<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نئی دہلی میں بھارت اور برازیل کے رہنماؤں کی ملاقات، اہم معدنیات پر معاہدہ طے پا گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283070/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت اور برازیل نے ہفتے کے روز اہم معدنیات اور نایاب دھاتوں کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔  یہ بات وزیرِ اعظم نریندر مودی نے نئی دہلی میں برازیل کے صدر لویس ایناسیو لولا ڈی سلوا کے ساتھ مذاکرات کے بعد کہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مودی نے کہا کہ ” اہم معدنیات اور نایاب دھاتوں پر یہ معاہدہ مضبوط سپلائی چین بنانے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برازیل کے پاس دنیا کے دوسرے سب سے بڑے اہم معدنی ذخائر موجود ہیں، جو بجلی سے چلنے والی گاڑیوں، سولر پینلز، اسمارٹ فونز، جیٹ انجن اور گائیڈڈ میزائلوں سمیت ہر چیز میں استعمال ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت، سب سے بڑے برآمد کنندہ چین پر اپنا انحصار کم کرنے کے لیے نئے سپلائرز کی تلاش کے ساتھ  قومی پیداوار اور ری سائیکلنگ میں اضافہ کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہندوستانی حکومت کے بیان کے مطابق یہ تعاون تلاش، کان کنی اور اسٹیل سیکٹر کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر مرکوز ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کی اسٹیل پیداوار کی صلاحیت 218 ملین میٹرک ٹن ہے، اور کمپنیاں بڑھتی ہوئی ملکی طلب کو پورا کرنے کے لیے پیداوار میں اضافہ کر رہی ہیں، جو بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور صنعت کاری کی وجہ سے بڑھ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برازیل کے صدر لویس ایناسیو لولا ڈی سلوا نے کہا کہ ” ہم نے آج جس معاہدے پر دستخط کئے ہیں اس کا بنیادی محور قابلِ تجدید توانائیوں اور اہم معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری اور تعاون میں اضافہ کرنا ہے۔“&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/LulaOficial/status/2025158908176666678'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/LulaOficial/status/2025158908176666678"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;معاہدے کی تفصیلات فوری طور پر دستیاب نہیں تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کے روز، وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق، نو دیگر معاہدے اور مفاہمت کی یادداشتیں بھی طے پائی ہیں، جو ڈیجیٹل تعاون، صحت، کاروباری سرگرمیوں اور دیگر شعبوں سے متعلق ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ”برازیل لاطینی امریکہ میں بھارت کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ ہم آئندہ پانچ سال میں دو طرفہ تجارت کو 20 ارب ڈالر سے بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔ ہمارے ممالک ٹیکنالوجی، جدت، ڈیجیٹل پبلک انفرااسٹرکچر، مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز اور دیگر شعبوں میں بھی قریبی تعاون کریں گے، جس سے ہمارے عوام کو فائدہ ہوگا۔“&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/narendramodi/status/2025149417636896912'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/narendramodi/status/2025149417636896912"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/narendramodi/status/2025149422129098956'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/narendramodi/status/2025149422129098956"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;“ہماری تجارت محض اعداد و شمار نہیں، بلکہ اعتماد کی عکاسی ہے۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لولا، جو مصنوعی ذہانت کے ایک سربراہی اجلاس کے لیے بدھ کو نئی دہلی پہنچے، کے ہمراہ درجن سے زائد وزراء اور کاروباری رہنما بھی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کے روز انہیں رسمی استقبال کیا گیا اور انہوں نے بھارت کے آزادی کے ہیرو مہاتما گاندھی کو خراجِ عقیدت پیش کیا، اس کے بعد وہ مودی سے ملاقات کے لیے روانہ ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کے نایاب دھاتوں (rare earths) کی پیداوار پر تقریباً اجارہ داری رکھنے کے سبب، بعض ممالک متبادل ذرائع تلاش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رشبھ جین، جو دہلی میں قائم کونسل آن انرجی، انوائرنمنٹ اینڈ واٹر کے ماہر ہیں، نے کہا کہ بھارت کا برازیل کے ساتھ اہم معدنیات پر بڑھتا ہوا تعاون حالیہ سپلائی چین شراکت داریوں کے ساتھ ہم آہنگ ہے، جو امریکہ، فرانس اور یورپی یونین کے ساتھ ہوئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جین نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ شراکت داریاں بھارت کو جدید ٹیکنالوجیز، مالی معاونت اور اعلیٰ سطح کی پروسیسنگ صلاحیتوں تک رسائی دیتی ہیں، جبکہ “گلوبل ساؤتھ کے اتحاد متنوع، زمینی وسائل تک رسائی یقینی بنانے اور عالمی تجارتی قواعد کو تشکیل دینے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔”&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="نیا-عزم" href="#نیا-عزم" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;نیا عزم&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والا ملک بھارت، برازیل کی برآمدات کے لیے دسویں بڑا مارکیٹ ہے، اور دو طرفہ تجارت 2025 میں 15 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کے لیے برازیل کی اہم برآمدات میں &lt;strong&gt;چینی، خام تیل، سبزیوں کے تیل، کپاس اور لوہا&lt;/strong&gt; شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت میں تیز رفتار بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور صنعتی ترقی کی وجہ سے لوہے کی کان کی طلب میں اضافہ ہوا ہے، اور ملک دنیا کی چوتھی بڑی معیشت بننے کے راستے پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کے وزیرِ خارجہ سُبھرم ن یم جیشنکر نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ لولا کی مودی کے ساتھ بات چیت “ہمارے تعلقات کو ایک نیا عزم دے گی”۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مودی نے کہا، “دفاعی شعبے میں ہمارا تعاون بھی مسلسل بڑھ رہا ہے”، اور اس تعاون کو ایک “ون ون شراکت داری” قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا، “جب بھارت اور برازیل مل کر کام کرتے ہیں تو گلوبل ساؤتھ کی آواز مضبوط اور پر اعتماد بنتی ہے۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برازیلی کمپنیاں بھی بھارت میں اپنی موجودگی بڑھا رہی ہیں، جہاں ایمبریئر اور آڈانی گروپ نے پچھلے ماہ بھارت میں طیارے بنانے کے منصوبے کا اعلان کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لولا نے جمعرات کو نئی دہلی میں اے آئی امپیکٹ( AI Impact) سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت کے لیے ایک کثیرالجہتی اور جامع عالمی حکمرانی کے فریم ورک کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد میں وہ جنوبی کوریا کا سفر کریں گے جہاں وہ صدر لی جے میونگ سے ملاقات کریں گے اور ایک کاروباری فورم میں شریک ہوں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت اور برازیل نے ہفتے کے روز اہم معدنیات اور نایاب دھاتوں کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔  یہ بات وزیرِ اعظم نریندر مودی نے نئی دہلی میں برازیل کے صدر لویس ایناسیو لولا ڈی سلوا کے ساتھ مذاکرات کے بعد کہی ہے۔</strong></p>
<p>مودی نے کہا کہ ” اہم معدنیات اور نایاب دھاتوں پر یہ معاہدہ مضبوط سپلائی چین بنانے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔“</p>
<p>برازیل کے پاس دنیا کے دوسرے سب سے بڑے اہم معدنی ذخائر موجود ہیں، جو بجلی سے چلنے والی گاڑیوں، سولر پینلز، اسمارٹ فونز، جیٹ انجن اور گائیڈڈ میزائلوں سمیت ہر چیز میں استعمال ہوتے ہیں۔</p>
<p>بھارت، سب سے بڑے برآمد کنندہ چین پر اپنا انحصار کم کرنے کے لیے نئے سپلائرز کی تلاش کے ساتھ  قومی پیداوار اور ری سائیکلنگ میں اضافہ کر رہا ہے۔</p>
<p>ہندوستانی حکومت کے بیان کے مطابق یہ تعاون تلاش، کان کنی اور اسٹیل سیکٹر کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر مرکوز ہوگا۔</p>
<p>بھارت کی اسٹیل پیداوار کی صلاحیت 218 ملین میٹرک ٹن ہے، اور کمپنیاں بڑھتی ہوئی ملکی طلب کو پورا کرنے کے لیے پیداوار میں اضافہ کر رہی ہیں، جو بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور صنعت کاری کی وجہ سے بڑھ رہی ہے۔</p>
<p>برازیل کے صدر لویس ایناسیو لولا ڈی سلوا نے کہا کہ ” ہم نے آج جس معاہدے پر دستخط کئے ہیں اس کا بنیادی محور قابلِ تجدید توانائیوں اور اہم معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری اور تعاون میں اضافہ کرنا ہے۔“</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/LulaOficial/status/2025158908176666678'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/LulaOficial/status/2025158908176666678"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>معاہدے کی تفصیلات فوری طور پر دستیاب نہیں تھیں۔</p>
<p>جمعہ کے روز، وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق، نو دیگر معاہدے اور مفاہمت کی یادداشتیں بھی طے پائی ہیں، جو ڈیجیٹل تعاون، صحت، کاروباری سرگرمیوں اور دیگر شعبوں سے متعلق ہیں۔</p>
<p>وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ”برازیل لاطینی امریکہ میں بھارت کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ ہم آئندہ پانچ سال میں دو طرفہ تجارت کو 20 ارب ڈالر سے بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔ ہمارے ممالک ٹیکنالوجی، جدت، ڈیجیٹل پبلک انفرااسٹرکچر، مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز اور دیگر شعبوں میں بھی قریبی تعاون کریں گے، جس سے ہمارے عوام کو فائدہ ہوگا۔“</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/narendramodi/status/2025149417636896912'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/narendramodi/status/2025149417636896912"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/narendramodi/status/2025149422129098956'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/narendramodi/status/2025149422129098956"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>“ہماری تجارت محض اعداد و شمار نہیں، بلکہ اعتماد کی عکاسی ہے۔”</p>
<p>لولا، جو مصنوعی ذہانت کے ایک سربراہی اجلاس کے لیے بدھ کو نئی دہلی پہنچے، کے ہمراہ درجن سے زائد وزراء اور کاروباری رہنما بھی ہیں۔</p>
<p>ہفتے کے روز انہیں رسمی استقبال کیا گیا اور انہوں نے بھارت کے آزادی کے ہیرو مہاتما گاندھی کو خراجِ عقیدت پیش کیا، اس کے بعد وہ مودی سے ملاقات کے لیے روانہ ہوئے۔</p>
<p>چین کے نایاب دھاتوں (rare earths) کی پیداوار پر تقریباً اجارہ داری رکھنے کے سبب، بعض ممالک متبادل ذرائع تلاش کر رہے ہیں۔</p>
<p>رشبھ جین، جو دہلی میں قائم کونسل آن انرجی، انوائرنمنٹ اینڈ واٹر کے ماہر ہیں، نے کہا کہ بھارت کا برازیل کے ساتھ اہم معدنیات پر بڑھتا ہوا تعاون حالیہ سپلائی چین شراکت داریوں کے ساتھ ہم آہنگ ہے، جو امریکہ، فرانس اور یورپی یونین کے ساتھ ہوئی ہیں۔</p>
<p>جین نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ شراکت داریاں بھارت کو جدید ٹیکنالوجیز، مالی معاونت اور اعلیٰ سطح کی پروسیسنگ صلاحیتوں تک رسائی دیتی ہیں، جبکہ “گلوبل ساؤتھ کے اتحاد متنوع، زمینی وسائل تک رسائی یقینی بنانے اور عالمی تجارتی قواعد کو تشکیل دینے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔”</p>
<h3><a id="نیا-عزم" href="#نیا-عزم" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>نیا عزم</h3>
<p>دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والا ملک بھارت، برازیل کی برآمدات کے لیے دسویں بڑا مارکیٹ ہے، اور دو طرفہ تجارت 2025 میں 15 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی۔</p>
<p>بھارت کے لیے برازیل کی اہم برآمدات میں <strong>چینی، خام تیل، سبزیوں کے تیل، کپاس اور لوہا</strong> شامل ہیں۔</p>
<p>بھارت میں تیز رفتار بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور صنعتی ترقی کی وجہ سے لوہے کی کان کی طلب میں اضافہ ہوا ہے، اور ملک دنیا کی چوتھی بڑی معیشت بننے کے راستے پر ہے۔</p>
<p>بھارت کے وزیرِ خارجہ سُبھرم ن یم جیشنکر نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ لولا کی مودی کے ساتھ بات چیت “ہمارے تعلقات کو ایک نیا عزم دے گی”۔</p>
<p>مودی نے کہا، “دفاعی شعبے میں ہمارا تعاون بھی مسلسل بڑھ رہا ہے”، اور اس تعاون کو ایک “ون ون شراکت داری” قرار دیا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا، “جب بھارت اور برازیل مل کر کام کرتے ہیں تو گلوبل ساؤتھ کی آواز مضبوط اور پر اعتماد بنتی ہے۔”</p>
<p>برازیلی کمپنیاں بھی بھارت میں اپنی موجودگی بڑھا رہی ہیں، جہاں ایمبریئر اور آڈانی گروپ نے پچھلے ماہ بھارت میں طیارے بنانے کے منصوبے کا اعلان کیا۔</p>
<p>لولا نے جمعرات کو نئی دہلی میں اے آئی امپیکٹ( AI Impact) سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت کے لیے ایک کثیرالجہتی اور جامع عالمی حکمرانی کے فریم ورک کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
<p>بعد میں وہ جنوبی کوریا کا سفر کریں گے جہاں وہ صدر لی جے میونگ سے ملاقات کریں گے اور ایک کاروباری فورم میں شریک ہوں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283070</guid>
      <pubDate>Sat, 21 Feb 2026 19:57:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسکاے ایف پیرائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/2119130303bad73.webp" type="image/webp" medium="image" height="1167" width="1600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/2119130303bad73.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
