<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 14:20:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 14:20:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں معمولی اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283041/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انٹربینک مارکیٹ میں جمعہ کو ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ ایک پیسے کی معمولی بہتری سے279.56 پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/02/2018061453f1706.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/02/2018061453f1706.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان 19 جنوری (جمعرات) کو رمضان المبارک کے پہلے روز کی مناسبت سے بند تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ بدھ کو مقامی کرنسی 279.57 پر بند ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل عالمی مالیاتی فنڈ نے کہا تھا کہ اس کے پروگرام کے تحت پاکستان کی اصلاحاتی کوششوں نے معیشت کو مستحکم کرنے اور اعتماد کی بحالی میں مدد دی ہے جس کی وجہ بہتر مالیاتی نظم و ضبط اور مضبوط بیرونی کھاتوں کو قرار دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن جولی کوزیک نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ای ایف ایف کے تحت پاکستان کی پالیسی سازی کی کوششوں نے معیشت کو مستحکم کرنے اور اعتماد کو بحال کرنے میں مدد دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا جمعہ کو امریکی ڈالر اکتوبر کے بعد سے اپنی بہترین ہفتہ وار کارکردگی دکھانے کے لیے تیار تھا جسے توقعات سے بہتر معاشی اعدادوشمار، فیڈرل ریزرو کے سخت گیر مانیٹری پالیسی کے نقطہ نظر اور امریکہ و ایران کے درمیان تناؤ کی وجہ سے مارکیٹ میں پائی جانے والی بے چینی نے تقویت بخشی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;راتوں رات امریکی ڈالر کو اس وقت مزید تقویت ملی جب اعداد و شمار سے یہ ظاہر ہوا کہ گزشتہ ہفتے بے روزگاری کے فوائد کے لیے نئی درخواستیں دینے والے امریکیوں کی تعداد توقع سے زیادہ کم رہی، جو لیبر مارکیٹ کے استحکام کی نشاندہی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو ایشیا کے ابتدائی کاروبار کے دوران ڈالر نے اپنی برتری برقرار رکھی جبکہ برطانوی پاؤنڈ ایک ماہ کی کم ترین سطح 1.3457 ڈالر کے قریب گراوٹ کا شکار رہا۔ پاؤنڈ ہفتہ وار بنیادوں پر تقریباً 1.5 فیصد کی بڑی کمی کی جانب گامزن تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورو بھی معمولی کمی کے ساتھ 0.02 فیصد کی کمی پر 1.1768 ڈالر پر رہا اور ہفتے کے لیے تقریباً 0.8 فیصد کی کمی کے راستے پر تھا، جس کی ایک وجہ یورپی سینٹرل بینک کی صدر کرسٹین لاگارڈ کے دورِ صدارت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر دیگر کرنسیوں کے ایک باسکٹ کے مقابلے میں جمعرات کے ایک ماہ کے بلند ترین سطح کے قریب رہا اور آخری قیمت 97.89 تھی۔ ہفتے کے اختتام تک ڈالر تقریباً 1 فیصد سے زیادہ کے ہفتہ وار فائدے کے راستے پر تھا، جو اسے گزشتہ چار ماہ میں سب سے مضبوط مظاہرہ فراہم کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل کی قیمتیں، جو کرنسی کے توازن کی ایک اہم نشانی ہیں، جمعہ کو چھ ماہ کے بلند ترین سطح کے قریب تجارت کر رہی تھیں اور یہ تین ہفتوں میں پہلی ہفتہ وار منافع کے لیے تیار تھیں، کیونکہ واشنگٹن نے کہا کہ تہران کو چند دنوں میں جوہری معاہدے پر نہ پہنچنے کی صورت میں نقصان اٹھانا پڑے گا، جس سے ممکنہ تنازعے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ کروڈ فیوچرز 25 سینٹ یا 0.35 فیصد کمی کے ساتھ 71.41 ڈالر فی بیرل پر تجارت کر رہی تھی جبکہ یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمڈیٹ کروڈ 30 سینٹ یا 0.45 فیصد کمی کے ساتھ 66.13 ڈالر پر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کی شرح جمعہ کو:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قیمت خرید: 279.56 روپے&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قیمت فروخت: 279.76 روپے&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انٹربینک مارکیٹ میں جمعہ کو ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</strong></p>
<p>کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ ایک پیسے کی معمولی بہتری سے279.56 پر بند ہوا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/02/2018061453f1706.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/02/2018061453f1706.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان 19 جنوری (جمعرات) کو رمضان المبارک کے پہلے روز کی مناسبت سے بند تھا۔</p>
<p>یاد رہے کہ بدھ کو مقامی کرنسی 279.57 پر بند ہوئی تھی۔</p>
<p>اس سے قبل عالمی مالیاتی فنڈ نے کہا تھا کہ اس کے پروگرام کے تحت پاکستان کی اصلاحاتی کوششوں نے معیشت کو مستحکم کرنے اور اعتماد کی بحالی میں مدد دی ہے جس کی وجہ بہتر مالیاتی نظم و ضبط اور مضبوط بیرونی کھاتوں کو قرار دیا گیا۔</p>
<p>آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن جولی کوزیک نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ای ایف ایف کے تحت پاکستان کی پالیسی سازی کی کوششوں نے معیشت کو مستحکم کرنے اور اعتماد کو بحال کرنے میں مدد دی ہے۔</p>
<p>دریں اثنا جمعہ کو امریکی ڈالر اکتوبر کے بعد سے اپنی بہترین ہفتہ وار کارکردگی دکھانے کے لیے تیار تھا جسے توقعات سے بہتر معاشی اعدادوشمار، فیڈرل ریزرو کے سخت گیر مانیٹری پالیسی کے نقطہ نظر اور امریکہ و ایران کے درمیان تناؤ کی وجہ سے مارکیٹ میں پائی جانے والی بے چینی نے تقویت بخشی۔</p>
<p>راتوں رات امریکی ڈالر کو اس وقت مزید تقویت ملی جب اعداد و شمار سے یہ ظاہر ہوا کہ گزشتہ ہفتے بے روزگاری کے فوائد کے لیے نئی درخواستیں دینے والے امریکیوں کی تعداد توقع سے زیادہ کم رہی، جو لیبر مارکیٹ کے استحکام کی نشاندہی کرتا ہے۔</p>
<p>جمعہ کو ایشیا کے ابتدائی کاروبار کے دوران ڈالر نے اپنی برتری برقرار رکھی جبکہ برطانوی پاؤنڈ ایک ماہ کی کم ترین سطح 1.3457 ڈالر کے قریب گراوٹ کا شکار رہا۔ پاؤنڈ ہفتہ وار بنیادوں پر تقریباً 1.5 فیصد کی بڑی کمی کی جانب گامزن تھا۔</p>
<p>یورو بھی معمولی کمی کے ساتھ 0.02 فیصد کی کمی پر 1.1768 ڈالر پر رہا اور ہفتے کے لیے تقریباً 0.8 فیصد کی کمی کے راستے پر تھا، جس کی ایک وجہ یورپی سینٹرل بینک کی صدر کرسٹین لاگارڈ کے دورِ صدارت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال بھی ہے۔</p>
<p>ڈالر دیگر کرنسیوں کے ایک باسکٹ کے مقابلے میں جمعرات کے ایک ماہ کے بلند ترین سطح کے قریب رہا اور آخری قیمت 97.89 تھی۔ ہفتے کے اختتام تک ڈالر تقریباً 1 فیصد سے زیادہ کے ہفتہ وار فائدے کے راستے پر تھا، جو اسے گزشتہ چار ماہ میں سب سے مضبوط مظاہرہ فراہم کرے گا۔</p>
<p>تیل کی قیمتیں، جو کرنسی کے توازن کی ایک اہم نشانی ہیں، جمعہ کو چھ ماہ کے بلند ترین سطح کے قریب تجارت کر رہی تھیں اور یہ تین ہفتوں میں پہلی ہفتہ وار منافع کے لیے تیار تھیں، کیونکہ واشنگٹن نے کہا کہ تہران کو چند دنوں میں جوہری معاہدے پر نہ پہنچنے کی صورت میں نقصان اٹھانا پڑے گا، جس سے ممکنہ تنازعے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔</p>
<p>برینٹ کروڈ فیوچرز 25 سینٹ یا 0.35 فیصد کمی کے ساتھ 71.41 ڈالر فی بیرل پر تجارت کر رہی تھی جبکہ یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمڈیٹ کروڈ 30 سینٹ یا 0.45 فیصد کمی کے ساتھ 66.13 ڈالر پر تھا۔</p>
<p>انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کی شرح جمعہ کو:</p>
<p>قیمت خرید: 279.56 روپے</p>
<p>قیمت فروخت: 279.76 روپے</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283041</guid>
      <pubDate>Fri, 20 Feb 2026 18:25:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/201527392b5633b.webp" type="image/webp" medium="image" height="360" width="720">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/201527392b5633b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
