<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:19:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:19:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بدلتا ہوا عالمی نظام</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283068/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تقریباً آٹھ دہائیوں تک امریکی عالمی قیادت فوجی بالادستی، اقتصادی مرکزیت اور اتحادی ہم آہنگی پر قائم رہی۔ پہلے دو عناصر اب بھی خاصی حد تک برقرار ہیں، جبکہ تیسرا بتدریج زوال کا شکار ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج کی دنیا جس منظر کا مشاہدہ کر رہی ہے وہ ایک منقسم مغرب، بدلتا ہوا عالمی نظام، واحد بالادستی کے زوال، بلا مقابلہ برتری سے مسابقتی کثیر القطبی نظام کی جانب ایک بے مثال اور تیز رفتار منتقلی اور اقوامِ متحدہ کے غیر یقینی مستقبل پر مشتمل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ میونخ سکیورٹی کانفرنس میں ایک چونکا دینے والا اعتراف سفارتی احتیاط پر غالب آ گیا۔ جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے اعلان کیا کہ 1945 کے بعد قائم ہونے والا نظام ”اب موجود نہیں رہا“۔ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے یورپ پر زور دیا کہ وہ اپنی حیثیت میں ایک جیوپولیٹیکل طاقت بنے۔ حتیٰ کہ امریکہ کے اعلیٰ سفارت کار مارکو روبیو نے بھی تسلیم کیا کہ ”پرانا عالمی نظام ختم ہو چکا ہے“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی موقف کی بازگشت کینیڈا اور برطانیہ کی جانب سے بھی سنائی دی ہے۔ دونوں ممالک پرانے عالمی نظام سے ہٹتے ہوئے اپنی ضروریات کے مطابق ایک خودمختار جیوپولیٹیکل اور معاشی روڈ میپ تشکیل دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ محض معمول کے سفارتی بیانات نہیں ہیں بلکہ ایک گہری دراڑ کی عکاسی کرتے ہیں جو دہائیوں سے امریکہ کی قیادت میں قائم مغربی اتحاد میں پیدا ہو رہی ہے، جسے نیٹو اور اقوامِ متحدہ جیسے اداروں کے ذریعے مضبوط کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تبدیلی کے اثرات صرف بحرِ اوقیانوس کے دونوں کناروں تک محدود نہیں۔ یہ چین کے عروج، روس کی حکمتِ عملی کی گنجائش، یورپ کی مشرقِ وسطیٰ پالیسی اور سب سے بڑھ کر اقوامِ متحدہ کے مستقبل تک پھیلتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے ماحول میں قریبی اتحادی بھی اپنے مفادات کا زیادہ خودمختاری کے ساتھ تعین کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ اور فلسطین کے معاملے پر یورپ کے بیشتر دارالحکومتوں نے دو ریاستی حل کی حمایت برقرار رکھی ہے اور یکطرفہ اقدامات سے خود کو الگ رکھا ہے۔ اگر یورپ اپنی اسٹریٹجک خودمختاری کو مزید مضبوط کرتا ہے تو وہ ایک زیادہ واضح اور متحد مشرقِ وسطیٰ پالیسی اختیار کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپ کا ایک متفقہ موقف عالمی اداروں میں وزن رکھ سکتا ہے، خصوصاً اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ووٹنگ کے رجحانات، فنڈنگ ترجیحات اور سفارتی اتحادوں کو متاثر کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مغربی تقسیم سے سب سے زیادہ فائدہ چین کو ہوتا ہے۔ بیجنگ کی حکمتِ عملی طویل عرصے سے معاشی توسیع، ادارہ جاتی شمولیت اور بتدریج پیش قدمی پر مبنی رہی ہے۔ منقسم مغرب چین کے اس بیانیے کو تقویت دیتا ہے کہ مغربی غلبے کا دور ختم ہو رہا ہے اور کثیر القطبی نظام ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کا اقوامِ متحدہ کے مختلف اداروں میں بڑھتا ہوا کردار — امن مشنز میں شمولیت سے لے کر ترقیاتی مالی معاونت تک — اس تبدیلی کو واضح کرتا ہے۔ جیسے جیسے مغربی اتحاد کمزور پڑ رہا ہے، بیجنگ کا اثر و رسوخ کثیرالجہتی پلیٹ فارمز کے ذریعے اصولوں، معیارات اور ترقیاتی ماڈلز کی تشکیل میں خاموشی سے بڑھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روس کے لیے مغربی اختلافات ایک موقع فراہم کرتے ہیں۔ ماسکو مسلسل نیٹو کی توسیع اور امریکی بالادستی کو عدم استحکام کا سبب قرار دیتا رہا ہے۔ اگر یورپ اپنی سکیورٹی حکمتِ عملی پر نظرثانی کرتا ہے یا واشنگٹن کے ساتھ خودکار ہم آہنگی کم کرتا ہے تو روس کو سفارتی سطح پر زیادہ گنجائش ملتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ صورتحال پیچیدہ ہے۔ یورپ کی خودمختاری کی خواہش جزوی طور پر روسی جارحیت کے خدشات سے بھی جڑی ہے۔ ایک زیادہ عسکری طور پر مضبوط یورپ وقت کے ساتھ ایک مؤثر توازن قائم کر سکتا ہے۔ لیکن عبوری مرحلے میں مغربی ہم آہنگی میں کسی بھی کمی سے مشترکہ پابندیوں اور سفارتی دباؤ کو برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوامِ متحدہ ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے۔ اس کے لیے سب سے بڑا ادارہ جاتی امتحان ابھی باقی ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد وجود میں آنے والا یہ ادارہ ایک ایسے عالمی نظام کی عکاسی کرتا تھا جس پر چند فاتح طاقتوں کا غلبہ تھا، اور اس کی سلامتی کونسل اسی تاریخی حقیقت کی نمائندگی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک منقسم اور کثیر القطبی دنیا میں اقوامِ متحدہ کے سامنے تین ممکنہ راستے ہیں۔ پہلا، جمود: اگر بڑی طاقتیں ایک دوسرے کے اقدامات کو ویٹو کرتی رہیں تو سلامتی کونسل مزید غیر مؤثر ہو سکتی ہے۔ یوکرین اور غزہ کے معاملات پر پہلے ہی تعطل دیکھا جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید تقسیم شدہ مغرب میں مغربی ممالک کے درمیان غیر رسمی ہم آہنگی بھی کمزور پڑ سکتی ہے، جس سے تعطل میں اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا، مطابقت: اصلاحات کے لیے دباؤ — خصوصاً سلامتی کونسل کی توسیع تاکہ موجودہ طاقت کے توازن کی عکاسی ہو سکے — بڑھ سکتا ہے۔ ابھرتی ہوئی طاقتیں زیادہ نمائندگی کا مطالبہ کریں گی۔ اگرچہ ساختی اصلاحات سیاسی طور پر مشکل ہیں، لیکن بدلتی ہوئی جیوپولیٹیکل صورتحال بتدریج تبدیلیوں کے لیے رفتار پیدا کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا، احیاء: جنرل اسمبلی اور خصوصی اداروں کے ذریعے۔ جیسے جیسے بڑی طاقتیں مسابقت میں مصروف ہیں، درمیانے اور چھوٹے ممالک اقوامِ متحدہ کے فورمز کو اجتماعی اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ موسمیاتی مذاکرات، انسانی امداد کی ہم آہنگی، اور ترقیاتی مالیات جیسے شعبے اقوامِ متحدہ کی اہمیت کو مزید واضح کر سکتے ہیں، چاہے سخت سکیورٹی معاملات تعطل کا شکار ہی کیوں نہ رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک منقسم عالمی نظام اقوامِ متحدہ کو بیک وقت کمزور بھی کر سکتا ہے اور مضبوط بھی۔ یہ اسے کمزور اس لیے کرتا ہے کہ بڑی طاقتوں کا اتفاقِ رائے کم ہو جاتا ہے، اور مضبوط اس لیے کہ ایک ایسی دنیا میں جہاں کوئی ایک غالب قوت موجود نہ ہو، کثیرالجہتی جواز کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چھوٹی اور درمیانی طاقتوں کے لیے کثیر القطبی نظام محتاط مواقع فراہم کرتا ہے۔ ایک ایسی دنیا جہاں ایک ہی مرکز کا غلبہ نہ ہو، وہاں مختلف طاقتوں — جیسے واشنگٹن، بیجنگ اور برسلز — کے ساتھ بیک وقت تعلقات استوار کرنے کی گنجائش پیدا ہوتی ہے۔ تاہم یہ شدید مسابقت کا میدان بھی بن سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے میں اقوامِ متحدہ کا اصولی فریم ورک اہم ہو جاتا ہے۔ چھوٹے ممالک اپنی خودمختاری کے تحفظ اور اجتماعی سودے بازی کی قوت بڑھانے کے لیے کثیرالجہتی اداروں پر زیادہ انحصار کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر مضبوط بالادستی موجود نہ ہو تو اصولوں پر مبنی نظام کی اہمیت دوبارہ بڑھ سکتی ہے — بشرطیکہ ادارہ خود کو بدلتی دنیا کے مطابق ڈھال سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1945 کے بعد قائم عالمی نظام فوری طور پر ختم نہیں ہو رہا۔ اس کے ادارے اب بھی عالمی تجارت، مالیات اور سکیورٹی میں گہرائی سے جڑے ہوئے ہیں۔ لیکن ایک نفسیاتی حد عبور ہو چکی ہے: عالمی رہنما اب کھل کر نظام کی تبدیلی کو تسلیم کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں غلبے کے بجائے مذاکرات، سخت بلاکس کے بجائے لچکدار اتحاد نمایاں ہوں گے۔ امریکہ اب بھی ناگزیر ہے مگر پہلے جیسا غالب نہیں۔ یورپ خودمختاری چاہتا ہے مگر اسے صلاحیت بھی بڑھانا ہوگی۔ چین اپنا اثر بڑھا رہا ہے مگر اسے معاشی چیلنجز درپیش ہیں، جبکہ روس اپنی حدود کے اندر رہتے ہوئے حکمتِ عملی اختیار کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوامِ متحدہ تاریخ کے ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ یہ یا تو بڑی طاقتوں کی رقابت کے باعث غیر موثر ہو سکتی ہے، یا ایک ایسے مرکزی فورم میں تبدیل ہو سکتی ہے جہاں کثیر القطبی دنیا اپنی مسابقت کو منظم کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک عالمی نظام کا خاتمہ لازمی طور پر انتشار کی ضمانت نہیں دیتا — بلکہ تبدیلی کی ضمانت دیتا ہے۔ یہ تبدیلی انتشار لائے گی یا ایک نئے توازن کو جنم دے گی، اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا عالمی ادارے، خصوصاً اقوامِ متحدہ، خود کو ایک ایسی دنیا کے مطابق ڈھال پاتے ہیں جہاں کوئی ایک بلا مقابلہ طاقت موجود نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>تقریباً آٹھ دہائیوں تک امریکی عالمی قیادت فوجی بالادستی، اقتصادی مرکزیت اور اتحادی ہم آہنگی پر قائم رہی۔ پہلے دو عناصر اب بھی خاصی حد تک برقرار ہیں، جبکہ تیسرا بتدریج زوال کا شکار ہے۔</strong></p>
<p>آج کی دنیا جس منظر کا مشاہدہ کر رہی ہے وہ ایک منقسم مغرب، بدلتا ہوا عالمی نظام، واحد بالادستی کے زوال، بلا مقابلہ برتری سے مسابقتی کثیر القطبی نظام کی جانب ایک بے مثال اور تیز رفتار منتقلی اور اقوامِ متحدہ کے غیر یقینی مستقبل پر مشتمل ہے۔</p>
<p>حالیہ میونخ سکیورٹی کانفرنس میں ایک چونکا دینے والا اعتراف سفارتی احتیاط پر غالب آ گیا۔ جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے اعلان کیا کہ 1945 کے بعد قائم ہونے والا نظام ”اب موجود نہیں رہا“۔ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے یورپ پر زور دیا کہ وہ اپنی حیثیت میں ایک جیوپولیٹیکل طاقت بنے۔ حتیٰ کہ امریکہ کے اعلیٰ سفارت کار مارکو روبیو نے بھی تسلیم کیا کہ ”پرانا عالمی نظام ختم ہو چکا ہے“۔</p>
<p>اسی موقف کی بازگشت کینیڈا اور برطانیہ کی جانب سے بھی سنائی دی ہے۔ دونوں ممالک پرانے عالمی نظام سے ہٹتے ہوئے اپنی ضروریات کے مطابق ایک خودمختار جیوپولیٹیکل اور معاشی روڈ میپ تشکیل دے رہے ہیں۔</p>
<p>یہ محض معمول کے سفارتی بیانات نہیں ہیں بلکہ ایک گہری دراڑ کی عکاسی کرتے ہیں جو دہائیوں سے امریکہ کی قیادت میں قائم مغربی اتحاد میں پیدا ہو رہی ہے، جسے نیٹو اور اقوامِ متحدہ جیسے اداروں کے ذریعے مضبوط کیا گیا تھا۔</p>
<p>اس تبدیلی کے اثرات صرف بحرِ اوقیانوس کے دونوں کناروں تک محدود نہیں۔ یہ چین کے عروج، روس کی حکمتِ عملی کی گنجائش، یورپ کی مشرقِ وسطیٰ پالیسی اور سب سے بڑھ کر اقوامِ متحدہ کے مستقبل تک پھیلتے ہیں۔</p>
<p>ایسے ماحول میں قریبی اتحادی بھی اپنے مفادات کا زیادہ خودمختاری کے ساتھ تعین کر رہے ہیں۔</p>
<p>غزہ اور فلسطین کے معاملے پر یورپ کے بیشتر دارالحکومتوں نے دو ریاستی حل کی حمایت برقرار رکھی ہے اور یکطرفہ اقدامات سے خود کو الگ رکھا ہے۔ اگر یورپ اپنی اسٹریٹجک خودمختاری کو مزید مضبوط کرتا ہے تو وہ ایک زیادہ واضح اور متحد مشرقِ وسطیٰ پالیسی اختیار کر سکتا ہے۔</p>
<p>یورپ کا ایک متفقہ موقف عالمی اداروں میں وزن رکھ سکتا ہے، خصوصاً اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ووٹنگ کے رجحانات، فنڈنگ ترجیحات اور سفارتی اتحادوں کو متاثر کر سکتا ہے۔</p>
<p>مغربی تقسیم سے سب سے زیادہ فائدہ چین کو ہوتا ہے۔ بیجنگ کی حکمتِ عملی طویل عرصے سے معاشی توسیع، ادارہ جاتی شمولیت اور بتدریج پیش قدمی پر مبنی رہی ہے۔ منقسم مغرب چین کے اس بیانیے کو تقویت دیتا ہے کہ مغربی غلبے کا دور ختم ہو رہا ہے اور کثیر القطبی نظام ناگزیر ہے۔</p>
<p>چین کا اقوامِ متحدہ کے مختلف اداروں میں بڑھتا ہوا کردار — امن مشنز میں شمولیت سے لے کر ترقیاتی مالی معاونت تک — اس تبدیلی کو واضح کرتا ہے۔ جیسے جیسے مغربی اتحاد کمزور پڑ رہا ہے، بیجنگ کا اثر و رسوخ کثیرالجہتی پلیٹ فارمز کے ذریعے اصولوں، معیارات اور ترقیاتی ماڈلز کی تشکیل میں خاموشی سے بڑھ رہا ہے۔</p>
<p>روس کے لیے مغربی اختلافات ایک موقع فراہم کرتے ہیں۔ ماسکو مسلسل نیٹو کی توسیع اور امریکی بالادستی کو عدم استحکام کا سبب قرار دیتا رہا ہے۔ اگر یورپ اپنی سکیورٹی حکمتِ عملی پر نظرثانی کرتا ہے یا واشنگٹن کے ساتھ خودکار ہم آہنگی کم کرتا ہے تو روس کو سفارتی سطح پر زیادہ گنجائش ملتی ہے۔</p>
<p>تاہم یہ صورتحال پیچیدہ ہے۔ یورپ کی خودمختاری کی خواہش جزوی طور پر روسی جارحیت کے خدشات سے بھی جڑی ہے۔ ایک زیادہ عسکری طور پر مضبوط یورپ وقت کے ساتھ ایک مؤثر توازن قائم کر سکتا ہے۔ لیکن عبوری مرحلے میں مغربی ہم آہنگی میں کسی بھی کمی سے مشترکہ پابندیوں اور سفارتی دباؤ کو برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔</p>
<p>اقوامِ متحدہ ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے۔ اس کے لیے سب سے بڑا ادارہ جاتی امتحان ابھی باقی ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد وجود میں آنے والا یہ ادارہ ایک ایسے عالمی نظام کی عکاسی کرتا تھا جس پر چند فاتح طاقتوں کا غلبہ تھا، اور اس کی سلامتی کونسل اسی تاریخی حقیقت کی نمائندگی کرتی ہے۔</p>
<p>ایک منقسم اور کثیر القطبی دنیا میں اقوامِ متحدہ کے سامنے تین ممکنہ راستے ہیں۔ پہلا، جمود: اگر بڑی طاقتیں ایک دوسرے کے اقدامات کو ویٹو کرتی رہیں تو سلامتی کونسل مزید غیر مؤثر ہو سکتی ہے۔ یوکرین اور غزہ کے معاملات پر پہلے ہی تعطل دیکھا جا چکا ہے۔</p>
<p>مزید تقسیم شدہ مغرب میں مغربی ممالک کے درمیان غیر رسمی ہم آہنگی بھی کمزور پڑ سکتی ہے، جس سے تعطل میں اضافہ ہوگا۔</p>
<p>دوسرا، مطابقت: اصلاحات کے لیے دباؤ — خصوصاً سلامتی کونسل کی توسیع تاکہ موجودہ طاقت کے توازن کی عکاسی ہو سکے — بڑھ سکتا ہے۔ ابھرتی ہوئی طاقتیں زیادہ نمائندگی کا مطالبہ کریں گی۔ اگرچہ ساختی اصلاحات سیاسی طور پر مشکل ہیں، لیکن بدلتی ہوئی جیوپولیٹیکل صورتحال بتدریج تبدیلیوں کے لیے رفتار پیدا کر سکتی ہے۔</p>
<p>تیسرا، احیاء: جنرل اسمبلی اور خصوصی اداروں کے ذریعے۔ جیسے جیسے بڑی طاقتیں مسابقت میں مصروف ہیں، درمیانے اور چھوٹے ممالک اقوامِ متحدہ کے فورمز کو اجتماعی اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ موسمیاتی مذاکرات، انسانی امداد کی ہم آہنگی، اور ترقیاتی مالیات جیسے شعبے اقوامِ متحدہ کی اہمیت کو مزید واضح کر سکتے ہیں، چاہے سخت سکیورٹی معاملات تعطل کا شکار ہی کیوں نہ رہیں۔</p>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک منقسم عالمی نظام اقوامِ متحدہ کو بیک وقت کمزور بھی کر سکتا ہے اور مضبوط بھی۔ یہ اسے کمزور اس لیے کرتا ہے کہ بڑی طاقتوں کا اتفاقِ رائے کم ہو جاتا ہے، اور مضبوط اس لیے کہ ایک ایسی دنیا میں جہاں کوئی ایک غالب قوت موجود نہ ہو، کثیرالجہتی جواز کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔</p>
<p>چھوٹی اور درمیانی طاقتوں کے لیے کثیر القطبی نظام محتاط مواقع فراہم کرتا ہے۔ ایک ایسی دنیا جہاں ایک ہی مرکز کا غلبہ نہ ہو، وہاں مختلف طاقتوں — جیسے واشنگٹن، بیجنگ اور برسلز — کے ساتھ بیک وقت تعلقات استوار کرنے کی گنجائش پیدا ہوتی ہے۔ تاہم یہ شدید مسابقت کا میدان بھی بن سکتی ہے۔</p>
<p>ایسے میں اقوامِ متحدہ کا اصولی فریم ورک اہم ہو جاتا ہے۔ چھوٹے ممالک اپنی خودمختاری کے تحفظ اور اجتماعی سودے بازی کی قوت بڑھانے کے لیے کثیرالجہتی اداروں پر زیادہ انحصار کر سکتے ہیں۔</p>
<p>اگر مضبوط بالادستی موجود نہ ہو تو اصولوں پر مبنی نظام کی اہمیت دوبارہ بڑھ سکتی ہے — بشرطیکہ ادارہ خود کو بدلتی دنیا کے مطابق ڈھال سکے۔</p>
<p>1945 کے بعد قائم عالمی نظام فوری طور پر ختم نہیں ہو رہا۔ اس کے ادارے اب بھی عالمی تجارت، مالیات اور سکیورٹی میں گہرائی سے جڑے ہوئے ہیں۔ لیکن ایک نفسیاتی حد عبور ہو چکی ہے: عالمی رہنما اب کھل کر نظام کی تبدیلی کو تسلیم کر رہے ہیں۔</p>
<p>دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں غلبے کے بجائے مذاکرات، سخت بلاکس کے بجائے لچکدار اتحاد نمایاں ہوں گے۔ امریکہ اب بھی ناگزیر ہے مگر پہلے جیسا غالب نہیں۔ یورپ خودمختاری چاہتا ہے مگر اسے صلاحیت بھی بڑھانا ہوگی۔ چین اپنا اثر بڑھا رہا ہے مگر اسے معاشی چیلنجز درپیش ہیں، جبکہ روس اپنی حدود کے اندر رہتے ہوئے حکمتِ عملی اختیار کر رہا ہے۔</p>
<p>اقوامِ متحدہ تاریخ کے ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ یہ یا تو بڑی طاقتوں کی رقابت کے باعث غیر موثر ہو سکتی ہے، یا ایک ایسے مرکزی فورم میں تبدیل ہو سکتی ہے جہاں کثیر القطبی دنیا اپنی مسابقت کو منظم کرے۔</p>
<p>ایک عالمی نظام کا خاتمہ لازمی طور پر انتشار کی ضمانت نہیں دیتا — بلکہ تبدیلی کی ضمانت دیتا ہے۔ یہ تبدیلی انتشار لائے گی یا ایک نئے توازن کو جنم دے گی، اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا عالمی ادارے، خصوصاً اقوامِ متحدہ، خود کو ایک ایسی دنیا کے مطابق ڈھال پاتے ہیں جہاں کوئی ایک بلا مقابلہ طاقت موجود نہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283068</guid>
      <pubDate>Sat, 21 Feb 2026 17:14:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فرحت علی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/211644057822fe5.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/211644057822fe5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
