<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکہ نے اقوام متحدہ کو واجب الادا 4 ارب ڈالر میں سے 160 ملین ڈالر ادا کر دیے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283034/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اقوامِ متحدہ کے ترجمان نے جمعرات کو بتایا کہ امریکہ نے اقوام متحدہ کو واجب الادا 4 ارب ڈالر سے زائد رقم میں سے تقریباً 160 ملین ڈالر ادا کر دیے ہیں۔ یہ ادائیگی ایسے وقت میں کی گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بورڈ آف پیس نامی اقدام کے پہلے اجلاس کی میزبانی کی، جس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اقوامِ متحدہ کے کردار کو کمزور کر سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکہ کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے باقاعدہ بجٹ کے بقایا جات کی مد میں 160 ملین ڈالر کی جزوی ادائیگی موصول ہوئی۔ افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن اقوامِ متحدہ کو مضبوط بنانے کے لیے مالی تعاون فراہم کرے گا اور اسے مؤثر ادارہ بنانے میں مدد دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ اقوامِ متحدہ کے بجٹ میں سب سے بڑا حصہ دار ہے، تاہم ٹرمپ انتظامیہ کے دوران باقاعدہ اور امن مشنز کے بجٹ کی لازمی ادائیگیاں روک دی گئی تھیں جبکہ مختلف اداروں کو دی جانے والی رضاکارانہ فنڈنگ میں بھی نمایاں کمی کی گئی۔ امریکہ درجنوں اقوامِ متحدہ کے اداروں سے علیحدگی اختیار کر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے حکام کے مطابق فروری کے آغاز تک امریکہ پر باقاعدہ بجٹ کی مد میں 2.19 ارب ڈالر واجب الادا تھے، جو عالمی سطح پر بقایا جات کا 95 فیصد سے زیادہ بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ امن مشنز کے لیے 2.4 ارب ڈالر اور ٹریبونلز کے لیے 43.6 ملین ڈالر بھی واجب الادا ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر متعدد ممالک، خصوصاً گلوبل ساؤتھ کی بڑی طاقتیں اور مغربی اتحادی، ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شمولیت سے گریزاں ہیں۔ م   اہرین کا کہنا ہے کہ یہ بورڈ اقوامِ متحدہ کے دائرہ کار کو متاثر کر سکتا ہے اور اس میں فلسطینی نمائندگی نہ ہونے پر بھی تنقید کی جا رہی ہے۔ اجلاس میں اقوامِ متحدہ کا کوئی نمائندہ موجود نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اقوامِ متحدہ کے ترجمان نے جمعرات کو بتایا کہ امریکہ نے اقوام متحدہ کو واجب الادا 4 ارب ڈالر سے زائد رقم میں سے تقریباً 160 ملین ڈالر ادا کر دیے ہیں۔ یہ ادائیگی ایسے وقت میں کی گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بورڈ آف پیس نامی اقدام کے پہلے اجلاس کی میزبانی کی، جس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اقوامِ متحدہ کے کردار کو کمزور کر سکتا ہے۔</strong></p>
<p>ترجمان کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکہ کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے باقاعدہ بجٹ کے بقایا جات کی مد میں 160 ملین ڈالر کی جزوی ادائیگی موصول ہوئی۔ افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن اقوامِ متحدہ کو مضبوط بنانے کے لیے مالی تعاون فراہم کرے گا اور اسے مؤثر ادارہ بنانے میں مدد دے گا۔</p>
<p>امریکہ اقوامِ متحدہ کے بجٹ میں سب سے بڑا حصہ دار ہے، تاہم ٹرمپ انتظامیہ کے دوران باقاعدہ اور امن مشنز کے بجٹ کی لازمی ادائیگیاں روک دی گئی تھیں جبکہ مختلف اداروں کو دی جانے والی رضاکارانہ فنڈنگ میں بھی نمایاں کمی کی گئی۔ امریکہ درجنوں اقوامِ متحدہ کے اداروں سے علیحدگی اختیار کر چکا ہے۔</p>
<p>اقوام متحدہ کے حکام کے مطابق فروری کے آغاز تک امریکہ پر باقاعدہ بجٹ کی مد میں 2.19 ارب ڈالر واجب الادا تھے، جو عالمی سطح پر بقایا جات کا 95 فیصد سے زیادہ بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ امن مشنز کے لیے 2.4 ارب ڈالر اور ٹریبونلز کے لیے 43.6 ملین ڈالر بھی واجب الادا ہیں۔</p>
<p>ادھر متعدد ممالک، خصوصاً گلوبل ساؤتھ کی بڑی طاقتیں اور مغربی اتحادی، ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شمولیت سے گریزاں ہیں۔ م   اہرین کا کہنا ہے کہ یہ بورڈ اقوامِ متحدہ کے دائرہ کار کو متاثر کر سکتا ہے اور اس میں فلسطینی نمائندگی نہ ہونے پر بھی تنقید کی جا رہی ہے۔ اجلاس میں اقوامِ متحدہ کا کوئی نمائندہ موجود نہیں تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283034</guid>
      <pubDate>Fri, 20 Feb 2026 14:17:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/20141542bc8812a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/20141542bc8812a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
