<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 00:38:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 00:38:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غیر ملکی کمپنیوں کی جانب سے 7 ماہ میں 1.6 ارب ڈالر منافع بیرون ملک منتقل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283051/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ (جولائی تا جنوری) کے دوران پاکستان میں کام کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں نے منافع اور ڈیوڈنڈ کی مد میں 1.6 ارب امریکی ڈالر اپنے متعلقہ ممالک منتقل کئے جو کاروباری سرگرمیوں میں بہتری اور ادائیگیوں کے بہاؤ میں آسانی کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک  کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع اور ڈیوڈنڈ کی بیرون ملک منتقلی میں رواں مالی سال کے دوران 26 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر غیر ملکی سرمایہ کاروں نے رواں مالی سال جولائی تا جنوری 1.678 ارب ڈالر کا منافع اور ڈیویڈنڈ واپس بھیجا جبکہ پچھلے سال کی اسی مدت میں یہ رقم 1.329 ارب ڈالر تھی۔ یہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری  اور غیر ملکی پورٹ فولیو انویسٹمنٹ  دونوں پر حاصل ہونے والے منافع میں 349 ملین ڈالر کے اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان رقوم کی بیرون ملک منتقلی میں اضافے کی بنیادی وجہ بہتر معاشی اور صنعتی سرگرمیاں ہیں جس سے کمپنیوں کے منافع میں اضافہ ہوا اور ساتھ ہی منافع کی واپسی پر حکومتی پابندیوں کا خاتمہ بھی ایک اہم عوامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ شرحِ نمو کو مدنظر رکھتے ہوئے رواں مالی سال کے اختتام تک منافع اور ڈیوڈنڈ کی بیرون ملک منتقلی 2 ارب ڈالر کی حد سے تجاوز کر جانے کا قوی امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم تجزیہ کاروں نے اس بات پر زور دیا کہ منافع کی بیرونِ ملک منتقلی اور بڑے پیمانے پر قرضوں کی ادائیگی کے باوجود، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اپنے غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر بڑھانے میں کامیاب رہا ہے، جو فروری کے دوسرے ہفتے میں 16.2 ارب ڈالر کی سطح تک پہنچ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلی اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بیرون ملک منتقل ہونے والی رقوم میں ہونے والا تمام تر اضافہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری پر حاصل ہونے والے بلند منافع کی وجہ سے ہوا جو کل منتقلیوں کا تقریباً 96 فیصد ہے۔ اس کے برعکس پورٹ فولیو انویسٹمنٹ کے تحت منافع اور ڈیوڈنڈ کی ادائیگیوں میں کمی دیکھی گئی ہے جو کہ ایک گراوٹ کے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے حالانکہ ایکویٹی مارکیٹ کی کارکردگی بہتر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق جاری مالی سال کے پہلے سات ماہ کے دوران براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری پر حاصل ہونے والے منافع میں 28 فیصد کی نمایاں شرح نمو ریکارڈ کی گئی جس میں 353 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کاروں نے مالی سال 26 کے جولائی تا جنوری کے دوران براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی مد میں 1.618 ارب ڈالر کا منافع بیرون ملک بھیجا، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ رقم 1.265 ارب ڈالر تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیرِ جائزہ مدت کے دوران، فارن پورٹ فولیو انویسٹمنٹ کے تحت منافع کی منتقلی 60 ملین ڈالر رہی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں ریکارڈ کیے گئے 64.1 ملین ڈالر سے تھوڑی کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہانہ بنیاد پر جنوری 2026 میں غیر ملکی سرمایہ کاروں نے تقریباً 118.7 ملین ڈالر بیرونِ ملک منتقل کیے جس میں 118.5 ملین ڈالر ایف ڈی آئی کے منافع کے تحت اور 0.2 ملین ڈالر معمولی ایف پی آئی منتقلی شامل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ (جولائی تا جنوری) کے دوران پاکستان میں کام کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں نے منافع اور ڈیوڈنڈ کی مد میں 1.6 ارب امریکی ڈالر اپنے متعلقہ ممالک منتقل کئے جو کاروباری سرگرمیوں میں بہتری اور ادائیگیوں کے بہاؤ میں آسانی کی عکاسی کرتا ہے۔</strong></p>
<p>اسٹیٹ بینک  کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع اور ڈیوڈنڈ کی بیرون ملک منتقلی میں رواں مالی سال کے دوران 26 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔</p>
<p>مجموعی طور پر غیر ملکی سرمایہ کاروں نے رواں مالی سال جولائی تا جنوری 1.678 ارب ڈالر کا منافع اور ڈیویڈنڈ واپس بھیجا جبکہ پچھلے سال کی اسی مدت میں یہ رقم 1.329 ارب ڈالر تھی۔ یہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری  اور غیر ملکی پورٹ فولیو انویسٹمنٹ  دونوں پر حاصل ہونے والے منافع میں 349 ملین ڈالر کے اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان رقوم کی بیرون ملک منتقلی میں اضافے کی بنیادی وجہ بہتر معاشی اور صنعتی سرگرمیاں ہیں جس سے کمپنیوں کے منافع میں اضافہ ہوا اور ساتھ ہی منافع کی واپسی پر حکومتی پابندیوں کا خاتمہ بھی ایک اہم عوامل ہے۔</p>
<p>موجودہ شرحِ نمو کو مدنظر رکھتے ہوئے رواں مالی سال کے اختتام تک منافع اور ڈیوڈنڈ کی بیرون ملک منتقلی 2 ارب ڈالر کی حد سے تجاوز کر جانے کا قوی امکان ہے۔</p>
<p>تاہم تجزیہ کاروں نے اس بات پر زور دیا کہ منافع کی بیرونِ ملک منتقلی اور بڑے پیمانے پر قرضوں کی ادائیگی کے باوجود، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اپنے غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر بڑھانے میں کامیاب رہا ہے، جو فروری کے دوسرے ہفتے میں 16.2 ارب ڈالر کی سطح تک پہنچ گئے ہیں۔</p>
<p>تفصیلی اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بیرون ملک منتقل ہونے والی رقوم میں ہونے والا تمام تر اضافہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری پر حاصل ہونے والے بلند منافع کی وجہ سے ہوا جو کل منتقلیوں کا تقریباً 96 فیصد ہے۔ اس کے برعکس پورٹ فولیو انویسٹمنٹ کے تحت منافع اور ڈیوڈنڈ کی ادائیگیوں میں کمی دیکھی گئی ہے جو کہ ایک گراوٹ کے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے حالانکہ ایکویٹی مارکیٹ کی کارکردگی بہتر رہی ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق جاری مالی سال کے پہلے سات ماہ کے دوران براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری پر حاصل ہونے والے منافع میں 28 فیصد کی نمایاں شرح نمو ریکارڈ کی گئی جس میں 353 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا۔</p>
<p>سرمایہ کاروں نے مالی سال 26 کے جولائی تا جنوری کے دوران براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی مد میں 1.618 ارب ڈالر کا منافع بیرون ملک بھیجا، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ رقم 1.265 ارب ڈالر تھی۔</p>
<p>زیرِ جائزہ مدت کے دوران، فارن پورٹ فولیو انویسٹمنٹ کے تحت منافع کی منتقلی 60 ملین ڈالر رہی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں ریکارڈ کیے گئے 64.1 ملین ڈالر سے تھوڑی کم ہے۔</p>
<p>ماہانہ بنیاد پر جنوری 2026 میں غیر ملکی سرمایہ کاروں نے تقریباً 118.7 ملین ڈالر بیرونِ ملک منتقل کیے جس میں 118.5 ملین ڈالر ایف ڈی آئی کے منافع کے تحت اور 0.2 ملین ڈالر معمولی ایف پی آئی منتقلی شامل تھی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283051</guid>
      <pubDate>Sat, 21 Feb 2026 11:00:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رضوان بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/21103628d41e204.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/21103628d41e204.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
