<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سندھ طاس معاہدہ: ہیگ کی ثالثی عدالت نے پاکستان کے مؤقف کی توثیق کر دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283016/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزارتِ آبی وسائل نے جمعرات کو ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر مؤثر اور قابلِ عمل ہے، اور اس مؤقف کی توثیق ہیگ میں قائم ثالثی عدالت نے بھی کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کے اجلاس میں سیکریٹری وزارتِ آبی وسائل سید علی مرتضیٰ نے چیئرمین جام سیف اللہ خان کے سوال کے جواب میں کہا کہ بھارت نے معاہدہ معطل کرنے سے متعلق خط ضرور لکھا، تاہم پاکستان کا مؤقف ہے کہ معاہدہ بدستور نافذ العمل اور بھارت پر لازم ہے، جسے ثالثی عدالت نے بھی برقرار رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکریٹری نے بتایا کہ وزارتِ آبی وسائل اور انڈس واٹر کمیشن کا دائرہ اختیار پن بجلی سے متعلق معاملات پر محیط ہے۔ مستقل انڈس واٹر کمشنر کی عدم موجودگی میں اضافی چارج ایڈیشنل سیکریٹری مہر علی شاہ کو دیا گیا ہے۔ سابق کمشنر جماعت علی شاہ کے کردار سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ انکوائری کے بعد انہیں کلیئر قرار دیا گیا تھا اور کوئی بھی کمشنر ریاستی منظوری کے بغیر مؤقف جاری نہیں کر سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں زیرِ تعمیر پن بجلی منصوبوں اور اضافی بجلی کے معاملے پر بھی غور کیا گیا۔ سیکریٹری نے کہا کہ بجلی کی منڈی تاحال ڈی ریگولیٹ نہیں ہوئی، جس کے بغیر نجی شعبے کی مؤثر شمولیت اور مارکیٹ بیسڈ قیمتوں کا تعین ممکن نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تربیلا سے اس وقت 0.53 روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی پیدا ہو رہی ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم اور داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سے متعلق انہوں نے کہا کہ کسی عالمی مالیاتی ادارے یا چین کی جانب سے فنڈنگ نہیں ہو رہی، منصوبے پی ایس ڈی پی کے تحت جاری ہیں، جن میں بالترتیب 30 فیصد اور 21 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ پنجاب میں دریاؤں کے بہاؤ میں رکاوٹ بننے والی 2,625 تجاوزات ہٹا دی گئی ہیں، تاہم ملک بھر میں مسئلہ برقرار ہے۔ چیئرمین نے سوال اٹھایا کہ دریاؤں میں تجاوزات روکنے کا مستقل حل کیا ہے، جس پر بتایا گیا کہ یہ ذمہ داری صوبائی آبپاشی محکموں کی ہے اور دریائی علاقوں کی مناسب زوننگ ضروری ہے، خصوصاً پنجاب اور سندھ میں ہائی رسک اور لو رسک فلڈ زون کی نشاندہی ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی فلڈ پروٹیکشن پلان منظوری کے لیے مشترکہ مفادات کونسل کو بھیجا جا چکا ہے جبکہ ڈیم سیفٹی بل جلد وفاقی کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔ ملک بھر میں 707 ٹیلی میٹری اسٹیشنز کی تنصیب کی تجویز زیرِ غور ہے جبکہ 27 مقامات پر نظام جون 2026 تک مکمل ہوگا۔ کمیٹی نے موسمیاتی تبدیلی، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور زیرِ زمین پانی کے بے دریغ استعمال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے مربوط منصوبہ بندی، سخت نفاذ اور وفاقی و صوبائی تعاون پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزارتِ آبی وسائل نے جمعرات کو ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر مؤثر اور قابلِ عمل ہے، اور اس مؤقف کی توثیق ہیگ میں قائم ثالثی عدالت نے بھی کی ہے۔</strong></p>
<p>سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کے اجلاس میں سیکریٹری وزارتِ آبی وسائل سید علی مرتضیٰ نے چیئرمین جام سیف اللہ خان کے سوال کے جواب میں کہا کہ بھارت نے معاہدہ معطل کرنے سے متعلق خط ضرور لکھا، تاہم پاکستان کا مؤقف ہے کہ معاہدہ بدستور نافذ العمل اور بھارت پر لازم ہے، جسے ثالثی عدالت نے بھی برقرار رکھا ہے۔</p>
<p>سیکریٹری نے بتایا کہ وزارتِ آبی وسائل اور انڈس واٹر کمیشن کا دائرہ اختیار پن بجلی سے متعلق معاملات پر محیط ہے۔ مستقل انڈس واٹر کمشنر کی عدم موجودگی میں اضافی چارج ایڈیشنل سیکریٹری مہر علی شاہ کو دیا گیا ہے۔ سابق کمشنر جماعت علی شاہ کے کردار سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ انکوائری کے بعد انہیں کلیئر قرار دیا گیا تھا اور کوئی بھی کمشنر ریاستی منظوری کے بغیر مؤقف جاری نہیں کر سکتا۔</p>
<p>اجلاس میں زیرِ تعمیر پن بجلی منصوبوں اور اضافی بجلی کے معاملے پر بھی غور کیا گیا۔ سیکریٹری نے کہا کہ بجلی کی منڈی تاحال ڈی ریگولیٹ نہیں ہوئی، جس کے بغیر نجی شعبے کی مؤثر شمولیت اور مارکیٹ بیسڈ قیمتوں کا تعین ممکن نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تربیلا سے اس وقت 0.53 روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی پیدا ہو رہی ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم اور داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سے متعلق انہوں نے کہا کہ کسی عالمی مالیاتی ادارے یا چین کی جانب سے فنڈنگ نہیں ہو رہی، منصوبے پی ایس ڈی پی کے تحت جاری ہیں، جن میں بالترتیب 30 فیصد اور 21 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔</p>
<p>کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ پنجاب میں دریاؤں کے بہاؤ میں رکاوٹ بننے والی 2,625 تجاوزات ہٹا دی گئی ہیں، تاہم ملک بھر میں مسئلہ برقرار ہے۔ چیئرمین نے سوال اٹھایا کہ دریاؤں میں تجاوزات روکنے کا مستقل حل کیا ہے، جس پر بتایا گیا کہ یہ ذمہ داری صوبائی آبپاشی محکموں کی ہے اور دریائی علاقوں کی مناسب زوننگ ضروری ہے، خصوصاً پنجاب اور سندھ میں ہائی رسک اور لو رسک فلڈ زون کی نشاندہی ناگزیر ہے۔</p>
<p>قومی فلڈ پروٹیکشن پلان منظوری کے لیے مشترکہ مفادات کونسل کو بھیجا جا چکا ہے جبکہ ڈیم سیفٹی بل جلد وفاقی کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔ ملک بھر میں 707 ٹیلی میٹری اسٹیشنز کی تنصیب کی تجویز زیرِ غور ہے جبکہ 27 مقامات پر نظام جون 2026 تک مکمل ہوگا۔ کمیٹی نے موسمیاتی تبدیلی، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور زیرِ زمین پانی کے بے دریغ استعمال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے مربوط منصوبہ بندی، سخت نفاذ اور وفاقی و صوبائی تعاون پر زور دیا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283016</guid>
      <pubDate>Fri, 20 Feb 2026 08:43:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/200841106c9ad36.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/200841106c9ad36.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
