<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:39:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:39:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برلن فلم فیسٹیول اختتام پذیر، غزہ تنازع چھایا رہا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283087/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;76واں برلن فلم فیسٹیول ہفتے کو 10 روزہ پروگرام کے بعد اختتام پذیر ہوا، جسے اس کے ڈائریکٹر نے طوفانی سمندر قرار دیا، جو تنازع غزہ میں اسرائیلی جارحیت پر بحث کی وجہ سے پیدا ہوا اورمقابلے میں شامل 22 فلموں پر ہونے والی بحث کے دوران چھایا رہا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیسٹیول کے آغاز پر یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب جیوری کے صدر وِم وینڈرز نے جرمن حکومت کی اسرائیل کی حمایت کے بارے میں سوال کے جواب میں کہا: ’’ہم واقعی سیاست کے میدان میں داخل نہیں ہو سکتے۔‘‘ انہوں نے اسی پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا کہ فلموں میں دنیا بدلنے کی طاقت ہے مگر یہ سیاست سے مختلف انداز میں ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے اس جواب پر شدید غصہ پایا گیا۔ ایوارڈ یافتہ بھارتی ناول نگار اروندھتی رائے، جو 1989 کی اپنی فلم کی بحال شدہ ورژن پیش کرنے والی تھیں، نے اس پروگرام سے دستبرداری کا اعلان کیا اور وینڈرز کے الفاظ کو ناقابلِ قبول اور حیران کن قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو فلم انڈسٹری کے درجنوں شخصیات بشمول اداکار ہاویر بارڈیم اور ٹلڈا سوینٹن نے کھلا خط جاری کیا، جس میں برلن فیسٹیول کی فلسطینی نسل کشی پر خاموشی اور اسرائیل کے خلاف موقف رکھنے والے فنکاروں کیخلاف سنسرشپ کے الزامات لگائے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈائریکٹر ٹریشیا ٹٹل نے ان الزامات کو مسترد کیا اور کہا کہ کچھ دعوے غلط معلومات پر مبنی ہیں۔ انہوں نے ہفتے کو انڈیپنڈنٹ جیوری کے ایوارڈز کے موقع پر گزشتہ 10 روز کو طوفانی سمندر قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میکسیکن ڈائریکٹر فرناندو ایمبکی، جن کی فلم ’’Moscas‘‘ مقابلے میں تھی، نے کہا کہ گزشتہ دو سال میں غزہ میں 17 ہزار سے زیادہ بچے مارے گئے ہیں اور تمام حکومتوں اور اداروں سے آواز بلند کرنے کی اپیل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران فلمیں بھی توجہ کا مرکز رہیں، جن میں اینتھونی چن کی ’’We Are All Strangers‘‘ اور آسٹریائی ڈائریکٹر مارکس شلینزر کی بلیک اینڈ وائٹ ڈراما ’’Rose‘‘ شامل تھیں، جنہیں ناظرین نے سراہا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>76واں برلن فلم فیسٹیول ہفتے کو 10 روزہ پروگرام کے بعد اختتام پذیر ہوا، جسے اس کے ڈائریکٹر نے طوفانی سمندر قرار دیا، جو تنازع غزہ میں اسرائیلی جارحیت پر بحث کی وجہ سے پیدا ہوا اورمقابلے میں شامل 22 فلموں پر ہونے والی بحث کے دوران چھایا رہا۔</strong></p>
<p>فیسٹیول کے آغاز پر یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب جیوری کے صدر وِم وینڈرز نے جرمن حکومت کی اسرائیل کی حمایت کے بارے میں سوال کے جواب میں کہا: ’’ہم واقعی سیاست کے میدان میں داخل نہیں ہو سکتے۔‘‘ انہوں نے اسی پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا کہ فلموں میں دنیا بدلنے کی طاقت ہے مگر یہ سیاست سے مختلف انداز میں ہوتی ہے۔</p>
<p>ان کے اس جواب پر شدید غصہ پایا گیا۔ ایوارڈ یافتہ بھارتی ناول نگار اروندھتی رائے، جو 1989 کی اپنی فلم کی بحال شدہ ورژن پیش کرنے والی تھیں، نے اس پروگرام سے دستبرداری کا اعلان کیا اور وینڈرز کے الفاظ کو ناقابلِ قبول اور حیران کن قرار دیا۔</p>
<p>منگل کو فلم انڈسٹری کے درجنوں شخصیات بشمول اداکار ہاویر بارڈیم اور ٹلڈا سوینٹن نے کھلا خط جاری کیا، جس میں برلن فیسٹیول کی فلسطینی نسل کشی پر خاموشی اور اسرائیل کے خلاف موقف رکھنے والے فنکاروں کیخلاف سنسرشپ کے الزامات لگائے گئے۔</p>
<p>ڈائریکٹر ٹریشیا ٹٹل نے ان الزامات کو مسترد کیا اور کہا کہ کچھ دعوے غلط معلومات پر مبنی ہیں۔ انہوں نے ہفتے کو انڈیپنڈنٹ جیوری کے ایوارڈز کے موقع پر گزشتہ 10 روز کو طوفانی سمندر قرار دیا۔</p>
<p>میکسیکن ڈائریکٹر فرناندو ایمبکی، جن کی فلم ’’Moscas‘‘ مقابلے میں تھی، نے کہا کہ گزشتہ دو سال میں غزہ میں 17 ہزار سے زیادہ بچے مارے گئے ہیں اور تمام حکومتوں اور اداروں سے آواز بلند کرنے کی اپیل کی۔</p>
<p>اس دوران فلمیں بھی توجہ کا مرکز رہیں، جن میں اینتھونی چن کی ’’We Are All Strangers‘‘ اور آسٹریائی ڈائریکٹر مارکس شلینزر کی بلیک اینڈ وائٹ ڈراما ’’Rose‘‘ شامل تھیں، جنہیں ناظرین نے سراہا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283087</guid>
      <pubDate>Sun, 22 Feb 2026 11:45:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/22114241b7cd27c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/22114241b7cd27c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
