<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:37:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:37:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی ڈی ایف سی پاکستان میں سرمایہ کاری کے دائرہ کار میں توسیع کا خواہاں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283027/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن (ڈی ایف سی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) بینجمن بلیک نے جمعہ کو پاکستان میں ادارے کی سرگرمیوں کا دائرہ کار بڑھانے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ ان کا یہ بیان دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری کے شعبے میں مزید گہرے تعلقات کے امکانات کی نشاندہی کرتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے کے مطابق یہ پیشرفت آج واشنگٹن ڈی سی میں وزیرِاعظم شہباز شریف کے ساتھ ان کی ملاقات کے دوران سامنے آئی۔ ان کے ہمراہ ڈی ایف سی کے ہیڈ آف انویسٹمنٹ کونر کولمین اور ادارے کی اعلیٰ قیادت بھی موجود تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے دوران بینجمن بلیک نے ڈی ایف سی کی اسٹریٹجک ترجیحات اور جاری منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی اور ملک میں ترقیاتی مالیاتی اقدامات کو وسعت دینے کے ایجنسی کے ارادے پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ڈی ایف سی بشمول اپنے حالیہ دوبارہ ملنے والے قانونی اختیار کے تناظر میں شراکت دار ممالک میں اقتصادی ترقی کی حمایت کے لیے مکمل طور پر تیار اور مستحکم پوزیشن میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ اعظم نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی اقتصادی شراکت داری کو سراہا اور دونوں ممالک کے نجی اداروں کے درمیان مشترکہ منصوبوں کے فروغ میں ڈی ایف سی کے کلیدی کردار کا اعتراف کیا، جو کہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ اعظم نے پاکستان کے تیزی سے بہتر ہوتے ہوئے میکرو اکنامک اشاریوں ، ڈھانچہ جاتی اصلاحات کو مزید گہرا کرنے کے لیے حکومت کے پختہ عزم اور سرمایہ کاری کے سازگار ماحول پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ڈی ایف سی کو توانائی، معدنیات و کان کنی، زراعت اور آئی ٹی کے شعبوں میں منصوبوں کے لیے اپنی مالی معاونت بڑھانے کی دعوت دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ اعظم نے ڈی ایف سی کے 1 ارب ڈالر سے زائد کے موجودہ پورٹ فولیو (سرمایہ کاری کے حجم) کو سراہا اور دونوں ممالک کی معاشی ترجیحات کے درمیان ہم آہنگی کی نشاندہی کی جو دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان (بی ٹو بی) روابط بڑھانے کے لیے باہمی طور پر فائدہ مند مواقع فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ اعظم نے ڈی ایف سی کو اپریل میں اسلام آباد میں ہونے والی آئندہ منرلز کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن (ڈی ایف سی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) بینجمن بلیک نے جمعہ کو پاکستان میں ادارے کی سرگرمیوں کا دائرہ کار بڑھانے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ ان کا یہ بیان دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری کے شعبے میں مزید گہرے تعلقات کے امکانات کی نشاندہی کرتا ہے۔</strong></p>
<p>اعلامیے کے مطابق یہ پیشرفت آج واشنگٹن ڈی سی میں وزیرِاعظم شہباز شریف کے ساتھ ان کی ملاقات کے دوران سامنے آئی۔ ان کے ہمراہ ڈی ایف سی کے ہیڈ آف انویسٹمنٹ کونر کولمین اور ادارے کی اعلیٰ قیادت بھی موجود تھی۔</p>
<p>ملاقات کے دوران بینجمن بلیک نے ڈی ایف سی کی اسٹریٹجک ترجیحات اور جاری منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی اور ملک میں ترقیاتی مالیاتی اقدامات کو وسعت دینے کے ایجنسی کے ارادے پر زور دیا۔</p>
<p>انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ڈی ایف سی بشمول اپنے حالیہ دوبارہ ملنے والے قانونی اختیار کے تناظر میں شراکت دار ممالک میں اقتصادی ترقی کی حمایت کے لیے مکمل طور پر تیار اور مستحکم پوزیشن میں ہے۔</p>
<p>وزیرِ اعظم نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی اقتصادی شراکت داری کو سراہا اور دونوں ممالک کے نجی اداروں کے درمیان مشترکہ منصوبوں کے فروغ میں ڈی ایف سی کے کلیدی کردار کا اعتراف کیا، جو کہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔</p>
<p>وزیرِ اعظم نے پاکستان کے تیزی سے بہتر ہوتے ہوئے میکرو اکنامک اشاریوں ، ڈھانچہ جاتی اصلاحات کو مزید گہرا کرنے کے لیے حکومت کے پختہ عزم اور سرمایہ کاری کے سازگار ماحول پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ڈی ایف سی کو توانائی، معدنیات و کان کنی، زراعت اور آئی ٹی کے شعبوں میں منصوبوں کے لیے اپنی مالی معاونت بڑھانے کی دعوت دی۔</p>
<p>وزیرِ اعظم نے ڈی ایف سی کے 1 ارب ڈالر سے زائد کے موجودہ پورٹ فولیو (سرمایہ کاری کے حجم) کو سراہا اور دونوں ممالک کی معاشی ترجیحات کے درمیان ہم آہنگی کی نشاندہی کی جو دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان (بی ٹو بی) روابط بڑھانے کے لیے باہمی طور پر فائدہ مند مواقع فراہم کرتی ہے۔</p>
<p>وزیرِ اعظم نے ڈی ایف سی کو اپریل میں اسلام آباد میں ہونے والی آئندہ منرلز کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283027</guid>
      <pubDate>Fri, 20 Feb 2026 11:23:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/201106344b2896c.webp" type="image/webp" medium="image" height="854" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/201106344b2896c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
