<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:00:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:00:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیلم جہلم کمیشننگ کی تاریخ سے آزاد کشمیر کو واٹر یوز چارجز ادا ہوں گے، بین الوزارتی پینل کا اتفاق</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283076/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزارت آب وسائل کے باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ بین الوزارتی پینل نے اصولی طور پر اتفاق کیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کو نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کی کمیشننگ کی تاریخ سے واٹر یوز چارجز ادا کیے جائیں گے، جبکہ پاور ڈویژن ٹیرف کی حتمی منظوری کے لیے نیپرا سے رجوع کرے گا تاکہ ادائیگیوں کی راہ ہموار ہو سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ آبی وسائل کے ذرائع کے مطابق واٹر یوز چارجز کا معاملہ مختلف فورمز پر زیر بحث رہا ہے، جن میں آزاد کشمیر کے سیاسی امور سے متعلق وزارتی کمیٹی بھی شامل ہے۔ 16 ستمبر 2025 کو بین الصوبائی رابطہ کی ورکنگ کمیٹی نے فیصلہ کیا تھا کہ واپڈا، وزارتِ آبی وسائل اور حکومتِ آزاد کشمیر مل کر نیلم جہلم منصوبے سے واجب الادا سابقہ اور آئندہ چارجز کی تفصیلات طے کریں گے اور ڈرافٹ دوطرفہ معاہدے سے متعلق امور پیش کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ اجلاس میں سیکریٹری آئی پی سی کی زیر صدارت واٹر یوز چارجز کی ادائیگی کا طریقہ کار، آزاد کشمیر کے بقایا مسائل، واپڈا اور حکومتِ آزاد کشمیر کے درمیان معاہدہ اور نیلم جہلم ہیڈریس ٹنل کی تباہی سے متعلق انکوائری رپورٹ پر غور کیا گیا۔ ڈائریکٹر جنرل آبی وسائل سلیم شاہد نے بتایا کہ 2018 سے 2024 تک سابقہ واجبات 1.10 روپے فی یونٹ کے حساب سے 21.7 ارب روپے بنتے ہیں جبکہ آئندہ واجبات کا تخمینہ 5.6 ارب روپے ہے۔ آزاد کشمیر کے سیکریٹری توانائی و آبی وسائل محمد طیب نے اعداد و شمار سے اتفاق کیا تاہم کہا کہ حتمی مفاہمت واپڈا کے ساتھ کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واپڈا حکام نے بتایا کہ منصوبے کا ٹیرف ابھی نیپرا میں زیر التوا ہے اور فی الحال عبوری ٹیرف لاگو ہے جو صرف 90 فیصد آپریشن و مینٹیننس اور جزوی قرض سروسنگ کا احاطہ کرتا ہے۔ سی پی پی اے جی کے چیف فنانشل آفیسر نے کہا کہ اضافی لاگت کا تعین نیپرا کے ذریعے ہوگا جبکہ وزارتِ خزانہ کے نمائندے نے واضح کیا کہ وفاق پہلے ہی آزاد کشمیر کو 75 ارب روپے سے زائد ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی دے رہا ہے اور واٹر یوز چارجز کا بوجھ بالآخر پاکستانی صارفین پر منتقل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں اصولی طور پر کمیشننگ کی تاریخ سے ادائیگی پر اتفاق کیا گیا اور معاملہ اسٹیئرنگ کمیٹی کو بھیجنے کا فیصلہ ہوا۔ وزارتِ آبی وسائل تمام فریقین کا اجلاس بلا کر طریقہ کار طے کرے گی جبکہ پاور ڈویژن نیپرا سے ٹیرف کی جلد منظوری کے لیے رابطہ کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزارت آب وسائل کے باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ بین الوزارتی پینل نے اصولی طور پر اتفاق کیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کو نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کی کمیشننگ کی تاریخ سے واٹر یوز چارجز ادا کیے جائیں گے، جبکہ پاور ڈویژن ٹیرف کی حتمی منظوری کے لیے نیپرا سے رجوع کرے گا تاکہ ادائیگیوں کی راہ ہموار ہو سکے۔</strong></p>
<p>وزارتِ آبی وسائل کے ذرائع کے مطابق واٹر یوز چارجز کا معاملہ مختلف فورمز پر زیر بحث رہا ہے، جن میں آزاد کشمیر کے سیاسی امور سے متعلق وزارتی کمیٹی بھی شامل ہے۔ 16 ستمبر 2025 کو بین الصوبائی رابطہ کی ورکنگ کمیٹی نے فیصلہ کیا تھا کہ واپڈا، وزارتِ آبی وسائل اور حکومتِ آزاد کشمیر مل کر نیلم جہلم منصوبے سے واجب الادا سابقہ اور آئندہ چارجز کی تفصیلات طے کریں گے اور ڈرافٹ دوطرفہ معاہدے سے متعلق امور پیش کیے جائیں گے۔</p>
<p>حالیہ اجلاس میں سیکریٹری آئی پی سی کی زیر صدارت واٹر یوز چارجز کی ادائیگی کا طریقہ کار، آزاد کشمیر کے بقایا مسائل، واپڈا اور حکومتِ آزاد کشمیر کے درمیان معاہدہ اور نیلم جہلم ہیڈریس ٹنل کی تباہی سے متعلق انکوائری رپورٹ پر غور کیا گیا۔ ڈائریکٹر جنرل آبی وسائل سلیم شاہد نے بتایا کہ 2018 سے 2024 تک سابقہ واجبات 1.10 روپے فی یونٹ کے حساب سے 21.7 ارب روپے بنتے ہیں جبکہ آئندہ واجبات کا تخمینہ 5.6 ارب روپے ہے۔ آزاد کشمیر کے سیکریٹری توانائی و آبی وسائل محمد طیب نے اعداد و شمار سے اتفاق کیا تاہم کہا کہ حتمی مفاہمت واپڈا کے ساتھ کی جائے گی۔</p>
<p>واپڈا حکام نے بتایا کہ منصوبے کا ٹیرف ابھی نیپرا میں زیر التوا ہے اور فی الحال عبوری ٹیرف لاگو ہے جو صرف 90 فیصد آپریشن و مینٹیننس اور جزوی قرض سروسنگ کا احاطہ کرتا ہے۔ سی پی پی اے جی کے چیف فنانشل آفیسر نے کہا کہ اضافی لاگت کا تعین نیپرا کے ذریعے ہوگا جبکہ وزارتِ خزانہ کے نمائندے نے واضح کیا کہ وفاق پہلے ہی آزاد کشمیر کو 75 ارب روپے سے زائد ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی دے رہا ہے اور واٹر یوز چارجز کا بوجھ بالآخر پاکستانی صارفین پر منتقل ہوگا۔</p>
<p>اجلاس میں اصولی طور پر کمیشننگ کی تاریخ سے ادائیگی پر اتفاق کیا گیا اور معاملہ اسٹیئرنگ کمیٹی کو بھیجنے کا فیصلہ ہوا۔ وزارتِ آبی وسائل تمام فریقین کا اجلاس بلا کر طریقہ کار طے کرے گی جبکہ پاور ڈویژن نیپرا سے ٹیرف کی جلد منظوری کے لیے رابطہ کرے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283076</guid>
      <pubDate>Sun, 22 Feb 2026 09:18:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/22091417fd35fe7.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/22091417fd35fe7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
