<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عوام کا دفاع پاکستان کے بنیادی حق پر مبنی اقدامات ہیں، صدر زرداری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283107/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کے حالیہ اقدامات اس کے بنیادی حق پر مبنی ہیں کہ وہ اپنی سرحدوں کے پار سے اٹھنے والے دہشت گردی کے خطرات کے خلاف اپنے عوام کا دفاع کرے، اور یہ اس کے بار بار دیے گئے انتباہات کے بعد کیے گئے ہیں جو نظر انداز کیے گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدرآصف زرداری نے 8 فروری 2026 کے اپنے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے عالمی برادری کو خبردار کیا تھا کہ جب دہشت گرد گروپس کو سرحد پار سے  تحفظ فراہم کیا جاتا ہے تو اس کے نتائج دنیا بھر کے بے گناہ شہریوں کو بھگتنا پڑتے ہیں۔ انہوں نے افغانستان کی صورتحال پر بھی اعتراض کیا جہاں طالبان حکومت نے 9/11 سے پہلے کی طرح یا اس سے بھی بدتر حالات پیدا کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر آصف زرداری نے کہا کہ کابل میں غیر تسلیم شدہ طالبان حکام نے دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دہشت گرد عناصر کو افغان سرزمین سے کام کرنے کی اجازت دی۔ اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ نے پاکستان کے موقف کو مزید تقویت دی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ داعش خراسان، تحریک طالبان پاکستان، القاعدہ، ترکستان اسلامی پارٹی اور دیگر دہشت گرد گروپس افغانستان میں موجود ہیں اور بعض نے بیرونی حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے اس کا استعمال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر آصف زرداری نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ ان گروپس کی موجودگی پڑوسی ممالک بشمول پاکستان کے لیے سنگین خطرات پیدا کرتی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ افغان حکام نے بار بار انتباہات اور مذاکرات کے باوجود دہشت گرد عناصر کے خلاف مؤثر اور قابل تصدیق اقدامات نہیں کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدرمملکت نے کہا کہ پاکستان نے کافی عرصے تک صبر کا مظاہرہ کیا اور اپنی کارروائی سرحد کے قریب دہشت گرد ٹھکانوں تک محدود رکھی، تاہم پاکستان کو معلوم ہے کہ دہشت گرد منصوبہ ساز، سہولت کار اور سرپرست کہاں موجود ہیں اور اگر پاکستان میں خونریزی جاری رہی تو ذمہ دار عناصر کو باہر نہیں چھوڑا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر مملکت نے زور دیا کہ پاکستان تمام پڑوسیوں کے ساتھ امن، استحکام اور تعاون پر مبنی تعلقات چاہتا ہے، اور دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا۔ پاکستانی عوام کی حفاظت سب سے اہم اور غیر مشروط ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کے حالیہ اقدامات اس کے بنیادی حق پر مبنی ہیں کہ وہ اپنی سرحدوں کے پار سے اٹھنے والے دہشت گردی کے خطرات کے خلاف اپنے عوام کا دفاع کرے، اور یہ اس کے بار بار دیے گئے انتباہات کے بعد کیے گئے ہیں جو نظر انداز کیے گئے۔</strong></p>
<p>صدرآصف زرداری نے 8 فروری 2026 کے اپنے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے عالمی برادری کو خبردار کیا تھا کہ جب دہشت گرد گروپس کو سرحد پار سے  تحفظ فراہم کیا جاتا ہے تو اس کے نتائج دنیا بھر کے بے گناہ شہریوں کو بھگتنا پڑتے ہیں۔ انہوں نے افغانستان کی صورتحال پر بھی اعتراض کیا جہاں طالبان حکومت نے 9/11 سے پہلے کی طرح یا اس سے بھی بدتر حالات پیدا کیے ہیں۔</p>
<p>صدر آصف زرداری نے کہا کہ کابل میں غیر تسلیم شدہ طالبان حکام نے دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دہشت گرد عناصر کو افغان سرزمین سے کام کرنے کی اجازت دی۔ اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ نے پاکستان کے موقف کو مزید تقویت دی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ داعش خراسان، تحریک طالبان پاکستان، القاعدہ، ترکستان اسلامی پارٹی اور دیگر دہشت گرد گروپس افغانستان میں موجود ہیں اور بعض نے بیرونی حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے اس کا استعمال کیا۔</p>
<p>صدر آصف زرداری نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ ان گروپس کی موجودگی پڑوسی ممالک بشمول پاکستان کے لیے سنگین خطرات پیدا کرتی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ افغان حکام نے بار بار انتباہات اور مذاکرات کے باوجود دہشت گرد عناصر کے خلاف مؤثر اور قابل تصدیق اقدامات نہیں کیے۔</p>
<p>صدرمملکت نے کہا کہ پاکستان نے کافی عرصے تک صبر کا مظاہرہ کیا اور اپنی کارروائی سرحد کے قریب دہشت گرد ٹھکانوں تک محدود رکھی، تاہم پاکستان کو معلوم ہے کہ دہشت گرد منصوبہ ساز، سہولت کار اور سرپرست کہاں موجود ہیں اور اگر پاکستان میں خونریزی جاری رہی تو ذمہ دار عناصر کو باہر نہیں چھوڑا جائے گا۔</p>
<p>صدر مملکت نے زور دیا کہ پاکستان تمام پڑوسیوں کے ساتھ امن، استحکام اور تعاون پر مبنی تعلقات چاہتا ہے، اور دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا۔ پاکستانی عوام کی حفاظت سب سے اہم اور غیر مشروط ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283107</guid>
      <pubDate>Mon, 23 Feb 2026 09:32:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/23093008b459dbf.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/23093008b459dbf.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
