<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:00:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:00:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور ٹیکس بار کا ایف بی آر کی جارحانہ ریکوری مہم پر سخت تحفظات کا اظہار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283103/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کارپوریٹ سیکٹر نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے سپر ٹیکس کی وصولی کے لیے مبینہ طور پر جارحانہ اقدامات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ زبردستی نوٹسز اور سپر ٹیکس کے غلط ٹیکس مطالبات سے باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرنے والی کمپنیوں اور تاجروں کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن نے چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ارسال کردہ خط میں مؤقف اختیار کیا کہ فنانس ایکٹ 2022 کے ذریعے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 4 سی کے تحت عائد سپر ٹیکس سے متعلق وفاقی آئینی عدالت کے حالیہ مختصر حکم کے بعد ٹیکس دہندگان میں بے یقینی اور تشویش پائی جاتی ہے۔ اگرچہ مختصر حکم میں آئینی چیلنج ٹیکس حکام کے حق میں قرار دیا گیا ہے، تاہم تفصیلی فیصلہ تاحال جاری نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسوسی ایشن کے مطابق اس صورتحال کے باوجود فیلڈ فارمیشنز نے فوری اور سخت ریکوری مہم شروع کر دی ہے، جس کے تحت زبردستی نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں اور ایسے مطالبات اٹھائے جا رہے ہیں جو قبل از وقت، من مانی اور قانونی بنیاد سے عاری ہیں۔ خط میں کہا گیا کہ بعض ٹیکس افسران غیر جذب شدہ ڈیپریسی ایشن کے پورے بیلنس کو آمدن میں شامل کر رہے ہیں، حالانکہ قانون کے تحت صرف اسی حصے کو شامل کیا جا سکتا ہے جو موجودہ سال کی قابل ٹیکس آمدن کے خلاف ایڈجسٹ کیا گیا ہو۔ مستقبل میں ایڈجسٹمنٹ کے لیے دستیاب ڈیپریسی ایشن کو شامل کرنا آرڈیننس کی اسکیم کے منافی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسوسی ایشن نے یہ بھی نشاندہی کی کہ متعدد کیسز میں ودہولڈنگ ٹیکس اور ایڈوانس ٹیکس کی پہلے سے کی گئی ادائیگیوں کو نظر انداز کر کے مصنوعی طور پر زائد مطالبات بنائے جا رہے ہیں اور ٹیکس دہندگان پر فوری ادائیگی کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ مزید برآں بعض ریکوری نوٹسز میں شفاف حساب کتاب اور جمع کرائی گئی ریٹرنز یا آڈٹ شدہ مالی گوشواروں سے مطابقت بھی ظاہر نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ تفصیلی عدالتی فیصلہ جاری ہونے تک دفعہ 4 سی کے تحت جبری ریکوری روکی جائے اور سپر ٹیکس کے درست حساب کے لیے واضح اور پابند ہدایات جاری کی جائیں تاکہ پہلے سے ادا شدہ ٹیکسوں کا مناسب ایڈجسٹمنٹ یقینی بنایا جا سکے۔ ایسوسی ایشن نے امید ظاہر کی کہ چیئرمین ایف بی آر کی بروقت مداخلت سے شفافیت، قانونی تقاضوں اور ٹیکس دہندگان کے اعتماد کی بحالی ممکن ہو سکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کارپوریٹ سیکٹر نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے سپر ٹیکس کی وصولی کے لیے مبینہ طور پر جارحانہ اقدامات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ زبردستی نوٹسز اور سپر ٹیکس کے غلط ٹیکس مطالبات سے باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرنے والی کمپنیوں اور تاجروں کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا ہے۔</strong></p>
<p>لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن نے چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ارسال کردہ خط میں مؤقف اختیار کیا کہ فنانس ایکٹ 2022 کے ذریعے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 4 سی کے تحت عائد سپر ٹیکس سے متعلق وفاقی آئینی عدالت کے حالیہ مختصر حکم کے بعد ٹیکس دہندگان میں بے یقینی اور تشویش پائی جاتی ہے۔ اگرچہ مختصر حکم میں آئینی چیلنج ٹیکس حکام کے حق میں قرار دیا گیا ہے، تاہم تفصیلی فیصلہ تاحال جاری نہیں ہوا۔</p>
<p>ایسوسی ایشن کے مطابق اس صورتحال کے باوجود فیلڈ فارمیشنز نے فوری اور سخت ریکوری مہم شروع کر دی ہے، جس کے تحت زبردستی نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں اور ایسے مطالبات اٹھائے جا رہے ہیں جو قبل از وقت، من مانی اور قانونی بنیاد سے عاری ہیں۔ خط میں کہا گیا کہ بعض ٹیکس افسران غیر جذب شدہ ڈیپریسی ایشن کے پورے بیلنس کو آمدن میں شامل کر رہے ہیں، حالانکہ قانون کے تحت صرف اسی حصے کو شامل کیا جا سکتا ہے جو موجودہ سال کی قابل ٹیکس آمدن کے خلاف ایڈجسٹ کیا گیا ہو۔ مستقبل میں ایڈجسٹمنٹ کے لیے دستیاب ڈیپریسی ایشن کو شامل کرنا آرڈیننس کی اسکیم کے منافی ہے۔</p>
<p>ایسوسی ایشن نے یہ بھی نشاندہی کی کہ متعدد کیسز میں ودہولڈنگ ٹیکس اور ایڈوانس ٹیکس کی پہلے سے کی گئی ادائیگیوں کو نظر انداز کر کے مصنوعی طور پر زائد مطالبات بنائے جا رہے ہیں اور ٹیکس دہندگان پر فوری ادائیگی کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ مزید برآں بعض ریکوری نوٹسز میں شفاف حساب کتاب اور جمع کرائی گئی ریٹرنز یا آڈٹ شدہ مالی گوشواروں سے مطابقت بھی ظاہر نہیں کی گئی۔</p>
<p>لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ تفصیلی عدالتی فیصلہ جاری ہونے تک دفعہ 4 سی کے تحت جبری ریکوری روکی جائے اور سپر ٹیکس کے درست حساب کے لیے واضح اور پابند ہدایات جاری کی جائیں تاکہ پہلے سے ادا شدہ ٹیکسوں کا مناسب ایڈجسٹمنٹ یقینی بنایا جا سکے۔ ایسوسی ایشن نے امید ظاہر کی کہ چیئرمین ایف بی آر کی بروقت مداخلت سے شفافیت، قانونی تقاضوں اور ٹیکس دہندگان کے اعتماد کی بحالی ممکن ہو سکے گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283103</guid>
      <pubDate>Mon, 23 Feb 2026 08:58:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/230856208c858a1.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/230856208c858a1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
