<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عالمی ٹیرف پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر ٹرمپ برہم، 10 فیصد نئے محصولات کا اعلان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283063/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے جمعہ کو آنے والے اس فیصلے پر شدید برہمی کا اظہار کیا جس میں کہا گیا تھا کہ صدر کے پاس درآمدات پر یکطرفہ طور پر ٹیرف (درآمدی ڈیوٹی) عائد کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ انہوں نے ججز کی انفرادی طور پر مذمت کرتے ہوئے اس عالمی تجارتی جنگ کو جاری رکھنے کا عہد کیا جس نے ایک سال سے پوری دنیا کو اضطراب میں مبتلا کررکھا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس فیصلے سے بالکل نہیں گھبرائے, انہوں نے بار بار اس فیصلے کو احمقانہ قرار دیا اور تمام ممالک سے درآمدات پر فوری طور پر 10 فیصد نیا ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا جو موجودہ ٹیرف کے علاوہ ہوگا  اور پھر ان کے نفاذ کا اعلامیہ بھی جاری کر دیا۔ قانون انہیں 150 دن کے لیے زیادہ سے زیادہ 15 فیصد محصول عائد کرنے کی اجازت دیتا ہے حالانکہ اس پر قانونی چیلنجز بھی آسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت کے اس تاریخی  فیصلے نے اس اثرورسوخ کو الٹ کر رکھ دیا جسے ٹرمپ اور ان کے تجارتی ایلچی غیر ملکی حکومتوں کے ساتھ مذاکرات کی میز پر سفارتی تعلقات اور عالمی منڈیوں کی نئی تشکیل کے لیے استعمال کرتے رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت کے اس فیصلے نے عارضی طور پر امریکی اسٹاک مارکیٹ کے انڈیکسز میں تیزی کی لہر دوڑا دی لیکن مارکیٹ معمولی اضافے پر بند ہوئی کیونکہ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا تھا کہ جب تک ٹرمپ کے اگلے اقدامات واضح نہیں ہوجاتے، عالمی منڈیوں میں غیریقینی اور الجھن کی صورتحال برقرار رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالتی فیصلے کے چند گھنٹوں بعد ٹرمپ نے ان ٹیرف (محصولات) کو منسوخ کرنے کے ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے جنہیں عدالت نے کالعدم قرار دیا تھا، اور ساتھ ہی ایک ایسا اعلامیہ بھی جاری کیا جس کے تحت امریکہ میں درآمد کی جانے والی زیادہ تر اشیاء پر 150 دنوں کے لیے 10 فیصد ڈیوٹی عائد کردی گئی۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق، اس نئے ٹیکس سے مخصوص اشیاء کو استثنیٰ دیا گیا ہے جن میں اہم معدنیات، دھاتیں اور توانائی کی مصنوعات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تجارتی معاہدے اور سرکاری آمدن خطرے میں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فیصلے نے ان تمام تجارتی معاہدوں کو شکوک وشبہات کی زد میں لا کھڑا کیا جو ٹرمپ کے ایلچیوں نے حالیہ مہینوں میں بلند ٹیرف کی دھمکی دے کر طے کیے تھے۔ مزید برآں اس فیصلے نے ان 175 ارب ڈالر کے مستقبل کو بھی غیریقینی بنادیا جو ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی درآمد کنندگان سے اس قانون کی بنیاد پر جمع کیے تھے جسے عدالت نے ان کی غلط تشریح قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے کہا کہ میں عدالت کے بعض اراکین سے شرمندہ ہوں، بالکل شرمندہ، کیونکہ انہوں نے ہمارے ملک کے حق میں صحیح کام کرنے کی ہمت نہیں دکھائی۔ انہوں نے یہ شکوہ بھی کیا کہ غیرممالک اس فیصلے پر نہال ہیں اور سڑکوں پر رقص کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بغیر کسی ثبوت کے یہ اشارہ بھی دیا کہ عدالت کی اکثریت نے غیر ملکی اثر و رسوخ کے آگے گھٹنے ٹیک دیے ہیں: وہ انتہائی غیر محب وطن اور ہمارے آئین کے ساتھ بے وفا ہیں۔ میری رائے میں عدالت غیر ملکی مفادات اور ایک ایسی سیاسی تحریک سے مغلوب ہوگئی ہے جو لوگوں کے تصور سے کہیں زیادہ چھوٹی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے جمعہ کو آنے والے اس فیصلے پر شدید برہمی کا اظہار کیا جس میں کہا گیا تھا کہ صدر کے پاس درآمدات پر یکطرفہ طور پر ٹیرف (درآمدی ڈیوٹی) عائد کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ انہوں نے ججز کی انفرادی طور پر مذمت کرتے ہوئے اس عالمی تجارتی جنگ کو جاری رکھنے کا عہد کیا جس نے ایک سال سے پوری دنیا کو اضطراب میں مبتلا کررکھا ہے۔</strong></p>
<p>ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس فیصلے سے بالکل نہیں گھبرائے, انہوں نے بار بار اس فیصلے کو احمقانہ قرار دیا اور تمام ممالک سے درآمدات پر فوری طور پر 10 فیصد نیا ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا جو موجودہ ٹیرف کے علاوہ ہوگا  اور پھر ان کے نفاذ کا اعلامیہ بھی جاری کر دیا۔ قانون انہیں 150 دن کے لیے زیادہ سے زیادہ 15 فیصد محصول عائد کرنے کی اجازت دیتا ہے حالانکہ اس پر قانونی چیلنجز بھی آسکتے ہیں۔</p>
<p>عدالت کے اس تاریخی  فیصلے نے اس اثرورسوخ کو الٹ کر رکھ دیا جسے ٹرمپ اور ان کے تجارتی ایلچی غیر ملکی حکومتوں کے ساتھ مذاکرات کی میز پر سفارتی تعلقات اور عالمی منڈیوں کی نئی تشکیل کے لیے استعمال کرتے رہے تھے۔</p>
<p>عدالت کے اس فیصلے نے عارضی طور پر امریکی اسٹاک مارکیٹ کے انڈیکسز میں تیزی کی لہر دوڑا دی لیکن مارکیٹ معمولی اضافے پر بند ہوئی کیونکہ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا تھا کہ جب تک ٹرمپ کے اگلے اقدامات واضح نہیں ہوجاتے، عالمی منڈیوں میں غیریقینی اور الجھن کی صورتحال برقرار رہے گی۔</p>
<p>عدالتی فیصلے کے چند گھنٹوں بعد ٹرمپ نے ان ٹیرف (محصولات) کو منسوخ کرنے کے ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے جنہیں عدالت نے کالعدم قرار دیا تھا، اور ساتھ ہی ایک ایسا اعلامیہ بھی جاری کیا جس کے تحت امریکہ میں درآمد کی جانے والی زیادہ تر اشیاء پر 150 دنوں کے لیے 10 فیصد ڈیوٹی عائد کردی گئی۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق، اس نئے ٹیکس سے مخصوص اشیاء کو استثنیٰ دیا گیا ہے جن میں اہم معدنیات، دھاتیں اور توانائی کی مصنوعات شامل ہیں۔</p>
<p><strong>تجارتی معاہدے اور سرکاری آمدن خطرے میں</strong></p>
<p>اس فیصلے نے ان تمام تجارتی معاہدوں کو شکوک وشبہات کی زد میں لا کھڑا کیا جو ٹرمپ کے ایلچیوں نے حالیہ مہینوں میں بلند ٹیرف کی دھمکی دے کر طے کیے تھے۔ مزید برآں اس فیصلے نے ان 175 ارب ڈالر کے مستقبل کو بھی غیریقینی بنادیا جو ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی درآمد کنندگان سے اس قانون کی بنیاد پر جمع کیے تھے جسے عدالت نے ان کی غلط تشریح قرار دیا ہے۔</p>
<p>ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے کہا کہ میں عدالت کے بعض اراکین سے شرمندہ ہوں، بالکل شرمندہ، کیونکہ انہوں نے ہمارے ملک کے حق میں صحیح کام کرنے کی ہمت نہیں دکھائی۔ انہوں نے یہ شکوہ بھی کیا کہ غیرممالک اس فیصلے پر نہال ہیں اور سڑکوں پر رقص کررہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے بغیر کسی ثبوت کے یہ اشارہ بھی دیا کہ عدالت کی اکثریت نے غیر ملکی اثر و رسوخ کے آگے گھٹنے ٹیک دیے ہیں: وہ انتہائی غیر محب وطن اور ہمارے آئین کے ساتھ بے وفا ہیں۔ میری رائے میں عدالت غیر ملکی مفادات اور ایک ایسی سیاسی تحریک سے مغلوب ہوگئی ہے جو لوگوں کے تصور سے کہیں زیادہ چھوٹی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283063</guid>
      <pubDate>Sat, 21 Feb 2026 15:15:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/YjP0DuJcZ3U/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/YjP0DuJcZ3U/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=YjP0DuJcZ3U"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
