<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:50:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:50:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یورپی فائٹر پروگرام تعطل کا شکار، جرمنی کا مزید ایف 35 طیاروں کی خریداری پر غور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282996/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جرمنی امریکا میں تیار کردہ جدید ایف 35 لڑاکا طیاروں کی مزید خریداری پر غور کر رہا ہے، جس سے برلن کا امریکی دفاعی ٹیکنالوجی پر انحصار مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ خبر رساں ادارے کے مطابق دو ذرائع نے بتایا کہ جرمنی 35 سے زائد اضافی طیارے خریدنے کے لیے مذاکرات کر رہا ہے۔ جرمنی 2022 میں پہلے ہی 35 ایف 35 طیارے خرید چکا ہے جن کی ترسیل رواں سال کے آخر سے شروع ہونے کی توقع ہے۔ ہر طیارے کی قیمت 80 ملین ڈالر سے زائد بتائی جاتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر مجوزہ تمام سودے مکمل ہو جاتے ہیں تو جرمنی کے پاس تقریباً 85 ایف 35 طیارے ہو سکتے ہیں، تاہم ذرائع کے مطابق حتمی فیصلہ ابھی غیر یقینی ہے۔ جرمن وزارت دفاع نے فوری طور پر تبصرہ نہیں کیا جبکہ لاک ہیڈ مارٹن نے کہا کہ وہ پہلے سے آرڈر کیے گئے طیاروں کی تیاری پر توجہ دے رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ممکنہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب جرمنی اور فرانس کے درمیان مستقبل کے مشترکہ لڑاکا طیارہ پروگرام فیوچر کامبیٹ ایئر سسٹم پر تعطل پایا جاتا ہے۔ 2017 میں شروع ہونے والا یہ تقریباً 100 ارب یورو کا منصوبہ 2040 کے بعد نئی نسل کے طیارے تیار کرنے کے لیے تھا، تاہم اختلافات کے باعث اس کا مستقبل غیر واضح ہے۔ بعض ذرائع کے مطابق دونوں ممالک اس مشترکہ منصوبے کو ترک بھی کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف 35 طیاروں کی مزید خریداری نیٹو حکمت عملی کے تناظر میں بھی اہم ہے کیونکہ یہ طیارہ جدید بی 61 جوہری بم لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جرمنی نے 2022 میں ایف 35 خریدنے کا فیصلہ اپنی نیٹو ذمہ داریوں کے تحت کیا تھا تاکہ ضرورت پڑنے پر جرمنی میں موجود امریکی جوہری ہتھیاروں کی ترسیل ممکن ہو سکے۔ وزیر دفاع بورس پسٹوریئس کا کہنا ہے کہ ایف سی اے ایس کے مستقبل سے متعلق فیصلہ جلد متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جرمنی امریکا میں تیار کردہ جدید ایف 35 لڑاکا طیاروں کی مزید خریداری پر غور کر رہا ہے، جس سے برلن کا امریکی دفاعی ٹیکنالوجی پر انحصار مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ خبر رساں ادارے کے مطابق دو ذرائع نے بتایا کہ جرمنی 35 سے زائد اضافی طیارے خریدنے کے لیے مذاکرات کر رہا ہے۔ جرمنی 2022 میں پہلے ہی 35 ایف 35 طیارے خرید چکا ہے جن کی ترسیل رواں سال کے آخر سے شروع ہونے کی توقع ہے۔ ہر طیارے کی قیمت 80 ملین ڈالر سے زائد بتائی جاتی ہے۔</strong></p>
<p>اگر مجوزہ تمام سودے مکمل ہو جاتے ہیں تو جرمنی کے پاس تقریباً 85 ایف 35 طیارے ہو سکتے ہیں، تاہم ذرائع کے مطابق حتمی فیصلہ ابھی غیر یقینی ہے۔ جرمن وزارت دفاع نے فوری طور پر تبصرہ نہیں کیا جبکہ لاک ہیڈ مارٹن نے کہا کہ وہ پہلے سے آرڈر کیے گئے طیاروں کی تیاری پر توجہ دے رہی ہے۔</p>
<p>یہ ممکنہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب جرمنی اور فرانس کے درمیان مستقبل کے مشترکہ لڑاکا طیارہ پروگرام فیوچر کامبیٹ ایئر سسٹم پر تعطل پایا جاتا ہے۔ 2017 میں شروع ہونے والا یہ تقریباً 100 ارب یورو کا منصوبہ 2040 کے بعد نئی نسل کے طیارے تیار کرنے کے لیے تھا، تاہم اختلافات کے باعث اس کا مستقبل غیر واضح ہے۔ بعض ذرائع کے مطابق دونوں ممالک اس مشترکہ منصوبے کو ترک بھی کر سکتے ہیں۔</p>
<p>ایف 35 طیاروں کی مزید خریداری نیٹو حکمت عملی کے تناظر میں بھی اہم ہے کیونکہ یہ طیارہ جدید بی 61 جوہری بم لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جرمنی نے 2022 میں ایف 35 خریدنے کا فیصلہ اپنی نیٹو ذمہ داریوں کے تحت کیا تھا تاکہ ضرورت پڑنے پر جرمنی میں موجود امریکی جوہری ہتھیاروں کی ترسیل ممکن ہو سکے۔ وزیر دفاع بورس پسٹوریئس کا کہنا ہے کہ ایف سی اے ایس کے مستقبل سے متعلق فیصلہ جلد متوقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282996</guid>
      <pubDate>Thu, 19 Feb 2026 14:26:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/1914172192fab1d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/1914172192fab1d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
