<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:17:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:17:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خام مال کی قلت سے قالینوں کی برآمدات کو خطرہ،کارپٹ مینوفیکچررز کی وارننگ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282985/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی سی ایم ای اے) نے قالین کی برآمدی صنعت کو درپیش سنگین آپریشنل چیلنجز پر روشنی ڈالی ہے، خاص طور پر پیداوار کیلئے درکار ضروری انٹرمیڈیٹس (درمیانی خام مال) کی فراہمی میں تعطل کا ذکر کیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی سی ایم ای اے  نے نشاندہی کی ہے کہ سپلائی کی ان پابندیوں اور رکاوٹوں کی وجہ سے برآمد کنندگان کے لیے عالمی آرڈرز بروقت مکمل کرنا مشکل ہورہا ہے جس سے مسابقتی عالمی منڈیوں میں قیمتی مارکیٹ شیئر کھو جانے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ پیشرفت وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان اور پی سی ایم ای اے  کے وفد کے درمیان ایک ملاقات کے دوران سامنے آئی۔  ملاقات کا مقصد پاکستان کے ہاتھ سے بنے قالینوں کی برآمدی صنعت کو درپیش چیلنجز کا جائزہ لینا تھا جو کہ فنکاری، روزگار کی فراہمی اور زرمبادلہ کمانے کا ایک روایتی اور مضبوط ذریعہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی سی ایم ای اے  کے وفد نے جس کی قیادت پیٹرن ان چیف عبداللطیف ملک اور سینئر وائس چیئرمین عثمان اشرف کررہے تھے، قالین کی تیاری کے لیے درکار ضروری انٹرمیڈیٹس (درمیانی خام مال) کی فراہمی میں تعطل کی نشاندہی کی۔ وفد کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال برآمد کنندگان کی اپنے عالمی وعدوں کو پورا کرنے کی صلاحیت کو بری طرح متاثر کررہی ہے جس سے مارکیٹ شیئر اور برآمدات میں کمی کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ وفد نے ان آپریشنل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے حکومت سے فوری مداخلت کی درخواست کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہاتھ سے بنے قالینوں جیسی ویلیو ایڈڈ (قیمتی اور معیاری) برآمدات کو فروغ دینا وزارتِ تجارت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے روزگار کے مواقع پیدا کرنے، خواتین کی خود مختاری اور روایتی دستکاری کے تحفظ میں اس شعبے کے نمایاں کردار پر زور دیا۔ انہوں نے وفد کو سپلائی کی رکاوٹیں دور کرنے اور برآمد کنندگان، بالخصوص اس شعبے میں کام کرنے والے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جام کمال نے پی سی ایم ای اے  کو یقین دلایا کہ ان کے خدشات پر فوری غور کیا جائے گا۔ انہوں نے ’ویلیو ایڈڈ‘ مینوفیکچرنگ کو مضبوط بنانے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کی حمایت کرنے اور ایک متنوع، مسابقتی، عالمی ضوابط کے مطابق اور پائیدار برآمدی معیشت کے فروغ کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی سی ایم ای اے) نے قالین کی برآمدی صنعت کو درپیش سنگین آپریشنل چیلنجز پر روشنی ڈالی ہے، خاص طور پر پیداوار کیلئے درکار ضروری انٹرمیڈیٹس (درمیانی خام مال) کی فراہمی میں تعطل کا ذکر کیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>پی سی ایم ای اے  نے نشاندہی کی ہے کہ سپلائی کی ان پابندیوں اور رکاوٹوں کی وجہ سے برآمد کنندگان کے لیے عالمی آرڈرز بروقت مکمل کرنا مشکل ہورہا ہے جس سے مسابقتی عالمی منڈیوں میں قیمتی مارکیٹ شیئر کھو جانے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔</p>
<p>جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ پیشرفت وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان اور پی سی ایم ای اے  کے وفد کے درمیان ایک ملاقات کے دوران سامنے آئی۔  ملاقات کا مقصد پاکستان کے ہاتھ سے بنے قالینوں کی برآمدی صنعت کو درپیش چیلنجز کا جائزہ لینا تھا جو کہ فنکاری، روزگار کی فراہمی اور زرمبادلہ کمانے کا ایک روایتی اور مضبوط ذریعہ ہے۔</p>
<p>پی سی ایم ای اے  کے وفد نے جس کی قیادت پیٹرن ان چیف عبداللطیف ملک اور سینئر وائس چیئرمین عثمان اشرف کررہے تھے، قالین کی تیاری کے لیے درکار ضروری انٹرمیڈیٹس (درمیانی خام مال) کی فراہمی میں تعطل کی نشاندہی کی۔ وفد کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال برآمد کنندگان کی اپنے عالمی وعدوں کو پورا کرنے کی صلاحیت کو بری طرح متاثر کررہی ہے جس سے مارکیٹ شیئر اور برآمدات میں کمی کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ وفد نے ان آپریشنل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے حکومت سے فوری مداخلت کی درخواست کی ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہاتھ سے بنے قالینوں جیسی ویلیو ایڈڈ (قیمتی اور معیاری) برآمدات کو فروغ دینا وزارتِ تجارت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔</p>
<p>انہوں نے روزگار کے مواقع پیدا کرنے، خواتین کی خود مختاری اور روایتی دستکاری کے تحفظ میں اس شعبے کے نمایاں کردار پر زور دیا۔ انہوں نے وفد کو سپلائی کی رکاوٹیں دور کرنے اور برآمد کنندگان، بالخصوص اس شعبے میں کام کرنے والے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔</p>
<p>جام کمال نے پی سی ایم ای اے  کو یقین دلایا کہ ان کے خدشات پر فوری غور کیا جائے گا۔ انہوں نے ’ویلیو ایڈڈ‘ مینوفیکچرنگ کو مضبوط بنانے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کی حمایت کرنے اور ایک متنوع، مسابقتی، عالمی ضوابط کے مطابق اور پائیدار برآمدی معیشت کے فروغ کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282985</guid>
      <pubDate>Thu, 19 Feb 2026 13:50:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/19110807cdf7545.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/19110807cdf7545.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
