<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:18:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:18:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزارت خزانہ نے بیرونی قرضوں اور سود کی ادائیگی سے متعلق دعوئوں کی وضاحت کردی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283102/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزارت خزانہ نے حالیہ پریس بیان میں پاکستان کے بیرونی قرضوں اور ان پر سود کی ادائیگیوں سے متعلق بعض دعوؤں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیش کیے گئے اعداد و شمار کو درست تناظر میں سمجھنا ضروری ہے تاکہ ملک کے بیرونی قرضہ جاتی ڈھانچے کی جامع تصویر سامنے آسکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان کے مجموعی بیرونی قرضے اور واجبات اس وقت 138 ارب ڈالر ہیں، تاہم اس رقم میں مختلف نوعیت کی ذمہ داریاں شامل ہیں، جن میں سرکاری اور سرکاری ضمانت شدہ قرضے، پبلک سیکٹر اداروں کے قرضے، بینکوں کے بیرونی قرض، نجی شعبے کے بیرونی قرضے اور براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاروں کی انٹرا کمپنی ذمہ داریاں شامل ہیں۔ اس لیے اس مجموعی رقم کو صرف حکومتی بیرونی قرض کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت خزانہ کے مطابق بیرونی سرکاری قرض تقریباً 92 ارب ڈالر ہے۔ اس میں سے لگ بھگ 75 فیصد رعایتی اور طویل مدتی فنانسنگ پر مشتمل ہے جو کثیرالجہتی اداروں اور دوطرفہ ترقیاتی شراکت داروں سے حاصل کی گئی، جبکہ اس میں آئی ایم ایف شامل نہیں۔ صرف 7 فیصد قرض کمرشل نوعیت کا ہے اور مزید 7 فیصد طویل مدتی یورو بانڈز پر مشتمل ہے۔ اس تناظر میں یہ دعویٰ کہ پاکستان بیرونی قرضوں پر 8 فیصد تک سود ادا کر رہا ہے، گمراہ کن قرار دیا گیا ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق بیرونی سرکاری قرض کی اوسط لاگت تقریباً 4 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2022 میں بیرونی سرکاری قرض پر سود کی ادائیگیاں 1.99 ارب ڈالر تھیں جو مالی سال 2025 میں بڑھ کر 3.59 ارب ڈالر ہوگئیں، یعنی 80.4 فیصد اضافہ ہوا، نہ کہ 84 فیصد جیسا کہ رپورٹ کیا گیا۔ مجموعی اضافہ 1.60 ارب ڈالر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت خزانہ نے اسٹیٹ بینک کے ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ متعلقہ عرصے میں آئی ایم ایف کو 1.50 ارب ڈالر ادا کیے گئے جن میں 580 ملین ڈالر سود تھا، نیا پاکستان سرٹیفکیٹس پر 1.56 ارب ڈالر ادا ہوئے جن میں 94 ملین ڈالر سود شامل تھا، ایشیائی ترقیاتی بینک کو 1.54 ارب ڈالر میں سے 615 ملین ڈالر سود کی مد میں ادا کیے گئے، عالمی بینک کو 1.25 ارب ڈالر میں سے 419 ملین ڈالر سود دیا گیا، جبکہ کمرشل قرضوں پر تقریباً 3 ارب ڈالر کی ادائیگی میں 327 ملین ڈالر سود شامل تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ سود کی ادائیگیوں میں اضافہ صرف قرض کے حجم میں اضافے کا نتیجہ نہیں بلکہ عالمی سطح پر شرح سود میں اضافے کا بھی اثر ہے۔ 2021 اور 2022 کی مہنگائی کے بعد امریکی فیڈرل ریزرو نے شرح سود میں نمایاں اضافہ کیا جس سے عالمی قرض گیری مہنگی ہوئی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ محتاط قرضہ جاتی حکمت عملی اور معاشی استحکام کے لیے پُرعزم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزارت خزانہ نے حالیہ پریس بیان میں پاکستان کے بیرونی قرضوں اور ان پر سود کی ادائیگیوں سے متعلق بعض دعوؤں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیش کیے گئے اعداد و شمار کو درست تناظر میں سمجھنا ضروری ہے تاکہ ملک کے بیرونی قرضہ جاتی ڈھانچے کی جامع تصویر سامنے آسکے۔</strong></p>
<p>وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان کے مجموعی بیرونی قرضے اور واجبات اس وقت 138 ارب ڈالر ہیں، تاہم اس رقم میں مختلف نوعیت کی ذمہ داریاں شامل ہیں، جن میں سرکاری اور سرکاری ضمانت شدہ قرضے، پبلک سیکٹر اداروں کے قرضے، بینکوں کے بیرونی قرض، نجی شعبے کے بیرونی قرضے اور براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاروں کی انٹرا کمپنی ذمہ داریاں شامل ہیں۔ اس لیے اس مجموعی رقم کو صرف حکومتی بیرونی قرض کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔</p>
<p>وزارت خزانہ کے مطابق بیرونی سرکاری قرض تقریباً 92 ارب ڈالر ہے۔ اس میں سے لگ بھگ 75 فیصد رعایتی اور طویل مدتی فنانسنگ پر مشتمل ہے جو کثیرالجہتی اداروں اور دوطرفہ ترقیاتی شراکت داروں سے حاصل کی گئی، جبکہ اس میں آئی ایم ایف شامل نہیں۔ صرف 7 فیصد قرض کمرشل نوعیت کا ہے اور مزید 7 فیصد طویل مدتی یورو بانڈز پر مشتمل ہے۔ اس تناظر میں یہ دعویٰ کہ پاکستان بیرونی قرضوں پر 8 فیصد تک سود ادا کر رہا ہے، گمراہ کن قرار دیا گیا ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق بیرونی سرکاری قرض کی اوسط لاگت تقریباً 4 فیصد ہے۔</p>
<p>اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2022 میں بیرونی سرکاری قرض پر سود کی ادائیگیاں 1.99 ارب ڈالر تھیں جو مالی سال 2025 میں بڑھ کر 3.59 ارب ڈالر ہوگئیں، یعنی 80.4 فیصد اضافہ ہوا، نہ کہ 84 فیصد جیسا کہ رپورٹ کیا گیا۔ مجموعی اضافہ 1.60 ارب ڈالر رہا۔</p>
<p>وزارت خزانہ نے اسٹیٹ بینک کے ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ متعلقہ عرصے میں آئی ایم ایف کو 1.50 ارب ڈالر ادا کیے گئے جن میں 580 ملین ڈالر سود تھا، نیا پاکستان سرٹیفکیٹس پر 1.56 ارب ڈالر ادا ہوئے جن میں 94 ملین ڈالر سود شامل تھا، ایشیائی ترقیاتی بینک کو 1.54 ارب ڈالر میں سے 615 ملین ڈالر سود کی مد میں ادا کیے گئے، عالمی بینک کو 1.25 ارب ڈالر میں سے 419 ملین ڈالر سود دیا گیا، جبکہ کمرشل قرضوں پر تقریباً 3 ارب ڈالر کی ادائیگی میں 327 ملین ڈالر سود شامل تھا۔</p>
<p>وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ سود کی ادائیگیوں میں اضافہ صرف قرض کے حجم میں اضافے کا نتیجہ نہیں بلکہ عالمی سطح پر شرح سود میں اضافے کا بھی اثر ہے۔ 2021 اور 2022 کی مہنگائی کے بعد امریکی فیڈرل ریزرو نے شرح سود میں نمایاں اضافہ کیا جس سے عالمی قرض گیری مہنگی ہوئی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ محتاط قرضہ جاتی حکمت عملی اور معاشی استحکام کے لیے پُرعزم ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283102</guid>
      <pubDate>Mon, 23 Feb 2026 08:47:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (پریس ریلیز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/23084408b8a17e8.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/23084408b8a17e8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
