<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 06 Jun 2026 09:28:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 06 Jun 2026 09:28:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اقوام متحدہ : وزیر خارجہ کا اسرائیل سے مغربی کنارے میں حالیہ اقدامات فوری واپس لینے کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283003/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے مقبوضہ مغربی کنارے کے ایک بڑے حصے میں زمینوں کی رجسٹریشن کا عمل دوبارہ شروع کرنے کے اسرائیلی فیصلے کو  انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ  ایسے اقدامات جو زمینی حقائق کو تبدیل کریں اور حتمی حیثیت کے معاملات پر اثر انداز ہوں، بدنیتی پر مبنی اور امن کے لیے شدید نقصان دہ ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطح کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ  مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں، الحاق کی کوششیں اور غیر قانونی اقدامات مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کو ختم کرنے کی ان کوششوں کو کمزور کر رہے ہیں جو ایک منصفانہ اور پائیدار امن کی امید فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ امن کے ایک کامیاب عمل کے لیے اعتماد، تحمل اور نیک نیتی پر مبنی سازگار ماحول ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلسطین کی صورتحال پر اس اجلاس کی صدارت برطانوی سیکرٹری خارجہ یوویٹ کوپر نے کی، جو فروری کے مہینے کے لیے 15 رکنی کونسل کی صدر ہیں۔ کونسل نے اس حل طلب تنازع پر ایک ایسے وقت میں غور و خوض کیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بورڈ آف پیس (بی اوپی) واشنگٹن میں اپنا افتتاحی اجلاس منعقد کرنے جا رہا ہے، جس کا بنیادی مقصد جنگ سے تباہ حال غزہ کی تعمیرِ نو پر بحث کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہ سلامتی کونسل کا یہ اجلاس ایک  نازک موڑ پر ہو رہا ہے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ جنگ بندی کے بعد سے اب تک سینکڑوں فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، اقوامِ متحدہ کی تنصیبات بشمول  اونروا کے مراکز پر حملے کیے گئے ہیں، جبکہ انسانی بنیادوں پر جاری آپریشنز پر پابندیاں اور بین الاقوامی تنظیموں پر دباؤ امدادی سامان کی فراہمی میں رکاوٹ بن رہا ہے، جو ابھی تک مطلوبہ مقدار میں فراہم نہیں ہو سکا۔ انہوں نے اسے ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے موجودہ صورتحال کی نزاکت سے خبردار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ملک دشمنی کے مستقل خاتمے اور تنازع کے منصفانہ حل کے لیے سفارتی کوششوں میں مکمل طور پر مصروف ہے۔ 7 اور 17 فروری کے مشترکہ بیانات میں آٹھ عرب اور اسلامی ممالک (مصر، اردن، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ اور پاکستان) کے وزرائے خارجہ نے مغربی کنارے پر کنٹرول بڑھانے کے اسرائیلی فیصلوں کی  شدید ترین الفاظ میں مذمت کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسحاق ڈار نے زور دے کر کہا کہ یہ غیر قانونی اقدامات  کالعدم اور باطل ہیں اور بین الاقوامی قانون بالخصوص چوتھے جنیوا کنونشن اور عالمی عدالتِ انصاف کی 2024 کی مشاورتی رائے کی صریح خلاف ورزی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مطالبہ کیا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر مکمل عمل درآمد کیا جائے اور جنگ بندی کا احترام کرتے ہوئے دشمنی کا مستقل خاتمہ یقینی بنایا جائے۔ اسحاق ڈار نے زور دیا کہ ہمیں بڑے پیمانے پر محفوظ اور بلا تعطل انسانی امداد کو یقینی بنانا چاہیے اور تعمیرِ نو کا مرحلہ کسی تاخیر، الحاق، جبری بے دخلی یا فلسطینی علاقوں کی جغرافیائی وحدت کو تبدیل کیے بغیر شروع ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ غیر قانونی بستیوں کی تعمیر، آباد کاروں کا تشدد اور مقدسات سمیت مقبوضہ علاقوں کی قانونی یا تاریخی حیثیت بدلنے کی کوششیں فوری بند ہونی چاہئیں اور ایک ایسی آزاد فلسطینی ریاست کی جانب پیش رفت ناگزیر ہے جو 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ہو اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ پاکستان آٹھ اسلامی ممالک کے گروپ کے حصے کے طور پر  بورڈ آف پیس (بی او پی) میں شامل ہو گیا ہے۔ اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی کہ یہ بورڈ مستقل جنگ بندی، امداد میں اضافے، غزہ کی تعمیرِ نو اور فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت کے لیے ٹھوس اقدامات کی راہ ہموار کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کل بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کرے گا، تاکہ جاری سفارتی کوششوں کو تقویت دی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ انصاف کے بغیر پائیدار امن، احتساب کے بغیر استحکام اور حقِ خودارادیت کے بغیر کوئی مستقل حل ممکن نہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ فلسطینی بھائیوں کی منصفانہ جدوجہد کے لیے پاکستان کی یکجہتی غیر متزلزل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بحث کا آغاز کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل روزمیری ڈی کارلو نے کہا کہ مشترکہ کوششوں کے ذریعے غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم اور بحالی کو فروغ دینا چاہیے۔ انہوں نے 19 فروری کے بورڈ آف پیس کے اجلاس کو ایک اہم قدم قرار دیا، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ جنگ بندی کے باوجود غزہ میں اب بھی امن نہیں ہے اور اسرائیلی حملوں کے ساتھ ساتھ جھڑپیں جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مغربی کنارے کی صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے جہاں اسرائیلی چھاپوں، گرفتاریوں اور بستیوں کی توسیع کے باعث عملی طور پر بتدریج الحاق دیکھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلسطین کے مستقل مبصر ریاض منصور نے عیسائیوں اور مسلمانوں کی صدیوں پرانی عبادت گاہوں کی تباہی اور نقل و حرکت پر پابندیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کا مقصد فلسطینیوں کو بے دخل کر کے ان کی زمین پر قبضہ کرنا ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ  فلسطین فلسطینی عوام کا ہے، یہ کسی کے چھیننے کے لیے ہے اور نہ ہی یہ بکاؤ ہے۔ تمام تر کوششوں کے باوجود اسرائیل ہمیں بے زمین قوم میں تبدیل نہیں کر سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کا الحاق اب مکمل طور پر عیاں ہے اور اگر اسے نہ روکا گیا تو یہ پورے خطے کے مستقبل کو تباہ کر دے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے مقبوضہ مغربی کنارے کے ایک بڑے حصے میں زمینوں کی رجسٹریشن کا عمل دوبارہ شروع کرنے کے اسرائیلی فیصلے کو  انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ  ایسے اقدامات جو زمینی حقائق کو تبدیل کریں اور حتمی حیثیت کے معاملات پر اثر انداز ہوں، بدنیتی پر مبنی اور امن کے لیے شدید نقصان دہ ہیں۔</strong></p>
<p>بدھ کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطح کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ  مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں، الحاق کی کوششیں اور غیر قانونی اقدامات مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کو ختم کرنے کی ان کوششوں کو کمزور کر رہے ہیں جو ایک منصفانہ اور پائیدار امن کی امید فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ امن کے ایک کامیاب عمل کے لیے اعتماد، تحمل اور نیک نیتی پر مبنی سازگار ماحول ضروری ہے۔</p>
<p>فلسطین کی صورتحال پر اس اجلاس کی صدارت برطانوی سیکرٹری خارجہ یوویٹ کوپر نے کی، جو فروری کے مہینے کے لیے 15 رکنی کونسل کی صدر ہیں۔ کونسل نے اس حل طلب تنازع پر ایک ایسے وقت میں غور و خوض کیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بورڈ آف پیس (بی اوپی) واشنگٹن میں اپنا افتتاحی اجلاس منعقد کرنے جا رہا ہے، جس کا بنیادی مقصد جنگ سے تباہ حال غزہ کی تعمیرِ نو پر بحث کرنا ہے۔</p>
<p>اس بات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہ سلامتی کونسل کا یہ اجلاس ایک  نازک موڑ پر ہو رہا ہے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ جنگ بندی کے بعد سے اب تک سینکڑوں فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، اقوامِ متحدہ کی تنصیبات بشمول  اونروا کے مراکز پر حملے کیے گئے ہیں، جبکہ انسانی بنیادوں پر جاری آپریشنز پر پابندیاں اور بین الاقوامی تنظیموں پر دباؤ امدادی سامان کی فراہمی میں رکاوٹ بن رہا ہے، جو ابھی تک مطلوبہ مقدار میں فراہم نہیں ہو سکا۔ انہوں نے اسے ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے موجودہ صورتحال کی نزاکت سے خبردار کیا۔</p>
<p>پاکستان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ملک دشمنی کے مستقل خاتمے اور تنازع کے منصفانہ حل کے لیے سفارتی کوششوں میں مکمل طور پر مصروف ہے۔ 7 اور 17 فروری کے مشترکہ بیانات میں آٹھ عرب اور اسلامی ممالک (مصر، اردن، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ اور پاکستان) کے وزرائے خارجہ نے مغربی کنارے پر کنٹرول بڑھانے کے اسرائیلی فیصلوں کی  شدید ترین الفاظ میں مذمت کی تھی۔</p>
<p>اسحاق ڈار نے زور دے کر کہا کہ یہ غیر قانونی اقدامات  کالعدم اور باطل ہیں اور بین الاقوامی قانون بالخصوص چوتھے جنیوا کنونشن اور عالمی عدالتِ انصاف کی 2024 کی مشاورتی رائے کی صریح خلاف ورزی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مطالبہ کیا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر مکمل عمل درآمد کیا جائے اور جنگ بندی کا احترام کرتے ہوئے دشمنی کا مستقل خاتمہ یقینی بنایا جائے۔ اسحاق ڈار نے زور دیا کہ ہمیں بڑے پیمانے پر محفوظ اور بلا تعطل انسانی امداد کو یقینی بنانا چاہیے اور تعمیرِ نو کا مرحلہ کسی تاخیر، الحاق، جبری بے دخلی یا فلسطینی علاقوں کی جغرافیائی وحدت کو تبدیل کیے بغیر شروع ہونا چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ غیر قانونی بستیوں کی تعمیر، آباد کاروں کا تشدد اور مقدسات سمیت مقبوضہ علاقوں کی قانونی یا تاریخی حیثیت بدلنے کی کوششیں فوری بند ہونی چاہئیں اور ایک ایسی آزاد فلسطینی ریاست کی جانب پیش رفت ناگزیر ہے جو 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ہو اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ پاکستان آٹھ اسلامی ممالک کے گروپ کے حصے کے طور پر  بورڈ آف پیس (بی او پی) میں شامل ہو گیا ہے۔ اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی کہ یہ بورڈ مستقل جنگ بندی، امداد میں اضافے، غزہ کی تعمیرِ نو اور فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت کے لیے ٹھوس اقدامات کی راہ ہموار کرے گا۔</p>
<p>انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کل بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کرے گا، تاکہ جاری سفارتی کوششوں کو تقویت دی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ انصاف کے بغیر پائیدار امن، احتساب کے بغیر استحکام اور حقِ خودارادیت کے بغیر کوئی مستقل حل ممکن نہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ فلسطینی بھائیوں کی منصفانہ جدوجہد کے لیے پاکستان کی یکجہتی غیر متزلزل ہے۔</p>
<p>بحث کا آغاز کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل روزمیری ڈی کارلو نے کہا کہ مشترکہ کوششوں کے ذریعے غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم اور بحالی کو فروغ دینا چاہیے۔ انہوں نے 19 فروری کے بورڈ آف پیس کے اجلاس کو ایک اہم قدم قرار دیا، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ جنگ بندی کے باوجود غزہ میں اب بھی امن نہیں ہے اور اسرائیلی حملوں کے ساتھ ساتھ جھڑپیں جاری ہیں۔</p>
<p>انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مغربی کنارے کی صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے جہاں اسرائیلی چھاپوں، گرفتاریوں اور بستیوں کی توسیع کے باعث عملی طور پر بتدریج الحاق دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p>فلسطین کے مستقل مبصر ریاض منصور نے عیسائیوں اور مسلمانوں کی صدیوں پرانی عبادت گاہوں کی تباہی اور نقل و حرکت پر پابندیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کا مقصد فلسطینیوں کو بے دخل کر کے ان کی زمین پر قبضہ کرنا ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ  فلسطین فلسطینی عوام کا ہے، یہ کسی کے چھیننے کے لیے ہے اور نہ ہی یہ بکاؤ ہے۔ تمام تر کوششوں کے باوجود اسرائیل ہمیں بے زمین قوم میں تبدیل نہیں کر سکے گا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کا الحاق اب مکمل طور پر عیاں ہے اور اگر اسے نہ روکا گیا تو یہ پورے خطے کے مستقبل کو تباہ کر دے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283003</guid>
      <pubDate>Thu, 19 Feb 2026 16:05:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/191533052198eb2.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/191533052198eb2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/8bmwwVTZwTM/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/8bmwwVTZwTM/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=8bmwwVTZwTM"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
