<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:45:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:45:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جنوری میں بجلی کی پیداوار ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، ٹاپ لائن</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283058/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے ہفتے کو ایک نوٹ میں بتایا کہ جنوری 2026 میں بجلی کی پیداوار ریکارڈ 9,140 گیگا واٹ آور (جی ڈبلیو ایچ) تک پہنچ گئی جو کہ اب تک کی سب سے زیادہ ماہانہ پیداوار ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروکریج ہاؤس نے کہا کہ اس اضافے کی وجہ بجلی کے کم ٹیرف، صنعتی صارفین کی جانب سے اضافی کھپت اور کیپٹیو پاور پلانٹس پر لیوی (ٹیکس) بڑھنے کے باعث صنعتی صارفین کا نیشنل گرڈ پر منتقل ہونا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ خاص بات یہ ہے کہ حکومت نے صنعتی ترقی کو فروغ دینے کے لیے 2025 کے آخر میں انکریمینٹل کنزمپشن پیکیج (اضافی کھپت کے رعایتی پیکیج) کی منظوری دی تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/toplinesec/status/2025088097151844666?'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/toplinesec/status/2025088097151844666?"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ترجمان پاور ڈویژن نے جمعہ کو دسمبر 2025 اور جنوری 2026 کے لیے تین سالہ طویل مدتی صنعتی رعایتی پیکیج کے اعداد و شمار اور مجموعی جائزہ جاری کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ان دو مہینوں کے دوران 127,686 صنعتی صارفین اس پیکیج سے مستفید ہوئے جنہیں مجموعی طور پر 12.125 ارب روپے کا ریلیف ملا۔ یہ تعداد مجموعی 278,961 صنعتی صارفین کا 46 فیصد بنتی ہے۔ اس پیکیج کے تحت چھوٹی اور بڑی دونوں صنعتوں کو اضافی بجلی کے استعمال پر 10.3 روپے فی یونٹ کا فائدہ دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے بتایا کہ ان دو مہینوں کے دوران سرپلس پیکیج کے تحت صنعتوں کو مجموعی طور پر 1,176 ملین یونٹس بجلی فروخت کی گئی جو کل صنعتی بجلی کی فروخت کا 23.8 فیصد بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے ہفتے کو ایک نوٹ میں بتایا کہ جنوری 2026 میں بجلی کی پیداوار ریکارڈ 9,140 گیگا واٹ آور (جی ڈبلیو ایچ) تک پہنچ گئی جو کہ اب تک کی سب سے زیادہ ماہانہ پیداوار ہے۔</strong></p>
<p>بروکریج ہاؤس نے کہا کہ اس اضافے کی وجہ بجلی کے کم ٹیرف، صنعتی صارفین کی جانب سے اضافی کھپت اور کیپٹیو پاور پلانٹس پر لیوی (ٹیکس) بڑھنے کے باعث صنعتی صارفین کا نیشنل گرڈ پر منتقل ہونا تھا۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ خاص بات یہ ہے کہ حکومت نے صنعتی ترقی کو فروغ دینے کے لیے 2025 کے آخر میں انکریمینٹل کنزمپشن پیکیج (اضافی کھپت کے رعایتی پیکیج) کی منظوری دی تھی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/toplinesec/status/2025088097151844666?'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/toplinesec/status/2025088097151844666?"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ترجمان پاور ڈویژن نے جمعہ کو دسمبر 2025 اور جنوری 2026 کے لیے تین سالہ طویل مدتی صنعتی رعایتی پیکیج کے اعداد و شمار اور مجموعی جائزہ جاری کیا۔</p>
<p>سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ان دو مہینوں کے دوران 127,686 صنعتی صارفین اس پیکیج سے مستفید ہوئے جنہیں مجموعی طور پر 12.125 ارب روپے کا ریلیف ملا۔ یہ تعداد مجموعی 278,961 صنعتی صارفین کا 46 فیصد بنتی ہے۔ اس پیکیج کے تحت چھوٹی اور بڑی دونوں صنعتوں کو اضافی بجلی کے استعمال پر 10.3 روپے فی یونٹ کا فائدہ دیا گیا۔</p>
<p>ترجمان نے بتایا کہ ان دو مہینوں کے دوران سرپلس پیکیج کے تحت صنعتوں کو مجموعی طور پر 1,176 ملین یونٹس بجلی فروخت کی گئی جو کل صنعتی بجلی کی فروخت کا 23.8 فیصد بنتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283058</guid>
      <pubDate>Sat, 21 Feb 2026 13:44:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/21134140f67c5ab.webp" type="image/webp" medium="image" height="661" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/21134140f67c5ab.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
