<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:14:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:14:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بیرونی سرمایہ کاری میں گراوٹ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283031/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے حال ہی میں جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) جولائی تا جنوری 2024-25  میں 1,429 ملین ڈالر سے کم ہو کر رواں مالی سال کی اسی مدت میں 694 ملین ڈالر رہ گئی ہے، جو کہ 51 فیصد کی بڑی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں بگڑتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ ادارہ شماریات کی جانب سے اپنی جنوری 2026 کی اپ ڈیٹ اور آؤٹ لک میں جاری کردہ جولائی تا دسمبر کے اعدادوشمار میں 43 فیصد کمی نوٹ کی گئی تھی جو جولائی تا دسمبر 2024-25 کے 1,424.8 ملین ڈالر (جس میں اسٹیٹ بینک کے ڈیٹا سے 4.2 ملین ڈالر کا فرق موجود ہے) سے کم ہوکر اس سال اسی مدت میں 808.1 ملین ڈالر رہ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق پورٹ فولیو سرمایہ کاری (غیر ملکی) میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی  جو جولائی تا دسمبر 2025 میں منفی 221.8 ملین ڈالر تھی اور رواں سال اسی مدت میں مزید کم ہو کر منفی 225.1 ملین ڈالر ہو گئی۔ یہ کمی اس حقیقت کے باوجود سامنے آئی ہے کہ پاکستان خطے میں بلند ترین ڈسکاؤنٹ ریٹ (10.5 فیصد) پیش کرتا ہے، جو چین اور بھارت کے مقابلے میں نصف سے بھی کم شرح کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے، اور عموماً پورٹ فولیو سرمایہ کاری کے لیے ایک بڑی کشش سمجھا جاتا ہے۔ یہ صورتحال اس کے باوجود ہے کہ وقتاً فوقتاً پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کے رجحان سے متعلق حیران کن دعوے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوال یہ ہے کہ اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے خاص طور پر ایف ڈی آئی  کو راغب کرنے کے لیے کیے گئے بھرپور پالیسی فیصلوں کے باوجود اس میں کمی کیوں آ رہی ہے؟ ان فیصلوں میں قومی اور شعبہ جاتی سطح پر اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کا قیام بھی شامل ہے، جس میں اعلیٰ ترین سول (وفاقی و صوبائی) اور عسکری حکام نمائندگی کر رہے ہیں تاکہ ممکنہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے ہم آہنگی کو یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان فیصلوں کو بدلتی ہوئی عالمی جیو پولیٹکس، بالخصوص ایک کثیر قطبی دنیا  کے ابھرنے اور خاص طور پر خطے کی صورتحال نے کافی تقویت بخشی ہے۔ خطے کے حالات امریکہ کی مکمل حمایت یافتہ اسرائیلی بالادستی  کے مظاہرے کے بعد تبدیل ہوئے، جس کے نتیجے میں خطے کے اہم ممالک نے پاکستان کے ساتھ سیکورٹی معاہدوں کی کوشش کی، کیونکہ پاکستان واحد ایٹمی طاقت حامل مسلم ملک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سوال کا جواب اس حقیقت میں مضمر ہے کہ پاکستان کی معیشت اب بھی انتہائی نازک حالت میں ہے اور سرمایہ کاری کے فیصلے سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر نہیں بلکہ خالصتاً معاشی بنیادوں پر کیے جاتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں کوئی ملک ممکنہ خطرات کے پیش نظر سیکیورٹی معاہدہ تو کر سکتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس ملک کی حکومت یا نجی شعبہ وہاں سرمایہ کاری کا فیصلہ بھی کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ سرمایہ کار کے خطرے کے اندازے (رسک پرسیپشن) پر منحصر ہوتا ہے، جس کا جائزہ سیاسی عدم استحکام اور معاشی کمزوری کی بنیاد پر لیا جاتا ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ گرانٹ امداد اور/یا سابقہ قرضوں کی معافی کا براہِ راست تعلق سرمایہ کار کے تاثر سے نہیں ہوتا، اور تاحال اس بات کے شواہد موجود نہیں کہ حکومتِ پاکستان نے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات میں اس پہلو کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتی دعووں کے برعکس، پاکستان بدستور معاشی نزاکت کے شکنجے میں ہے جس کی عکاسی اس حقیقت سے ہوتی ہے کہ 16 ارب ڈالر کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر، تمام سابقہ قرضوں پر واجب الادا سالانہ سود سے بھی کم ہیں۔ اس رقم میں سے 12 ارب ڈالر سے زیادہ کے ذخائر تین دوست ممالک کے رول اوورز ہیں جن کی سالانہ بنیادوں پر منظوری لینا پڑتی ہے جبکہ بقیہ رقم بھی بیرونی ذرائع (کثیر جہتی، دو طرفہ اور تجارتی قرضوں) سے مستعار لی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا تجارتی خسارہ برقرار ہے، اگرچہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے بھیجی گئی ترسیلاتِ زر اس خسارے کا ایک حصہ پورا کر رہی ہیں، لیکن یہ مکمل خسارے کو ختم کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ طے شدہ سخت ترین سکڑتی ہوئی  مانیٹری اور مالیاتی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے جو کہ معاشی ترقی کی مخالف ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بجلی اور ٹیکس کے ذیلی شعبے بھی ناقص کارکردگی کا شکار ہیں جہاں بجلی کا شعبہ گردشی قرضے  کی ادائیگی کے لیے بھاری رقوم ادھار لے رہا ہے جس کا سود صارفین کو ادا کرنا پڑتا ہے، وہیں ٹیکس کا شعبہ مسلسل بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار کر رہا ہے جن کا بوجھ امیروں کے مقابلے میں غریبوں پر زیادہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حاصلِ کلام یہ ہے کہ موجودہ پالیسیاں نہ تو ہمہ گیر ہیں اور نہ ہی ان سے معیشت کے مستحکم ہونے کا امکان ہے، کیونکہ معیشت کی بحالی کے لیے ساختی اصلاحات  اور جاری اخراجات میں بڑے پیمانے پر کمی انتہائی ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے حال ہی میں جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) جولائی تا جنوری 2024-25  میں 1,429 ملین ڈالر سے کم ہو کر رواں مالی سال کی اسی مدت میں 694 ملین ڈالر رہ گئی ہے، جو کہ 51 فیصد کی بڑی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔</p>
<p>یہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں بگڑتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ ادارہ شماریات کی جانب سے اپنی جنوری 2026 کی اپ ڈیٹ اور آؤٹ لک میں جاری کردہ جولائی تا دسمبر کے اعدادوشمار میں 43 فیصد کمی نوٹ کی گئی تھی جو جولائی تا دسمبر 2024-25 کے 1,424.8 ملین ڈالر (جس میں اسٹیٹ بینک کے ڈیٹا سے 4.2 ملین ڈالر کا فرق موجود ہے) سے کم ہوکر اس سال اسی مدت میں 808.1 ملین ڈالر رہ گئی۔</p>
<p>یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق پورٹ فولیو سرمایہ کاری (غیر ملکی) میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی  جو جولائی تا دسمبر 2025 میں منفی 221.8 ملین ڈالر تھی اور رواں سال اسی مدت میں مزید کم ہو کر منفی 225.1 ملین ڈالر ہو گئی۔ یہ کمی اس حقیقت کے باوجود سامنے آئی ہے کہ پاکستان خطے میں بلند ترین ڈسکاؤنٹ ریٹ (10.5 فیصد) پیش کرتا ہے، جو چین اور بھارت کے مقابلے میں نصف سے بھی کم شرح کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے، اور عموماً پورٹ فولیو سرمایہ کاری کے لیے ایک بڑی کشش سمجھا جاتا ہے۔ یہ صورتحال اس کے باوجود ہے کہ وقتاً فوقتاً پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کے رجحان سے متعلق حیران کن دعوے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔</p>
<p>سوال یہ ہے کہ اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے خاص طور پر ایف ڈی آئی  کو راغب کرنے کے لیے کیے گئے بھرپور پالیسی فیصلوں کے باوجود اس میں کمی کیوں آ رہی ہے؟ ان فیصلوں میں قومی اور شعبہ جاتی سطح پر اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کا قیام بھی شامل ہے، جس میں اعلیٰ ترین سول (وفاقی و صوبائی) اور عسکری حکام نمائندگی کر رہے ہیں تاکہ ممکنہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے ہم آہنگی کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p>ان فیصلوں کو بدلتی ہوئی عالمی جیو پولیٹکس، بالخصوص ایک کثیر قطبی دنیا  کے ابھرنے اور خاص طور پر خطے کی صورتحال نے کافی تقویت بخشی ہے۔ خطے کے حالات امریکہ کی مکمل حمایت یافتہ اسرائیلی بالادستی  کے مظاہرے کے بعد تبدیل ہوئے، جس کے نتیجے میں خطے کے اہم ممالک نے پاکستان کے ساتھ سیکورٹی معاہدوں کی کوشش کی، کیونکہ پاکستان واحد ایٹمی طاقت حامل مسلم ملک ہے۔</p>
<p>اس سوال کا جواب اس حقیقت میں مضمر ہے کہ پاکستان کی معیشت اب بھی انتہائی نازک حالت میں ہے اور سرمایہ کاری کے فیصلے سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر نہیں بلکہ خالصتاً معاشی بنیادوں پر کیے جاتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں کوئی ملک ممکنہ خطرات کے پیش نظر سیکیورٹی معاہدہ تو کر سکتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس ملک کی حکومت یا نجی شعبہ وہاں سرمایہ کاری کا فیصلہ بھی کرے گا۔</p>
<p>یہ فیصلہ سرمایہ کار کے خطرے کے اندازے (رسک پرسیپشن) پر منحصر ہوتا ہے، جس کا جائزہ سیاسی عدم استحکام اور معاشی کمزوری کی بنیاد پر لیا جاتا ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ گرانٹ امداد اور/یا سابقہ قرضوں کی معافی کا براہِ راست تعلق سرمایہ کار کے تاثر سے نہیں ہوتا، اور تاحال اس بات کے شواہد موجود نہیں کہ حکومتِ پاکستان نے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات میں اس پہلو کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا ہو۔</p>
<p>حکومتی دعووں کے برعکس، پاکستان بدستور معاشی نزاکت کے شکنجے میں ہے جس کی عکاسی اس حقیقت سے ہوتی ہے کہ 16 ارب ڈالر کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر، تمام سابقہ قرضوں پر واجب الادا سالانہ سود سے بھی کم ہیں۔ اس رقم میں سے 12 ارب ڈالر سے زیادہ کے ذخائر تین دوست ممالک کے رول اوورز ہیں جن کی سالانہ بنیادوں پر منظوری لینا پڑتی ہے جبکہ بقیہ رقم بھی بیرونی ذرائع (کثیر جہتی، دو طرفہ اور تجارتی قرضوں) سے مستعار لی گئی ہے۔</p>
<p>پاکستان کا تجارتی خسارہ برقرار ہے، اگرچہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے بھیجی گئی ترسیلاتِ زر اس خسارے کا ایک حصہ پورا کر رہی ہیں، لیکن یہ مکمل خسارے کو ختم کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔</p>
<p>حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ طے شدہ سخت ترین سکڑتی ہوئی  مانیٹری اور مالیاتی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے جو کہ معاشی ترقی کی مخالف ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بجلی اور ٹیکس کے ذیلی شعبے بھی ناقص کارکردگی کا شکار ہیں جہاں بجلی کا شعبہ گردشی قرضے  کی ادائیگی کے لیے بھاری رقوم ادھار لے رہا ہے جس کا سود صارفین کو ادا کرنا پڑتا ہے، وہیں ٹیکس کا شعبہ مسلسل بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار کر رہا ہے جن کا بوجھ امیروں کے مقابلے میں غریبوں پر زیادہ ہوتا ہے۔</p>
<p>حاصلِ کلام یہ ہے کہ موجودہ پالیسیاں نہ تو ہمہ گیر ہیں اور نہ ہی ان سے معیشت کے مستحکم ہونے کا امکان ہے، کیونکہ معیشت کی بحالی کے لیے ساختی اصلاحات  اور جاری اخراجات میں بڑے پیمانے پر کمی انتہائی ناگزیر ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283031</guid>
      <pubDate>Fri, 20 Feb 2026 19:15:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/2015202872a200b.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/2015202872a200b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
