<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 03:47:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 03:47:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزارت خزانہ نے پاکستان کے بیرونی قرضوں سے متعلق گمراہ کن دعووں کی تردید کر دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283099/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزارت خزانہ نے پاکستان کے بیرونی قرضوں کے حوالے سے جامع وضاحت جاری کی ہے، جس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ملک کے قرضوں کا پروفائل بنیادی طور پر رعایتی اور طویل مدتی شرائط پر مبنی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت نے حالیہ میڈیا تبصروں کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگرچہ مجموعی بیرونی واجبات 138 ارب ڈالر ہیں لیکن اصل بیرونی عوامی (حکومتی) قرضہ تقریباً 92 ارب ڈالر ہے۔ بقیہ رقم میں نجی شعبے کی واجبات، بینکوں  سے حصول قرض اور سرکاری اداروں کے واجبات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس ڈویژن کے بیان کے مطابق پاکستان کے کل بیرونی قرضوں اور واجبات کی شرح 138 ارب ڈالر ہے، تاہم اس میں عوامی سطح پر گارنٹی شدہ قرضے، سرکاری اداروں کے قرضے، بینکوں کی قرضہ گیری اور براہ راست سرمایہ کاروں کے واجبات شامل ہیں۔ اس مجموعی اعداد و شمار کو بیرونی عوامی قرضوں سے الگ کرنا ضروری ہے، جو تقریباً 92 ارب ڈالر بنتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت نے بتایا کہ کل بیرونی عوامی قرضوں کا تقریباً 75 فیصد کثیر جہتی اداروں (آئی ایم ایف کے علاوہ) اور دو طرفہ ترقیاتی شراکت داروں سے حاصل کردہ رعایتی اور طویل مدتی مالی اعانت پر مشتمل ہے۔ اس قرضے کا صرف 7 فیصد تجارتی قرضوں اور مزید 7 فیصد طویل مدتی یورو بانڈز پر مشتمل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تناظر میں یہ دعویٰ کہ پاکستان بیرونی قرضوں پر  8 فیصد تک  سود ادا کر رہا ہے، گمراہ کن ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ بیرونی عوامی قرضوں کی مجموعی اوسط لاگت تقریباً 4 فیصد ہے، جو کہ قرضوں کے پورٹ فولیو کی رعایتی نوعیت کی عکاسی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سود کی ادائیگیوں کے حوالے سے بتایا گیا کہ مالی سال 2022 میں سود کی ادائیگی 1.99 ارب ڈالر تھی جو مالی سال 2025 میں بڑھ کر 3.59 ارب ڈالر ہوئی، جو کہ 80.4 فیصد اضافہ ہے (نہ کہ 84 فیصد جیسا کہ رپورٹ کیا گیا)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے ریکارڈ کے مطابق آئی ایم ایف کو 1.50 ارب ڈالر ادا کیے گئے جس میں 580 ملین ڈالر سود تھا۔ نیا پاکستان سرٹیفکیٹس کی مد میں 1.56 ارب ڈالر (94 ملین ڈالر سود) اور ایشیائی ترقیاتی بینک کو 1.54 ارب ڈالر (615 ملین ڈالر سود) ادا کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت نے مزید وضاحت کی کہ سود کی ادائیگیوں میں اضافہ صرف قرضوں کے حجم کی وجہ سے نہیں بلکہ عالمی سطح پر شرحِ سود میں اضافے کی وجہ سے ہوا۔ مئی 2022 میں امریکی فیڈرل ریزرو کی شرح 0.75-1.00 فیصد تھی جو جولائی 2023 تک بڑھ کر 5.25-5.50 فیصد تک پہنچ گئی، جس سے بین الاقوامی قرضوں کی لاگت میں اضافہ ہوا۔ حکومت نے مشکل معاشی حالات میں آئی ایم ایف اور دیگر شراکت داروں سے فنڈز حاصل کیے، تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر کو بہتر بنایا جا سکے اور وہ قرضوں کے شفاف انتظام کے لیے پرعزم ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزارت خزانہ نے پاکستان کے بیرونی قرضوں کے حوالے سے جامع وضاحت جاری کی ہے، جس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ملک کے قرضوں کا پروفائل بنیادی طور پر رعایتی اور طویل مدتی شرائط پر مبنی ہے۔</strong></p>
<p>وزارت نے حالیہ میڈیا تبصروں کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگرچہ مجموعی بیرونی واجبات 138 ارب ڈالر ہیں لیکن اصل بیرونی عوامی (حکومتی) قرضہ تقریباً 92 ارب ڈالر ہے۔ بقیہ رقم میں نجی شعبے کی واجبات، بینکوں  سے حصول قرض اور سرکاری اداروں کے واجبات شامل ہیں۔</p>
<p>فنانس ڈویژن کے بیان کے مطابق پاکستان کے کل بیرونی قرضوں اور واجبات کی شرح 138 ارب ڈالر ہے، تاہم اس میں عوامی سطح پر گارنٹی شدہ قرضے، سرکاری اداروں کے قرضے، بینکوں کی قرضہ گیری اور براہ راست سرمایہ کاروں کے واجبات شامل ہیں۔ اس مجموعی اعداد و شمار کو بیرونی عوامی قرضوں سے الگ کرنا ضروری ہے، جو تقریباً 92 ارب ڈالر بنتے ہیں۔</p>
<p>وزارت نے بتایا کہ کل بیرونی عوامی قرضوں کا تقریباً 75 فیصد کثیر جہتی اداروں (آئی ایم ایف کے علاوہ) اور دو طرفہ ترقیاتی شراکت داروں سے حاصل کردہ رعایتی اور طویل مدتی مالی اعانت پر مشتمل ہے۔ اس قرضے کا صرف 7 فیصد تجارتی قرضوں اور مزید 7 فیصد طویل مدتی یورو بانڈز پر مشتمل ہے۔</p>
<p>اس تناظر میں یہ دعویٰ کہ پاکستان بیرونی قرضوں پر  8 فیصد تک  سود ادا کر رہا ہے، گمراہ کن ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ بیرونی عوامی قرضوں کی مجموعی اوسط لاگت تقریباً 4 فیصد ہے، جو کہ قرضوں کے پورٹ فولیو کی رعایتی نوعیت کی عکاسی کرتی ہے۔</p>
<p>سود کی ادائیگیوں کے حوالے سے بتایا گیا کہ مالی سال 2022 میں سود کی ادائیگی 1.99 ارب ڈالر تھی جو مالی سال 2025 میں بڑھ کر 3.59 ارب ڈالر ہوئی، جو کہ 80.4 فیصد اضافہ ہے (نہ کہ 84 فیصد جیسا کہ رپورٹ کیا گیا)۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے ریکارڈ کے مطابق آئی ایم ایف کو 1.50 ارب ڈالر ادا کیے گئے جس میں 580 ملین ڈالر سود تھا۔ نیا پاکستان سرٹیفکیٹس کی مد میں 1.56 ارب ڈالر (94 ملین ڈالر سود) اور ایشیائی ترقیاتی بینک کو 1.54 ارب ڈالر (615 ملین ڈالر سود) ادا کیے گئے۔</p>
<p>وزارت نے مزید وضاحت کی کہ سود کی ادائیگیوں میں اضافہ صرف قرضوں کے حجم کی وجہ سے نہیں بلکہ عالمی سطح پر شرحِ سود میں اضافے کی وجہ سے ہوا۔ مئی 2022 میں امریکی فیڈرل ریزرو کی شرح 0.75-1.00 فیصد تھی جو جولائی 2023 تک بڑھ کر 5.25-5.50 فیصد تک پہنچ گئی، جس سے بین الاقوامی قرضوں کی لاگت میں اضافہ ہوا۔ حکومت نے مشکل معاشی حالات میں آئی ایم ایف اور دیگر شراکت داروں سے فنڈز حاصل کیے، تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر کو بہتر بنایا جا سکے اور وہ قرضوں کے شفاف انتظام کے لیے پرعزم ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283099</guid>
      <pubDate>Sun, 22 Feb 2026 20:22:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/2220091451c477f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/2220091451c477f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
