مکمل کرتے ہوئے کہا کہ اتنا ہی اہم یہ پیغام دینا ہے کہ مینوفیکچرنگ (صنعت کاری) ایک قومی ترجیح ہے، تاکہ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی ہو کہ وہ ویلیو ایڈڈ صنعتوں میں طویل مدتی سرمایہ لگائیں۔ان بنیادی عوامل کے بغیر برآمدات پر مبنی ترقی محدود رہے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے سب سے بڑے برآمد کنندگان میں سے ایک انٹرلوپ لمیٹڈ کے سی ای او مصدق ذوالقرنین نے ملکی برآمدات میں اضافے کے لیے جامع مختصر اور طویل مدتی روڈ میپ (لائحہ عمل) پیش کیا ہے۔</strong></p>
<p>سوشل میڈیا پر اپنی ایک پوسٹ میں انہوں نے ملبوسات اور ویلیو ایڈڈ گارمنٹس کو ترقی کا فوری ذریعہ قرار دیا جبکہ پائیدار صنعتی توسیع کے لیے ڈھانچہ جاتی اصلاحات، توانائی کے شعبے میں بہتری اور مہارتوں کی نشوونما میں مستقل سرمایہ کاری پر زور دیا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ  مختصر مدت میں ملبوسات اور ویلیو ایڈڈ گارمنٹس برآمدات بڑھانے کا سب سے تیز راستہ فراہم کرتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MusadaqZ/status/2025619253911605334?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2025619253911605334%7Ctwgr%5E5df2547e521cd11595187749d523e2c092233a50%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40408569'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MusadaqZ/status/2025619253911605334?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2025619253911605334%7Ctwgr%5E5df2547e521cd11595187749d523e2c092233a50%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40408569"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>سی ای او نے واضح کیا کہ پاکستان کے پاس اس شعبے میں صنعتی بنیاد، آپریشنل مہارت اور مارکیٹ کے تعلقات پہلے سے موجود ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم پالیسی کی رکاوٹوں کو ختم کر دیں اور واقعی یکساں مواقع  فراہم کریں تو یہ شعبہ نسبتاً تیزی سے نمایاں نتائج دے سکتا ہے۔ تاہم مختصر مدتی فوائد ہمیں طویل مدتی صلاحیت سازی سے غافل نہ کر دیں۔</p>
<p>مصدق ذوالقرنین نے پاکستان کی بڑھتی ہوئی نوجوان آبادی کے لیے مہارتوں کی نشوونما  میں سرمایہ کاری کر کے مینوفیکچرنگ کے دیگر شعبوں میں تنوع لانے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آبادی کا یہ فائدہ  صرف اس صورت میں حاصل ہوگا اگر ہم اپنی افرادی قوت کو ابھی سے مستقبل کی ضروریات کے مطابق ہنر مند بنائیں، تاکہ آنے والی دہائی میں نتائج حاصل کیے جا سکیں۔</p>
<p>اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ڈھانچہ جاتی رکاوٹوں خاص طور پر توانائی کے شعبے کے مسائل کو حل کرنا ضروری ہے۔ ان کی رائے میں مسابقتی اور قابلِ بھروسہ توانائی اور ایک مستحکم پالیسی فریم ورک ہی مستقل سرمایہ کاری کی بنیاد ہیں۔</p>
<p>انہوں نے اپنی بات مکمل کرتے ہوئے کہا کہ اتنا ہی اہم یہ پیغام دینا ہے کہ مینوفیکچرنگ (صنعت کاری) ایک قومی ترجیح ہے، تاکہ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی ہو کہ وہ ویلیو ایڈڈ صنعتوں میں طویل مدتی سرمایہ لگائیں۔ان بنیادی عوامل کے بغیر برآمدات پر مبنی ترقی محدود رہے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283129</guid>
      <pubDate>Mon, 23 Feb 2026 14:11:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/231357540706331.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/231357540706331.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
