<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:43:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:43:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>زیر التوا نیٹ میٹرنگ درخواستیں پرانے ضوابط کے تحت نمٹانے کی ہدایت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283017/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن سردار اویس احمد خان لغاری نے 8 فروری 2026 تک جمع کرائی گئی نیٹ میٹرنگ درخواستوں کے حوالے سے اہم فیصلہ کرتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ ان تمام درخواستوں کو سابقہ ریگولیٹری فریم ورک کے تحت نمٹایا جائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن کے مطابق وزیر توانائی نے تمام بجلی تقسیم کار کمپنیوں(ڈسکوز) بشمول کے الیکٹرک کو ہدایت کی ہے کہ 8 فروری تک موصول ہونے والی نیٹ میٹرنگ درخواستوں پر پرانے ضوابط کے مطابق کارروائی کی جائے اور درخواست گزاروں کو سہولت فراہم کی جائے۔ انہوں نے اس فیصلے پر فوری عملدرآمد کی بھی ہدایت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ 8 فروری تک ملک بھر کی تمام ڈسکوز اور کے الیکٹرک کو مجموعی طور پر 5,165 نیٹ میٹرنگ درخواستیں موصول ہو چکی تھیں۔ ان درخواستوں کے نتیجے میں قومی گرڈ میں 250.822 میگاواٹ بجلی شامل ہونے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن کے بیان میں کہا گیا کہ وفاقی وزیر کے فیصلے سے زیر التوا درخواستوں سے متعلق غیر یقینی صورتحال ختم ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سردار اویس لغاری نے مزید ہدایت کی کہ تمام درخواستوں کی جانچ پڑتال اور منظوری کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ صارفین کو شکایات کے اندراج کے لیے ہیلپ لائن 118 پر رابطہ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے اپنے نظرثانی شدہ پروزیومر ریگولیشنز 2026 میں پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ وہ صارفین جنہوں نے 9 فروری 2026 سے قبل اپنی درخواستیں متعلقہ کمپنیوں کو جمع کرا دی تھیں، انہیں قابلِ اطلاق فریم ورک کے تحت منظوری دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم نظرثانی شدہ نیٹ میٹرنگ ضوابط کے نوٹیفکیشن کے باوجود وہ صارفین جنہوں نے پہلے ہی اپنی درخواستیں ڈسکوز اور کے الیکٹرک کو جمع کرا رکھی تھیں، اپنی سرمایہ کاری کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا شکار رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپرا میں نئے ضوابط پر ہونے والی عوامی سماعت کے دوران عوامی نمائندوں، پاکستان سولر ایسوسی ایشن اور پیپلز پارٹی کے رہنما ندیم افضل چن نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ڈسکوز گزشتہ دو ماہ سے نیٹ میٹرنگ درخواستوں پر کارروائی نہیں کر رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان دعوؤں کا نوٹس لیتے ہوئے نیپرا کے رکن ترقیات مقصود انور خان نے یقین دہانی کرائی تھی کہ اگر کسی ڈسکو کی جانب سے تاخیری حربے استعمال کیے گئے تو سخت کارروائی کی جائے گی، تاہم اس یقین دہانی کے باوجود زیر التوا درخواستوں پر عملدرآمد نہیں ہو سکا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن سردار اویس احمد خان لغاری نے 8 فروری 2026 تک جمع کرائی گئی نیٹ میٹرنگ درخواستوں کے حوالے سے اہم فیصلہ کرتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ ان تمام درخواستوں کو سابقہ ریگولیٹری فریم ورک کے تحت نمٹایا جائے۔</strong></p>
<p>پاور ڈویژن کے مطابق وزیر توانائی نے تمام بجلی تقسیم کار کمپنیوں(ڈسکوز) بشمول کے الیکٹرک کو ہدایت کی ہے کہ 8 فروری تک موصول ہونے والی نیٹ میٹرنگ درخواستوں پر پرانے ضوابط کے مطابق کارروائی کی جائے اور درخواست گزاروں کو سہولت فراہم کی جائے۔ انہوں نے اس فیصلے پر فوری عملدرآمد کی بھی ہدایت کی ہے۔</p>
<p>پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ 8 فروری تک ملک بھر کی تمام ڈسکوز اور کے الیکٹرک کو مجموعی طور پر 5,165 نیٹ میٹرنگ درخواستیں موصول ہو چکی تھیں۔ ان درخواستوں کے نتیجے میں قومی گرڈ میں 250.822 میگاواٹ بجلی شامل ہونے کی توقع ہے۔</p>
<p>پاور ڈویژن کے بیان میں کہا گیا کہ وفاقی وزیر کے فیصلے سے زیر التوا درخواستوں سے متعلق غیر یقینی صورتحال ختم ہو گئی ہے۔</p>
<p>سردار اویس لغاری نے مزید ہدایت کی کہ تمام درخواستوں کی جانچ پڑتال اور منظوری کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ صارفین کو شکایات کے اندراج کے لیے ہیلپ لائن 118 پر رابطہ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔</p>
<p>نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے اپنے نظرثانی شدہ پروزیومر ریگولیشنز 2026 میں پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ وہ صارفین جنہوں نے 9 فروری 2026 سے قبل اپنی درخواستیں متعلقہ کمپنیوں کو جمع کرا دی تھیں، انہیں قابلِ اطلاق فریم ورک کے تحت منظوری دی جائے گی۔</p>
<p>تاہم نظرثانی شدہ نیٹ میٹرنگ ضوابط کے نوٹیفکیشن کے باوجود وہ صارفین جنہوں نے پہلے ہی اپنی درخواستیں ڈسکوز اور کے الیکٹرک کو جمع کرا رکھی تھیں، اپنی سرمایہ کاری کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا شکار رہے۔</p>
<p>نیپرا میں نئے ضوابط پر ہونے والی عوامی سماعت کے دوران عوامی نمائندوں، پاکستان سولر ایسوسی ایشن اور پیپلز پارٹی کے رہنما ندیم افضل چن نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ڈسکوز گزشتہ دو ماہ سے نیٹ میٹرنگ درخواستوں پر کارروائی نہیں کر رہیں۔</p>
<p>ان دعوؤں کا نوٹس لیتے ہوئے نیپرا کے رکن ترقیات مقصود انور خان نے یقین دہانی کرائی تھی کہ اگر کسی ڈسکو کی جانب سے تاخیری حربے استعمال کیے گئے تو سخت کارروائی کی جائے گی، تاہم اس یقین دہانی کے باوجود زیر التوا درخواستوں پر عملدرآمد نہیں ہو سکا تھا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283017</guid>
      <pubDate>Fri, 20 Feb 2026 08:52:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/20085020642c694.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/20085020642c694.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
