<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:34:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:34:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ریاستی ملکیتی ادارے، ابہام میڈیا نے پیدا نہیں کیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283085/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیر خزانہ کے حالیہ اس فیصلے کہ وہ ریاستی ملکیت کی کمپنیوں (ایس او ایز) کی تازہ رپورٹ کے نتائج پر پریس کانفرنس کی بجائے ایک ریکارڈ شدہ ویڈیو کے ذریعے ردعمل دیں، نے حکومت کے اصلاحاتی بیانیے کے حوالے سے پائے جانے والے ابہام کو حل کرنے کی بجائے مزید بڑھا دیا ہے۔ جب ایسے اعداد و شمار کے بارے میں سوالات پیدا ہوتے ہیں جو پہلے ہی عوامی دائرہ میں موجود ہیں، تو مناسب فورم کھلی جانچ پڑتال ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار خود ایک پرت دار کہانی بیان کرتے ہیں۔ سطحی طور پر دیکھا جائے تو ایس او ایز کے مجموعی نقصان میں مسلسل تین سالوں میں کمی دیکھی گئی ہے: 2023 میں 905 ارب روپے سے 2024 میں 851 ارب روپے اور پچھلے سال 832 ارب روپے تک۔ یہ تین سالہ کمی، جو 74 ارب روپے کی ہے، اصلاحات اور ساختی تبدیلیوں کی کامیابی کے ثبوت کے طور پر پیش کی جا رہی ہے۔ تاہم، وہی رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ حکومت کے لیے خالص مالی بہاؤ  تیزی سے گر کر 458.2 ارب روپے سے 40.7 ارب روپے ہو گیا، جو 91 فیصد کمی ہے۔ اسی رپورٹ میں ایس او ای سیکٹر کا مجموعی خالص نقصان گزشتہ مالی سال میں 30.6 ارب روپے سے بڑھ کر 122.9 ارب روپے ہو گیا، جو ایک سال میں 301 فیصد اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں اعداد و شمار اسی رپورٹ سے لیے گئے ہیں۔ تنازع اس بات سے پیدا ہوتا ہے کہ کون سا میٹرک اجاگر کیا گیا اور کونسے تناظر میں رکھا گیا۔ تین سالہ مدت کے دوران کارکردگی کو ہموار دکھانے سے بتدریج بہتری کا تاثر پیدا ہو سکتا ہے، جبکہ حالیہ سال پر توجہ مرکوز کرنے سے بگاڑ واضح ہو جاتا ہے۔ ابہام میڈیا کی طرف سے پیدا نہیں ہوا؛ یہ مجموعی بمقابلہ سالانہ اعداد و شمار کی پیشکش میں ہی موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور سوال مالیاتی ری سائیکلنگ  کا ہے۔ پچھلے سال حکومت نے ایس او ایز کو 2.078 ٹریلین روپے کی معاونت فراہم کی جبکہ آمدنی 2.119 ٹریلین روپے تھی، جس سے تقریباً 40 ارب روپے کا خالص مثبت بہاؤ پیدا ہوا۔ ریاضیاتی طور پر یہ حوصلہ افزا معلوم ہو سکتا ہے، لیکن ساختی اعتبار سے یہ ظاہر کرتا ہے کہ بڑے پیمانے پر مالیاتی معاونت نظام میں واپس جا رہی ہے اور خالص فائدہ معمولی ہے۔ 2 ٹریلین روپے سے زائد مجموعی سپورٹ پر صرف 40 ارب روپے کا خالص بہاؤ مضبوط قدر کی تخلیق کا اشارہ نہیں دیتا؛ یہ ایک نازک توازن کی نشاندہی کرتا ہے جو مسلسل ریاستی معاونت پر منحصر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گہرائی میں سب سے بڑی تشویش گورننس کے معیار کی ہے۔ رپورٹ خود تسلیم کرتی ہے کہ 36 فیصد سے کم ایس او ایز لازمی بیرونی آڈٹ کروا رہے ہیں۔ ان اداروں کی جانب سے جمع کرائی گئی کاروباری منصوبے زیادہ تر تشریحی نوعیت کے ہیں اور امید پر مبنی نتائج پر قائم ہیں بجائے کہ تجزیاتی پیش گوئیوں کے۔ ایک مرکزی مانیٹرنگ یونٹ موجود ہو سکتا ہے، لیکن نگرانی اس وقت تک معتبر نہیں جب تک وہ معیار نافذ نہ کرے۔ وسیع پیمانے پر آڈٹ کی پابندی اور ڈیٹا پر مبنی منصوبہ بندی کے بغیر، ساختی اصلاحات کے دعوے جانچنا مشکل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی پس منظر میں منتخب رپورٹنگ کو الزام دینا معاملات کو واضح نہیں کرتا۔ میڈیا نے وہی اعداد و شمار رپورٹ کیے جو خود وزارت خزانہ نے شائع کیے تھے۔ اگر تشریح پر اختلاف ہو تو مناسب ردعمل تفصیلی وضاحت کے ذریعے ہونا چاہیے۔ ایک ریکارڈ شدہ پیغام، چاہے کتنا ہی مہارت سے تیار کیا گیا ہو، جوابدہی کا نعم البدل نہیں ہے۔ یہ کمیونیکیشن حکمت عملی خاص طور پر مسئلہ پیدا کرتی ہے کیونکہ کسی بھی ایس او ای اصلاحاتی پروگرام کی ساکھ اسی پر منحصر ہے۔ نجکاری کے منصوبے، اختیارات کی درست تقسیم اور گورننس میں اصلاحات کے لیے سرمایہ کاروں کا اعتماد اور عوام کا اعتماد ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ، وسیع اقتصادی سیاق و سباق بھی ہے۔ ایس او ایز نے پچھلے سال حکومت پر 2 ٹریلین روپے سے زائد بوجھ ڈالا۔ ایک ایسی معیشت میں جو پہلے ہی محدود مالیاتی گنجائش اور بیرونی رکاوٹوں کا سامنا کر رہی ہے، اس پیمانے کو معمولی مسئلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ کئی سالہ مجموعی اعداد میں بتدریج بہتری سالانہ نتائج میں ظاہر ہونے والے اتار چڑھاؤ اور گورننس کی کمزوریوں کو چھپا نہیں سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سب اس امکان کو رد نہیں کرتا کہ کچھ اصلاحات جاری ہیں۔ بورڈ کی تشکیل نو، نجکاری کے اقدامات اور ناقابل کارکردگی اداروں کی بندش اہم اقدامات ہیں۔ لیکن اصلاحات کی ساکھ مالی اور عملی کارکردگی میں مستقل، قابل پیمائش بہتری پر منحصر ہے۔ جب سالانہ نقصانات بڑھتے ہیں اور خالص آمدنی میں کمی آتی ہے، تو وضاحت جامع اور شفاف ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ یقیناً یہ سمجھ سکتے ہیں کہ مجموعی رجحان مثبت ہے۔ اگر ایسا ہے تو یہ کیس تفصیلی مباحثے کے ذریعے پیش کیا جانا چاہیے، تاکہ آزاد تجزیہ کار مفروضات پر سوال کر سکیں اور پیش گوئیوں کو جانچ سکیں۔ ایس او ای اصلاحات صرف تاثر سازی کے لیے نہیں کی جا سکتیں۔ ریاضیاتی وضاحت ضروری ہے۔ جوابدہی کے لیے سوالات ضروری ہیں۔ اگر حکومت اپنے اعداد و شمار پر پریقین ہے، تو اسے دونوں کا خیرمقدم کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیر خزانہ کے حالیہ اس فیصلے کہ وہ ریاستی ملکیت کی کمپنیوں (ایس او ایز) کی تازہ رپورٹ کے نتائج پر پریس کانفرنس کی بجائے ایک ریکارڈ شدہ ویڈیو کے ذریعے ردعمل دیں، نے حکومت کے اصلاحاتی بیانیے کے حوالے سے پائے جانے والے ابہام کو حل کرنے کی بجائے مزید بڑھا دیا ہے۔ جب ایسے اعداد و شمار کے بارے میں سوالات پیدا ہوتے ہیں جو پہلے ہی عوامی دائرہ میں موجود ہیں، تو مناسب فورم کھلی جانچ پڑتال ہے۔</strong></p>
<p>اعداد و شمار خود ایک پرت دار کہانی بیان کرتے ہیں۔ سطحی طور پر دیکھا جائے تو ایس او ایز کے مجموعی نقصان میں مسلسل تین سالوں میں کمی دیکھی گئی ہے: 2023 میں 905 ارب روپے سے 2024 میں 851 ارب روپے اور پچھلے سال 832 ارب روپے تک۔ یہ تین سالہ کمی، جو 74 ارب روپے کی ہے، اصلاحات اور ساختی تبدیلیوں کی کامیابی کے ثبوت کے طور پر پیش کی جا رہی ہے۔ تاہم، وہی رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ حکومت کے لیے خالص مالی بہاؤ  تیزی سے گر کر 458.2 ارب روپے سے 40.7 ارب روپے ہو گیا، جو 91 فیصد کمی ہے۔ اسی رپورٹ میں ایس او ای سیکٹر کا مجموعی خالص نقصان گزشتہ مالی سال میں 30.6 ارب روپے سے بڑھ کر 122.9 ارب روپے ہو گیا، جو ایک سال میں 301 فیصد اضافہ ہے۔</p>
<p>دونوں اعداد و شمار اسی رپورٹ سے لیے گئے ہیں۔ تنازع اس بات سے پیدا ہوتا ہے کہ کون سا میٹرک اجاگر کیا گیا اور کونسے تناظر میں رکھا گیا۔ تین سالہ مدت کے دوران کارکردگی کو ہموار دکھانے سے بتدریج بہتری کا تاثر پیدا ہو سکتا ہے، جبکہ حالیہ سال پر توجہ مرکوز کرنے سے بگاڑ واضح ہو جاتا ہے۔ ابہام میڈیا کی طرف سے پیدا نہیں ہوا؛ یہ مجموعی بمقابلہ سالانہ اعداد و شمار کی پیشکش میں ہی موجود ہے۔</p>
<p>ایک اور سوال مالیاتی ری سائیکلنگ  کا ہے۔ پچھلے سال حکومت نے ایس او ایز کو 2.078 ٹریلین روپے کی معاونت فراہم کی جبکہ آمدنی 2.119 ٹریلین روپے تھی، جس سے تقریباً 40 ارب روپے کا خالص مثبت بہاؤ پیدا ہوا۔ ریاضیاتی طور پر یہ حوصلہ افزا معلوم ہو سکتا ہے، لیکن ساختی اعتبار سے یہ ظاہر کرتا ہے کہ بڑے پیمانے پر مالیاتی معاونت نظام میں واپس جا رہی ہے اور خالص فائدہ معمولی ہے۔ 2 ٹریلین روپے سے زائد مجموعی سپورٹ پر صرف 40 ارب روپے کا خالص بہاؤ مضبوط قدر کی تخلیق کا اشارہ نہیں دیتا؛ یہ ایک نازک توازن کی نشاندہی کرتا ہے جو مسلسل ریاستی معاونت پر منحصر ہے۔</p>
<p>گہرائی میں سب سے بڑی تشویش گورننس کے معیار کی ہے۔ رپورٹ خود تسلیم کرتی ہے کہ 36 فیصد سے کم ایس او ایز لازمی بیرونی آڈٹ کروا رہے ہیں۔ ان اداروں کی جانب سے جمع کرائی گئی کاروباری منصوبے زیادہ تر تشریحی نوعیت کے ہیں اور امید پر مبنی نتائج پر قائم ہیں بجائے کہ تجزیاتی پیش گوئیوں کے۔ ایک مرکزی مانیٹرنگ یونٹ موجود ہو سکتا ہے، لیکن نگرانی اس وقت تک معتبر نہیں جب تک وہ معیار نافذ نہ کرے۔ وسیع پیمانے پر آڈٹ کی پابندی اور ڈیٹا پر مبنی منصوبہ بندی کے بغیر، ساختی اصلاحات کے دعوے جانچنا مشکل ہیں۔</p>
<p>اسی پس منظر میں منتخب رپورٹنگ کو الزام دینا معاملات کو واضح نہیں کرتا۔ میڈیا نے وہی اعداد و شمار رپورٹ کیے جو خود وزارت خزانہ نے شائع کیے تھے۔ اگر تشریح پر اختلاف ہو تو مناسب ردعمل تفصیلی وضاحت کے ذریعے ہونا چاہیے۔ ایک ریکارڈ شدہ پیغام، چاہے کتنا ہی مہارت سے تیار کیا گیا ہو، جوابدہی کا نعم البدل نہیں ہے۔ یہ کمیونیکیشن حکمت عملی خاص طور پر مسئلہ پیدا کرتی ہے کیونکہ کسی بھی ایس او ای اصلاحاتی پروگرام کی ساکھ اسی پر منحصر ہے۔ نجکاری کے منصوبے، اختیارات کی درست تقسیم اور گورننس میں اصلاحات کے لیے سرمایہ کاروں کا اعتماد اور عوام کا اعتماد ضروری ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ، وسیع اقتصادی سیاق و سباق بھی ہے۔ ایس او ایز نے پچھلے سال حکومت پر 2 ٹریلین روپے سے زائد بوجھ ڈالا۔ ایک ایسی معیشت میں جو پہلے ہی محدود مالیاتی گنجائش اور بیرونی رکاوٹوں کا سامنا کر رہی ہے، اس پیمانے کو معمولی مسئلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ کئی سالہ مجموعی اعداد میں بتدریج بہتری سالانہ نتائج میں ظاہر ہونے والے اتار چڑھاؤ اور گورننس کی کمزوریوں کو چھپا نہیں سکتی۔</p>
<p>یہ سب اس امکان کو رد نہیں کرتا کہ کچھ اصلاحات جاری ہیں۔ بورڈ کی تشکیل نو، نجکاری کے اقدامات اور ناقابل کارکردگی اداروں کی بندش اہم اقدامات ہیں۔ لیکن اصلاحات کی ساکھ مالی اور عملی کارکردگی میں مستقل، قابل پیمائش بہتری پر منحصر ہے۔ جب سالانہ نقصانات بڑھتے ہیں اور خالص آمدنی میں کمی آتی ہے، تو وضاحت جامع اور شفاف ہونی چاہیے۔</p>
<p>وزیر خزانہ یقیناً یہ سمجھ سکتے ہیں کہ مجموعی رجحان مثبت ہے۔ اگر ایسا ہے تو یہ کیس تفصیلی مباحثے کے ذریعے پیش کیا جانا چاہیے، تاکہ آزاد تجزیہ کار مفروضات پر سوال کر سکیں اور پیش گوئیوں کو جانچ سکیں۔ ایس او ای اصلاحات صرف تاثر سازی کے لیے نہیں کی جا سکتیں۔ ریاضیاتی وضاحت ضروری ہے۔ جوابدہی کے لیے سوالات ضروری ہیں۔ اگر حکومت اپنے اعداد و شمار پر پریقین ہے، تو اسے دونوں کا خیرمقدم کرنا چاہیے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283085</guid>
      <pubDate>Sun, 22 Feb 2026 11:30:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/2211272601d63ed.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/2211272601d63ed.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
