<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Energy</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:01:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:01:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کی ایران کو سنگین تنائج کی دھمکی، خام تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283018/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے خدشات کے باعث جمعہ کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ واشنگٹن کی جانب سے تہران کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر اس نے چند دنوں میں اپنے جوہری پروگرام سے متعلق معاہدہ نہ کیا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کی قیمت 21 سینٹ یا 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ 71.87 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ(ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 23 سینٹ یا 0.4 فیصد بڑھ کر 66.66 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔ ایک روز قبل قیمتیں گزشتہ چھ ماہ کی بلند ترین سطح پر بند ہوئی تھیں، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر معاہدہ نہ کیا تو انتہائی برے نتائج سامنے آئیں گے۔ انہوں نے ایران کو 10 سے 15 دن کی مہلت دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایران نے روس کے ساتھ مشترکہ بحری مشقوں کا منصوبہ بنایا ہے۔ یہ اعلان آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر فوجی مشقوں کے لیے بند کرنے کے چند دن بعد سامنے آیا۔ ایران خلیج میں تیل سے مالا مال عرب جزیرہ نما کے مقابل واقع ہے اور آبنائے ہرمز سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی گزرتی ہے۔ اس خطے میں کسی بھی تنازع سے عالمی منڈی میں تیل کی رسد متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل کی قیمتوں کو اس وقت عالمی سطح پر خام تیل کے ذخائر میں کمی اور بڑے پیداواری ممالک کی برآمدات میں محدودیت سے بھی سہارا ملا ہے۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق امریکا میں خام تیل کے ذخائر میں 9 ملین بیرل کی کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ ریفائنری استعمال اور برآمدات میں اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح سعودی عرب کی تیل برآمدات دسمبر میں کم ہو کر 6.988 ملین بیرل یومیہ رہ گئیں، جو ستمبر کے بعد کم ترین سطح ہے۔ دوسری جانب جاپان میں افراطِ زر کی سالانہ بنیادی شرح جنوری میں 2 فیصد تک سست پڑ گئی، جس سے شرح سود میں ممکنہ اضافے کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔ کم شرح سود کو عموماً تیل کی قیمتوں کے لیے معاون سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے خدشات کے باعث جمعہ کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ واشنگٹن کی جانب سے تہران کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر اس نے چند دنوں میں اپنے جوہری پروگرام سے متعلق معاہدہ نہ کیا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔</strong></p>
<p>برینٹ خام تیل کی قیمت 21 سینٹ یا 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ 71.87 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ(ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 23 سینٹ یا 0.4 فیصد بڑھ کر 66.66 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔ ایک روز قبل قیمتیں گزشتہ چھ ماہ کی بلند ترین سطح پر بند ہوئی تھیں، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر معاہدہ نہ کیا تو انتہائی برے نتائج سامنے آئیں گے۔ انہوں نے ایران کو 10 سے 15 دن کی مہلت دی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب ایران نے روس کے ساتھ مشترکہ بحری مشقوں کا منصوبہ بنایا ہے۔ یہ اعلان آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر فوجی مشقوں کے لیے بند کرنے کے چند دن بعد سامنے آیا۔ ایران خلیج میں تیل سے مالا مال عرب جزیرہ نما کے مقابل واقع ہے اور آبنائے ہرمز سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی گزرتی ہے۔ اس خطے میں کسی بھی تنازع سے عالمی منڈی میں تیل کی رسد متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔</p>
<p>تیل کی قیمتوں کو اس وقت عالمی سطح پر خام تیل کے ذخائر میں کمی اور بڑے پیداواری ممالک کی برآمدات میں محدودیت سے بھی سہارا ملا ہے۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق امریکا میں خام تیل کے ذخائر میں 9 ملین بیرل کی کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ ریفائنری استعمال اور برآمدات میں اضافہ ہوا۔</p>
<p>اسی طرح سعودی عرب کی تیل برآمدات دسمبر میں کم ہو کر 6.988 ملین بیرل یومیہ رہ گئیں، جو ستمبر کے بعد کم ترین سطح ہے۔ دوسری جانب جاپان میں افراطِ زر کی سالانہ بنیادی شرح جنوری میں 2 فیصد تک سست پڑ گئی، جس سے شرح سود میں ممکنہ اضافے کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔ کم شرح سود کو عموماً تیل کی قیمتوں کے لیے معاون سمجھا جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283018</guid>
      <pubDate>Fri, 20 Feb 2026 08:58:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/20085710e72b4af.webp" type="image/webp" medium="image" height="640" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/20085710e72b4af.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
