<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:11:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:11:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کوئی ملک جوہری ایندھن کی افزودگی کے قانونی حق سے محروم نہیں کرسکتا، ایران کا دوٹوک موقف</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283009/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کے ایٹمی توانائی کے سربراہ محمد اسلامی نے کہا ہے کہ کوئی بھی ملک اسلامی جمہوریہ ایران کو جوہری افزودگی کے حق سے محروم نہیں کر سکتا، یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنوا مذاکرات کے بعد ممکنہ فوجی کارروائی کے اشارے دینے کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اسلامی کے مطابق ” جوہری صنعت کی بنیاد افزودگی ہے۔ جو بھی کام آپ جوہری عمل میں کرنا چاہتے ہیں، اس کے لیے نیوکلیئر فیول ضروری ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ” ایران کا جوہری پروگرام بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ضوابط کے مطابق جاری ہے اور کوئی بھی ملک ایران کو اس ٹیکنالوجی سے پرامن فوائد حاصل کرنے کے حق سے محروم نہیں کر سکتا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بیان جنوا میں منگل کو تہران اور واشنگٹن کے درمیان عمان کے ثالثی کردار میں ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور کے بعد سامنے آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں حریفوں نے پہلی بار 6 فروری کو عمان میں مذاکرات کیے تھے، جو گزشتہ جون میں ایران اور اسرائیل کے 12 روزہ جنگ کے دوران منسوخ ہونے والے پچھلے مذاکرات کے بعد پہلا اجلاس تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران امریکہ نے مختصر طور پر اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے جوہری اداروں پر حملے کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو، ٹرمپ نے دوبارہ اپنی پوسٹ میں ٹروتھ سوشل پر اشارہ دیا ہے کہ امریکہ ایران پر حملہ کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے برطانیہ کو خبردار کیا کہ وہ چاغوس جزائر پر اپنی خودمختاری ترک نہ کرے، اور کہا کہ اگر ایران کسی معاہدے پر نہ پہنچا تو ڈیاگو گارسیا ایئر بیس کی ضرورت پڑ سکتی ہے، ” تاکہ ایک انتہائی غیر مستحکم اور خطرناک حکومت کے ممکنہ حملے کو ختم کیا جا سکے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن متعدد بار ایران سے مطالبہ کر چکا ہے کہ وہ افزودگی ختم کرے، لیکن ساتھ ہی ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں مسلح گروپوں کی حمایت کے مسائل کو بھی مذاکرات میں شامل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، یہی امور اسرائیل مذاکرات میں شامل کرنے کے لیے زور دیتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مغربی ممالک اسلامی جمہوریہ ایران پر جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کا الزام لگاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تہران اس قسم کی فوجی امنگوں کی تردید کرتا ہے لیکن اس ٹیکنالوجی کو سول مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا حق ماننے پر زور دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ، جو ایران پر دباؤ بڑھا چکا ہے تاکہ معاہدہ ممکن ہو، نے خطے میں بڑی بحری قوت تعینات کی ہے، جسے انہوں نے آرمیڈا قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوری میں امریکی طیارہ بردار یو ایس ایس ابراہیم لنکن اور اس کے ہمراہ جنگی جہاز خلیج میں بھیجے گئے اور حال ہی میں انہوں نے اشارہ دیا کہ دوسرا طیارہ بردار جہاز جیراڈ فورڈ بھی بہت جلد مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران ایرانی بحری افواج نے اس ہفتے خلیج اور اسٹریٹ آف ہرمز کے گرد فوجی مشقیں کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں ایرانی اور روسی بحری افواج نے جمعرات کو عمان کی سمندر اور شمالی بحر ہند میں مشترکہ مشقیں کیں، جن کے اختتام کی اطلاع بعد میں سرکاری نیوز ایجنسی &lt;strong&gt;ارنا&lt;/strong&gt; نے دی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کے ایٹمی توانائی کے سربراہ محمد اسلامی نے کہا ہے کہ کوئی بھی ملک اسلامی جمہوریہ ایران کو جوہری افزودگی کے حق سے محروم نہیں کر سکتا، یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنوا مذاکرات کے بعد ممکنہ فوجی کارروائی کے اشارے دینے کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔</strong></p>
<p>محمد اسلامی کے مطابق ” جوہری صنعت کی بنیاد افزودگی ہے۔ جو بھی کام آپ جوہری عمل میں کرنا چاہتے ہیں، اس کے لیے نیوکلیئر فیول ضروری ہے۔“</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ” ایران کا جوہری پروگرام بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ضوابط کے مطابق جاری ہے اور کوئی بھی ملک ایران کو اس ٹیکنالوجی سے پرامن فوائد حاصل کرنے کے حق سے محروم نہیں کر سکتا۔“</p>
<p>یہ بیان جنوا میں منگل کو تہران اور واشنگٹن کے درمیان عمان کے ثالثی کردار میں ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور کے بعد سامنے آیا ہے۔</p>
<p>دونوں حریفوں نے پہلی بار 6 فروری کو عمان میں مذاکرات کیے تھے، جو گزشتہ جون میں ایران اور اسرائیل کے 12 روزہ جنگ کے دوران منسوخ ہونے والے پچھلے مذاکرات کے بعد پہلا اجلاس تھا۔</p>
<p>اس دوران امریکہ نے مختصر طور پر اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے جوہری اداروں پر حملے کیے تھے۔</p>
<p>بدھ کو، ٹرمپ نے دوبارہ اپنی پوسٹ میں ٹروتھ سوشل پر اشارہ دیا ہے کہ امریکہ ایران پر حملہ کر سکتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے برطانیہ کو خبردار کیا کہ وہ چاغوس جزائر پر اپنی خودمختاری ترک نہ کرے، اور کہا کہ اگر ایران کسی معاہدے پر نہ پہنچا تو ڈیاگو گارسیا ایئر بیس کی ضرورت پڑ سکتی ہے، ” تاکہ ایک انتہائی غیر مستحکم اور خطرناک حکومت کے ممکنہ حملے کو ختم کیا جا سکے۔“</p>
<p>واشنگٹن متعدد بار ایران سے مطالبہ کر چکا ہے کہ وہ افزودگی ختم کرے، لیکن ساتھ ہی ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں مسلح گروپوں کی حمایت کے مسائل کو بھی مذاکرات میں شامل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، یہی امور اسرائیل مذاکرات میں شامل کرنے کے لیے زور دیتا رہا ہے۔</p>
<p>مغربی ممالک اسلامی جمہوریہ ایران پر جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کا الزام لگاتے ہیں۔</p>
<p>تہران اس قسم کی فوجی امنگوں کی تردید کرتا ہے لیکن اس ٹیکنالوجی کو سول مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا حق ماننے پر زور دیتا ہے۔</p>
<p>ٹرمپ، جو ایران پر دباؤ بڑھا چکا ہے تاکہ معاہدہ ممکن ہو، نے خطے میں بڑی بحری قوت تعینات کی ہے، جسے انہوں نے آرمیڈا قرار دیا ہے۔</p>
<p>جنوری میں امریکی طیارہ بردار یو ایس ایس ابراہیم لنکن اور اس کے ہمراہ جنگی جہاز خلیج میں بھیجے گئے اور حال ہی میں انہوں نے اشارہ دیا کہ دوسرا طیارہ بردار جہاز جیراڈ فورڈ بھی بہت جلد مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ ہوگا۔</p>
<p>اسی دوران ایرانی بحری افواج نے اس ہفتے خلیج اور اسٹریٹ آف ہرمز کے گرد فوجی مشقیں کیں۔</p>
<p>علاوہ ازیں ایرانی اور روسی بحری افواج نے جمعرات کو عمان کی سمندر اور شمالی بحر ہند میں مشترکہ مشقیں کیں، جن کے اختتام کی اطلاع بعد میں سرکاری نیوز ایجنسی <strong>ارنا</strong> نے دی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283009</guid>
      <pubDate>Thu, 19 Feb 2026 19:40:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/19192308c579fc6.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/19192308c579fc6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
