<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:00:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:00:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مالی سال 2026: ملٹی نیشنل کمپنیوں کا 1.68 ارب ڈالر منافع پاکستان سے بیرونِ ملک منتقل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283013/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں کام کرنے والی ملٹی نیشنل کمپنیوں (ایم این سیز) نے مالی سال 2025-26 کے پہلے سات مہینوں میں اپنے ہیڈکوارٹرز کو 1.68 ارب ڈالر منافع اور ڈیویڈنڈ منتقل کیے، جو پچھلے سال کے اسی عرصے میں ریکارڈ شدہ 1.33 ارب ڈالر سے 26 فیصد زیادہ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے جمعرات کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، جنوری 2026 میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کا منافع پاکستان سے باہر 118.9 ملین ڈالر رہا، جو جنوری 2025 کے مقابلے میں 15.5 فیصد زیادہ اور دسمبر 2025 کے مقابلے میں 34 فیصد زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی کمپنیوں نے جنوری 2025 میں 102.39 ملین ڈالر اور دسمبر 2025 میں 88.8 ملین ڈالر منافع اور ڈیویڈنڈ بھیجا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوری 2026 میں پاکستان میں کام کرنے والی ملٹی نیشنل کمپنیوں میں پاور سیکٹر نے سب سے زیادہ منافع اور ڈیویڈنڈ منتقل کیا، جو 41.1 ملین ڈالر رہا، اس کے بعد ٹرانسپورٹ سیکٹر کی کمپنیاں 24.5 ملین ڈالر لے کر گئیں۔ فوڈ سیکٹر کی کمپنیاں 18.7 ملین ڈالر اور کمیونیکیشن سیکٹر کی کمپنیاں 14.6 ملین ڈالر منتقل کر چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2025-26 کے پہلے سات مہینوں میں، پاور سیکٹر کی غیر ملکی کمپنیاں سب سے زیادہ منافع اور ڈیویڈنڈ 400.2 ملین ڈالر بھیجیں، اس کے بعد فائنینشل بزنسز کی کمپنیاں 371.3 ملین ڈالر کے ساتھ رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی عرصے میں فوڈ سیکٹر سے 142.4 ملین ڈالر اور کمیونیکیشن سیکٹر سے 132.3 ملین ڈالر منتقل ہوئے۔ بیوریجز، تمباکو و سگریٹ، کیمیکل، پیٹرولیم ریفائنریز، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن، فارماسیوٹیکل و او ٹی سی پروڈکٹس، الیکٹرانکس، ٹرانسپورٹ آلات (آٹوموبائل)، ٹرانسپورٹ اور اسٹوریج سہولیات میں سات ماہ کے دوران منافع کی منتقلی 14 ملین سے 91 ملین ڈالر کے درمیان رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پچھلے مالی سال (2025) کے اسی سات ماہ میں فوڈ، پاور، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن، فائنینشل بزنس اور ٹرانسپورٹ پانچ بڑے سیکٹرز تھے، جنہوں نے منافع اور ڈیویڈنڈ 85.5 ملین سے 263 ملین ڈالر کے درمیان منتقل کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منافع اور ڈیویڈنڈ کی منتقلی میں اضافہ اس پس منظر میں ہوا کہ ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج اور دیگر کمپنیوں نے منافع اور ڈیویڈنڈ کا اعلان کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جے ایس گلوبل کیپیٹل کے کنٹری ہیڈ سیلز، سید فاران رضوی نے بتایا کہ مالی سال 23 میں زرمبادلہ کے ذخائر میں اچانک کمی کے باعث ایم این سیز کا منافع پاکستان میں برقرار رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن جیسے ہی ذخائر دوبارہ بڑھنے لگے، مجموعی منتقلی میں زبردست اضافہ ہوا، جو مالی سال 2023 میں 331 ملین ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 24 میں 2.2 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا اور مالی سال 2025 و  مالی سال 2026 میں اسی سطح پر برقرار رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فاران رضوی کے مطابق، اس اضافے کی بڑی وجہ فوڈ سیکٹر تھا، جس نے  مالی سال 2023 میں تقریباً صفر (0.7 ملین ڈالر) سے بڑھ کر  مالی سال 2025 میں 306.1 ملین ڈالر تک پہنچا اور  مالی سال 2026 میں بھی سب سے زیادہ منافع منتقل کرنے والے سیکٹرز میں شامل رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ تمباکو و سگریٹ میں بھی شاندار اضافہ ہوا، جو تیزی سے بڑھ کر 130.5 ملین ڈالر تک پہنچا، جبکہ بیوریجز اور کیمیکلز میں تین سال مالی سال 2023 سے مالی سال 2025 تک کے دوران مضبوط اور مستحکم اضافہ جاری رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;![ . ](foriegn companies in Pakistan)&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں کام کرنے والی ملٹی نیشنل کمپنیوں (ایم این سیز) نے مالی سال 2025-26 کے پہلے سات مہینوں میں اپنے ہیڈکوارٹرز کو 1.68 ارب ڈالر منافع اور ڈیویڈنڈ منتقل کیے، جو پچھلے سال کے اسی عرصے میں ریکارڈ شدہ 1.33 ارب ڈالر سے 26 فیصد زیادہ ہے۔</strong></p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے جمعرات کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، جنوری 2026 میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کا منافع پاکستان سے باہر 118.9 ملین ڈالر رہا، جو جنوری 2025 کے مقابلے میں 15.5 فیصد زیادہ اور دسمبر 2025 کے مقابلے میں 34 فیصد زیادہ ہے۔</p>
<p>غیر ملکی کمپنیوں نے جنوری 2025 میں 102.39 ملین ڈالر اور دسمبر 2025 میں 88.8 ملین ڈالر منافع اور ڈیویڈنڈ بھیجا تھا۔</p>
<p>جنوری 2026 میں پاکستان میں کام کرنے والی ملٹی نیشنل کمپنیوں میں پاور سیکٹر نے سب سے زیادہ منافع اور ڈیویڈنڈ منتقل کیا، جو 41.1 ملین ڈالر رہا، اس کے بعد ٹرانسپورٹ سیکٹر کی کمپنیاں 24.5 ملین ڈالر لے کر گئیں۔ فوڈ سیکٹر کی کمپنیاں 18.7 ملین ڈالر اور کمیونیکیشن سیکٹر کی کمپنیاں 14.6 ملین ڈالر منتقل کر چکی ہیں۔</p>
<p>مالی سال 2025-26 کے پہلے سات مہینوں میں، پاور سیکٹر کی غیر ملکی کمپنیاں سب سے زیادہ منافع اور ڈیویڈنڈ 400.2 ملین ڈالر بھیجیں، اس کے بعد فائنینشل بزنسز کی کمپنیاں 371.3 ملین ڈالر کے ساتھ رہی۔</p>
<p>اسی عرصے میں فوڈ سیکٹر سے 142.4 ملین ڈالر اور کمیونیکیشن سیکٹر سے 132.3 ملین ڈالر منتقل ہوئے۔ بیوریجز، تمباکو و سگریٹ، کیمیکل، پیٹرولیم ریفائنریز، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن، فارماسیوٹیکل و او ٹی سی پروڈکٹس، الیکٹرانکس، ٹرانسپورٹ آلات (آٹوموبائل)، ٹرانسپورٹ اور اسٹوریج سہولیات میں سات ماہ کے دوران منافع کی منتقلی 14 ملین سے 91 ملین ڈالر کے درمیان رہی۔</p>
<p>پچھلے مالی سال (2025) کے اسی سات ماہ میں فوڈ، پاور، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن، فائنینشل بزنس اور ٹرانسپورٹ پانچ بڑے سیکٹرز تھے، جنہوں نے منافع اور ڈیویڈنڈ 85.5 ملین سے 263 ملین ڈالر کے درمیان منتقل کیا۔</p>
<p>منافع اور ڈیویڈنڈ کی منتقلی میں اضافہ اس پس منظر میں ہوا کہ ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج اور دیگر کمپنیوں نے منافع اور ڈیویڈنڈ کا اعلان کیا۔</p>
<p>جے ایس گلوبل کیپیٹل کے کنٹری ہیڈ سیلز، سید فاران رضوی نے بتایا کہ مالی سال 23 میں زرمبادلہ کے ذخائر میں اچانک کمی کے باعث ایم این سیز کا منافع پاکستان میں برقرار رہا۔</p>
<p>لیکن جیسے ہی ذخائر دوبارہ بڑھنے لگے، مجموعی منتقلی میں زبردست اضافہ ہوا، جو مالی سال 2023 میں 331 ملین ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 24 میں 2.2 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا اور مالی سال 2025 و  مالی سال 2026 میں اسی سطح پر برقرار رہا۔</p>
<p>فاران رضوی کے مطابق، اس اضافے کی بڑی وجہ فوڈ سیکٹر تھا، جس نے  مالی سال 2023 میں تقریباً صفر (0.7 ملین ڈالر) سے بڑھ کر  مالی سال 2025 میں 306.1 ملین ڈالر تک پہنچا اور  مالی سال 2026 میں بھی سب سے زیادہ منافع منتقل کرنے والے سیکٹرز میں شامل رہا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ تمباکو و سگریٹ میں بھی شاندار اضافہ ہوا، جو تیزی سے بڑھ کر 130.5 ملین ڈالر تک پہنچا، جبکہ بیوریجز اور کیمیکلز میں تین سال مالی سال 2023 سے مالی سال 2025 تک کے دوران مضبوط اور مستحکم اضافہ جاری رہا۔</p>
<p>![ . ](foriegn companies in Pakistan)</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283013</guid>
      <pubDate>Thu, 19 Feb 2026 22:09:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلمان صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/19214949e784572.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/19214949e784572.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
