<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 17:59:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 17:59:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایل ایس ایم کے مثبت اعدادوشمار جاری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282989/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ادارہ شماریات کے مطابق جولائی تا دسمبر 2025  بڑے پیمانے کی صنعتوں (ایل ایس ایم) کی شرحِ نمو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 4.82 فیصد ریکارڈ کی ہے، اس اضافے کی بڑی وجہ آٹوموبائل، پٹرولیم، گارمنٹس اور سیمنٹ کے شعبوں میں ہونے والی بہترین کارکردگی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی وجہ گزشتہ سال کی لو بیس کو قرار دیا گیا ہے، وزارت خزانہ کی جنوری 2026 اپ ڈیٹ اینڈ آؤٹ لک کے مطابق جولائی تا نومبر 2024-25 میں ایل ایس ایم کی شرح نمو منفی 1.41 فیصد تھی جب کہ رواں سال کے اسی عرصے کے لیے یہ شرح 6.01 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ رواں سال کی پہلی ششماہی میں شرح نمو کا جولائی تا نومبر کے 6.01 فیصد کے مقابلے میں کم ہو کر 4.82 فیصد رہ جانا اس دعوے کے برعکس ہے کہ ایل ایس ایم کے شعبے میں نومبر 2025 کے مقابلے میں دسمبر 2025 میں 9.2 فیصد کی زبردست ترقی دیکھی گئی، یہ وہ اعداد و شمار ہیں جو پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے مرتب کردہ اعداد و شمار کو چیلنج کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایل ایس ایم  کے ذیلی شعبوں پر بزنس ریکارڈر کے حالیہ سروے ظاہر کرتے ہیں کہ فیکٹریوں کی بندش تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہے، ٹیکسٹائل تنظیموں نے 150 یونٹس کی بندش کا حوالہ دیا ہے جبکہ اسٹیل اور سیمنٹ کی فیکٹریوں نے بتایا کہ وہ پیداواری لاگت میں بے پناہ اضافے کی وجہ سے کم صلاحیت پر کام کر رہی ہیں جو کہ ان کے لیے ایک رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ حکومت نے بھی اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے جس کے نتیجے میں ایل ایس ایم کے لیے مراعات کا اعلان کیا گیا، تاہم اگر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے انتظامیہ کو طے شدہ شرائط پر سختی سے عمل کرنے پر مجبور کیا تو یہ مراعات واپس لینا پڑ سکتی ہیں۔ مزید برآں، کئی کثیر القومی کمپنیوں نے بھی اپنے آپریشنز بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صورتحال جو بھی ہو، یہ تعین کرنا بھی ضروری ہے کہ ادارہ شماریات کی جانب سے ایل ایس ایم میں اضافے کا جو دعویٰ کیا گیا ہے وہ پیداوار میں اضافے کی وجہ سے ہے یا زیادہ فروخت کی وجہ سے، جس نے موجودہ ذخیرہ شدہ مال  کو کم کردیا ہے۔ ادارہ شماریات پاکستان ایل ایس ایم کے اعداد و شمار کے لیے دو ذرائع کا ذکر کرتا ہے: پہلا پی بی ایس کا تیار کردہ مینوفیکچرنگ صنعتوں کا اعدادوشمار اور دوسرا مینوفیکچرنگ سیکٹرز کی پیداوار پر مبنی ایل ایس ایم کا کوانٹم انڈیکس ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیورو (ادارہ شماریات) یہ تسلیم کرتا ہے کہ وہ ہر پانچ سال بعد مینوفیکچرنگ کے پیداواری انڈیکس کے لیے نئے ویٹس تیار کرتا ہے لیکن ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کرتا ہے کہ آخری مرتبہ یہ مشق دس سال پہلے 2015-16 میں کی گئی تھی۔ ادارہ شماریات  ذخیرہ شدہ مال  میں کمی یا اصل پیداوار  کو مدِ نظر نہیں رکھتا بلکہ اس کی تمام تر توجہ فروخت کے اعدادو شمار پر ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیورو (ادارہ شماریات) ایندھن کی کھپت کے لیے ’آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل‘  پر بھی انحصار کرتا ہے، لیکن کونسل کی ویب سائٹ پر موجود اعداد و شمار انتہائی تشویشناک ہیں جو ادارہ شماریات کے پیٹرولیم فروخت میں اضافے کے دعوے سے میل نہیں کھاتے۔ اعداد و شمار کے مطابق مقامی صارفین کی کھپت جولائی تا دسمبر 2024 کے 14,221 میٹرک ٹن سے کم ہو کر 2025 کے اسی عرصے میں 7,026 میٹرک ٹن رہ گئی، صنعتی شعبے کی کھپت مالی سال 2024 کی پہلی ششماہی کے 500,664 میٹرک ٹن سے گر کر رواں سال کے اسی عرصے میں 273,801 میٹرک ٹن پر آگئی جبکہ بجلی کے شعبے (پاور سیکٹر) میں یہ کھپت 96,292 میٹرک ٹن سے کم ہو کر رواں سال صرف 20,003 میٹرک ٹن رہ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی بنیادی وجہ روپے کی قدر میں مسلسل کمی  اور معیشت کی مسلسل کمزوری کے باعث نجی شعبے (جس کا ایک حصہ بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ یعنی ایل ایس ایم آئی ہے) کی جانب سے اجرتوں میں اضافہ نہ کر پانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حاصلِ کلام یہ ہے کہ ادارہ شماریات  کی جانب سے ایسے مثبت اعدادوشمار جاری کرنے کا رجحان بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے جو معیشت کی بہتر صورتحال کی عکاسی تو کرتے ہیں لیکن انہیں آسانی سے چیلنج کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ دیگر متعلقہ اعداد و شمار سے مطابقت نہیں رکھتے، اب صرف یہی امید کی جا سکتی ہے کہ آئی ایم ایف  کی جانب سے جاری وہ تکنیکی معاونت، جس کا مقصد ادارہ شماریات کے ڈیٹا جمع کرنے کے نظام میں موجود ’اہم خامیوں‘ کو دور کرنا ہے کامیاب ہو جائے، تاکہ درست اور بروقت اعداد و شمار جاری ہو سکیں، جو کہ معاشی بحران کے اثرات کو کم کرنے والی پالیسیاں بنانے اور ان پر عملدرآمد کیلئے انتہائی ناگزیر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ادارہ شماریات کے مطابق جولائی تا دسمبر 2025  بڑے پیمانے کی صنعتوں (ایل ایس ایم) کی شرحِ نمو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 4.82 فیصد ریکارڈ کی ہے، اس اضافے کی بڑی وجہ آٹوموبائل، پٹرولیم، گارمنٹس اور سیمنٹ کے شعبوں میں ہونے والی بہترین کارکردگی ہے۔</strong></p>
<p>اس کی وجہ گزشتہ سال کی لو بیس کو قرار دیا گیا ہے، وزارت خزانہ کی جنوری 2026 اپ ڈیٹ اینڈ آؤٹ لک کے مطابق جولائی تا نومبر 2024-25 میں ایل ایس ایم کی شرح نمو منفی 1.41 فیصد تھی جب کہ رواں سال کے اسی عرصے کے لیے یہ شرح 6.01 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ رواں سال کی پہلی ششماہی میں شرح نمو کا جولائی تا نومبر کے 6.01 فیصد کے مقابلے میں کم ہو کر 4.82 فیصد رہ جانا اس دعوے کے برعکس ہے کہ ایل ایس ایم کے شعبے میں نومبر 2025 کے مقابلے میں دسمبر 2025 میں 9.2 فیصد کی زبردست ترقی دیکھی گئی، یہ وہ اعداد و شمار ہیں جو پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے مرتب کردہ اعداد و شمار کو چیلنج کرتے ہیں۔</p>
<p>ایل ایس ایم  کے ذیلی شعبوں پر بزنس ریکارڈر کے حالیہ سروے ظاہر کرتے ہیں کہ فیکٹریوں کی بندش تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہے، ٹیکسٹائل تنظیموں نے 150 یونٹس کی بندش کا حوالہ دیا ہے جبکہ اسٹیل اور سیمنٹ کی فیکٹریوں نے بتایا کہ وہ پیداواری لاگت میں بے پناہ اضافے کی وجہ سے کم صلاحیت پر کام کر رہی ہیں جو کہ ان کے لیے ایک رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ حکومت نے بھی اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے جس کے نتیجے میں ایل ایس ایم کے لیے مراعات کا اعلان کیا گیا، تاہم اگر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے انتظامیہ کو طے شدہ شرائط پر سختی سے عمل کرنے پر مجبور کیا تو یہ مراعات واپس لینا پڑ سکتی ہیں۔ مزید برآں، کئی کثیر القومی کمپنیوں نے بھی اپنے آپریشنز بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔</p>
<p>صورتحال جو بھی ہو، یہ تعین کرنا بھی ضروری ہے کہ ادارہ شماریات کی جانب سے ایل ایس ایم میں اضافے کا جو دعویٰ کیا گیا ہے وہ پیداوار میں اضافے کی وجہ سے ہے یا زیادہ فروخت کی وجہ سے، جس نے موجودہ ذخیرہ شدہ مال  کو کم کردیا ہے۔ ادارہ شماریات پاکستان ایل ایس ایم کے اعداد و شمار کے لیے دو ذرائع کا ذکر کرتا ہے: پہلا پی بی ایس کا تیار کردہ مینوفیکچرنگ صنعتوں کا اعدادوشمار اور دوسرا مینوفیکچرنگ سیکٹرز کی پیداوار پر مبنی ایل ایس ایم کا کوانٹم انڈیکس ۔</p>
<p>بیورو (ادارہ شماریات) یہ تسلیم کرتا ہے کہ وہ ہر پانچ سال بعد مینوفیکچرنگ کے پیداواری انڈیکس کے لیے نئے ویٹس تیار کرتا ہے لیکن ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کرتا ہے کہ آخری مرتبہ یہ مشق دس سال پہلے 2015-16 میں کی گئی تھی۔ ادارہ شماریات  ذخیرہ شدہ مال  میں کمی یا اصل پیداوار  کو مدِ نظر نہیں رکھتا بلکہ اس کی تمام تر توجہ فروخت کے اعدادو شمار پر ہوتی ہے۔</p>
<p>بیورو (ادارہ شماریات) ایندھن کی کھپت کے لیے ’آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل‘  پر بھی انحصار کرتا ہے، لیکن کونسل کی ویب سائٹ پر موجود اعداد و شمار انتہائی تشویشناک ہیں جو ادارہ شماریات کے پیٹرولیم فروخت میں اضافے کے دعوے سے میل نہیں کھاتے۔ اعداد و شمار کے مطابق مقامی صارفین کی کھپت جولائی تا دسمبر 2024 کے 14,221 میٹرک ٹن سے کم ہو کر 2025 کے اسی عرصے میں 7,026 میٹرک ٹن رہ گئی، صنعتی شعبے کی کھپت مالی سال 2024 کی پہلی ششماہی کے 500,664 میٹرک ٹن سے گر کر رواں سال کے اسی عرصے میں 273,801 میٹرک ٹن پر آگئی جبکہ بجلی کے شعبے (پاور سیکٹر) میں یہ کھپت 96,292 میٹرک ٹن سے کم ہو کر رواں سال صرف 20,003 میٹرک ٹن رہ گئی ہے۔</p>
<p>اس کی بنیادی وجہ روپے کی قدر میں مسلسل کمی  اور معیشت کی مسلسل کمزوری کے باعث نجی شعبے (جس کا ایک حصہ بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ یعنی ایل ایس ایم آئی ہے) کی جانب سے اجرتوں میں اضافہ نہ کر پانا ہے۔</p>
<p>حاصلِ کلام یہ ہے کہ ادارہ شماریات  کی جانب سے ایسے مثبت اعدادوشمار جاری کرنے کا رجحان بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے جو معیشت کی بہتر صورتحال کی عکاسی تو کرتے ہیں لیکن انہیں آسانی سے چیلنج کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ دیگر متعلقہ اعداد و شمار سے مطابقت نہیں رکھتے، اب صرف یہی امید کی جا سکتی ہے کہ آئی ایم ایف  کی جانب سے جاری وہ تکنیکی معاونت، جس کا مقصد ادارہ شماریات کے ڈیٹا جمع کرنے کے نظام میں موجود ’اہم خامیوں‘ کو دور کرنا ہے کامیاب ہو جائے، تاکہ درست اور بروقت اعداد و شمار جاری ہو سکیں، جو کہ معاشی بحران کے اثرات کو کم کرنے والی پالیسیاں بنانے اور ان پر عملدرآمد کیلئے انتہائی ناگزیر ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282989</guid>
      <pubDate>Thu, 19 Feb 2026 15:03:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/19150339ecb8470.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/19150339ecb8470.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
