<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:24:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:24:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک ایکسچینج: جغرافیائی و سیاسی غیر یقینی صورتحال کے باعث 100 انڈیکس میں تقریباً 4 فیصد کی گراوٹ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282982/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعرات کو فروخت کا شدید ترین دباؤ غالب آگیا جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 4 فیصد کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں 100 انڈیکس کا آغاز ہی نمایاں مندی کے ساتھ ہوا، پورے دن معمولی ریکوری کے باوجود مسلسل گراوٹ کا رجحان برقرار رہا، خریدار مارکیٹ میں تیزی  کو برقرار رکھنے میں ناکام رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹریڈنگ کے آخری گھنٹوں میں فروخت کے دباؤ میں مزید شدت آگئی جس نے بینچ مارک انڈیکس کو دن کی کم ترین سطح 171,647.33 پوائنٹس تک پہنچا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 6,682.80 پوائنٹس یا 3.74 فیصد کی کمی سے 172,170.29  پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے ایک نوٹ میں بتایا کہ یہ تاریخ کی اب تک کی سب سے بڑی ایک روزہ مندی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسماعیل اقبال سیکیورٹیز کے ہیڈ آف ریسرچ سعد حنیف نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ خام تیل کی بڑھتی قیمتوں اور امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی جس کی وجہ سے مارکیٹ مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے علاوہ مقامی سرمایہ کاروں نے بھی محتاط رویہ اختیار کرلیا جو فروخت کے دباؤ میں اضافے کا باعث بنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم شعبوں میں فروخت کا رجحان دیکھا گیا جن میں سیمنٹ، کمرشل بینک، کھاد، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (او ایم سیز)، بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں اور ریفائنریاں شامل ہیں۔ انڈیکس پر زیادہ اثر رکھنے والے شیئرز جن میں اٹک ریفائنری (اے آر ایل)، حبکو ، ماری پٹرولیم ، او جی ڈی سی، پی پی ایل، پول، پی ایس او ، ایس این جی پی ایل ، ایم سی بی ، میزان بینک اور نیشنل بینک بھی منفی زون میں دکھائی دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجکاری کمیشن بورڈ نے محمد علی (مشیر برائے وزیراعظم برائے نجکاری و چیئرمین نجکاری کمیشن) کی سربراہی میں ایک مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اس کمیٹی کا مقصد اسلام آباد انٹرنیشنل ائرپورٹ کی مجوزہ نجکاری کے سلسلے میں ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے ساتھ فنانشل ایڈوائزری سروسز ایگریمنٹ کی شرائط پر بات چیت کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کو زبردست تیزی دیکھی گئی جہاں جارحانہ خریداری کے باعث بینچ مارک انڈیکس میں نمایاں تیزی ریکارڈ کی گئی اور حالیہ سیشنز میں ہونے والے بھاری نقصانات کا ایک حصہ پورا ہوگیا۔ یہ بحالی ادارہ جاتی اور ریٹیل سرمایہ کاروں کی مضبوط شرکت سے ممکن ہوئی کیونکہ حالیہ تصحیح کے بعد کم قیمتوں پر خریداری کا رجحان ابھر کر سامنے آیا۔ بدھ کو بینچ مارک 100 انڈیکس 178,853.10 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو آل شیئرز انڈیکس پر تجارتی حجم گزشتہ روز کے 697.68 ملین سے کم ہو کر 542.98 ملین شیئرز رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حصص کی لین دین کی مجموعی مالیت گزشتہ سیشن کے 50.00 ارب روپے سے کم ہو کر 27.36 ارب روپے رہ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ کال ٹیلی کام 84.18 ملین شیئرز کے ساتھ  سرفہرست رہا جس کے بعد کےالیکٹرک لمیٹڈ  62.01 ملین شیئرز اور ٹرسٹ سیکیورٹیز اینڈ بروکریج (آر) 45.87 ملین شیئرز کے ساتھ نمایاں رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر 483 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے 32 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 384  میں کمی اور 67 کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں مستحکم رہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/02/19141912ac33c2b.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/02/19141912ac33c2b.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر جمعرات کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں تیزی دیکھی گئی جس کی وجہ وال اسٹریٹ پر ٹیکنالوجی کے شعبے کی بڑی کمپنیوں کے حصص میں ہونے والا اضافہ ہے۔ دوسری جانب امریکہ اور ایران کے درمیان برقرار کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں کو سہارا ملا جبکہ محفوظ سرمایہ کاری کے رجحان نے سونے کی قیمتوں کو بھی استحکام فراہم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرنسی مارکیٹ میں فیڈرل ریزرو کے حالیہ اجلاس کے منٹس جاری ہونے کے بعد ڈالر کی قدر میں اضافہ ہوا جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ پالیسی ساز شرحِ سود میں کٹوتی کرنے میں کسی جلدی میں نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قمری نئے سال کی تعطیلات کے باعث ہانگ کانگ، چین اور تائیوان کی مارکیٹیں بند ہونے کی وجہ سے ایشیا میں تجارتی سرگرمیاں محدود رہیں، تاہم جاپان کے علاوہ ایشیا بحرالکاہل کے حصص کے وسیع تر ایم ایس سی آئی انڈیکس میں 0.5 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ جاپان کا نکی انڈیکس ٹیکنالوجی حصص کی بدولت 0.85 فیصد بڑھ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس تقریباً 3 فیصد اضافے کے ساتھ اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ یہ تیزی وال اسٹریٹ پر ٹیکنالوجی کے بڑے حصص میں اضافے کے بعد آئی، جس کی وجہ منگل کو سامنے آنے والی وہ خبر تھی جس کے مطابق میٹا پلیٹ فارمز کو لاکھوں کی تعداد میں موجودہ اور مستقبل کے آرٹیفیشل انٹیلیجنس چپس فروخت کرنے کا کثیر سالہ معاہدہ طے پا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعرات کو فروخت کا شدید ترین دباؤ غالب آگیا جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 4 فیصد کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی۔</strong></p>
<p>تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں 100 انڈیکس کا آغاز ہی نمایاں مندی کے ساتھ ہوا، پورے دن معمولی ریکوری کے باوجود مسلسل گراوٹ کا رجحان برقرار رہا، خریدار مارکیٹ میں تیزی  کو برقرار رکھنے میں ناکام رہے۔</p>
<p>ٹریڈنگ کے آخری گھنٹوں میں فروخت کے دباؤ میں مزید شدت آگئی جس نے بینچ مارک انڈیکس کو دن کی کم ترین سطح 171,647.33 پوائنٹس تک پہنچا دیا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 6,682.80 پوائنٹس یا 3.74 فیصد کی کمی سے 172,170.29  پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے ایک نوٹ میں بتایا کہ یہ تاریخ کی اب تک کی سب سے بڑی ایک روزہ مندی ہے۔</p>
<p>اسماعیل اقبال سیکیورٹیز کے ہیڈ آف ریسرچ سعد حنیف نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ خام تیل کی بڑھتی قیمتوں اور امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی جس کی وجہ سے مارکیٹ مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے علاوہ مقامی سرمایہ کاروں نے بھی محتاط رویہ اختیار کرلیا جو فروخت کے دباؤ میں اضافے کا باعث بنا۔</p>
<p>اہم شعبوں میں فروخت کا رجحان دیکھا گیا جن میں سیمنٹ، کمرشل بینک، کھاد، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (او ایم سیز)، بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں اور ریفائنریاں شامل ہیں۔ انڈیکس پر زیادہ اثر رکھنے والے شیئرز جن میں اٹک ریفائنری (اے آر ایل)، حبکو ، ماری پٹرولیم ، او جی ڈی سی، پی پی ایل، پول، پی ایس او ، ایس این جی پی ایل ، ایم سی بی ، میزان بینک اور نیشنل بینک بھی منفی زون میں دکھائی دیے۔</p>
<p>نجکاری کمیشن بورڈ نے محمد علی (مشیر برائے وزیراعظم برائے نجکاری و چیئرمین نجکاری کمیشن) کی سربراہی میں ایک مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اس کمیٹی کا مقصد اسلام آباد انٹرنیشنل ائرپورٹ کی مجوزہ نجکاری کے سلسلے میں ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے ساتھ فنانشل ایڈوائزری سروسز ایگریمنٹ کی شرائط پر بات چیت کرنا ہے۔</p>
<p>اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کو زبردست تیزی دیکھی گئی جہاں جارحانہ خریداری کے باعث بینچ مارک انڈیکس میں نمایاں تیزی ریکارڈ کی گئی اور حالیہ سیشنز میں ہونے والے بھاری نقصانات کا ایک حصہ پورا ہوگیا۔ یہ بحالی ادارہ جاتی اور ریٹیل سرمایہ کاروں کی مضبوط شرکت سے ممکن ہوئی کیونکہ حالیہ تصحیح کے بعد کم قیمتوں پر خریداری کا رجحان ابھر کر سامنے آیا۔ بدھ کو بینچ مارک 100 انڈیکس 178,853.10 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔</p>
<p>جمعرات کو آل شیئرز انڈیکس پر تجارتی حجم گزشتہ روز کے 697.68 ملین سے کم ہو کر 542.98 ملین شیئرز رہ گیا۔</p>
<p>حصص کی لین دین کی مجموعی مالیت گزشتہ سیشن کے 50.00 ارب روپے سے کم ہو کر 27.36 ارب روپے رہ گئی۔</p>
<p>ورلڈ کال ٹیلی کام 84.18 ملین شیئرز کے ساتھ  سرفہرست رہا جس کے بعد کےالیکٹرک لمیٹڈ  62.01 ملین شیئرز اور ٹرسٹ سیکیورٹیز اینڈ بروکریج (آر) 45.87 ملین شیئرز کے ساتھ نمایاں رہے۔</p>
<p>مجموعی طور پر 483 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے 32 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 384  میں کمی اور 67 کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں مستحکم رہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/02/19141912ac33c2b.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/02/19141912ac33c2b.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>عالمی سطح پر جمعرات کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں تیزی دیکھی گئی جس کی وجہ وال اسٹریٹ پر ٹیکنالوجی کے شعبے کی بڑی کمپنیوں کے حصص میں ہونے والا اضافہ ہے۔ دوسری جانب امریکہ اور ایران کے درمیان برقرار کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں کو سہارا ملا جبکہ محفوظ سرمایہ کاری کے رجحان نے سونے کی قیمتوں کو بھی استحکام فراہم کیا۔</p>
<p>کرنسی مارکیٹ میں فیڈرل ریزرو کے حالیہ اجلاس کے منٹس جاری ہونے کے بعد ڈالر کی قدر میں اضافہ ہوا جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ پالیسی ساز شرحِ سود میں کٹوتی کرنے میں کسی جلدی میں نہیں ہیں۔</p>
<p>قمری نئے سال کی تعطیلات کے باعث ہانگ کانگ، چین اور تائیوان کی مارکیٹیں بند ہونے کی وجہ سے ایشیا میں تجارتی سرگرمیاں محدود رہیں، تاہم جاپان کے علاوہ ایشیا بحرالکاہل کے حصص کے وسیع تر ایم ایس سی آئی انڈیکس میں 0.5 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ جاپان کا نکی انڈیکس ٹیکنالوجی حصص کی بدولت 0.85 فیصد بڑھ گیا۔</p>
<p>جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس تقریباً 3 فیصد اضافے کے ساتھ اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ یہ تیزی وال اسٹریٹ پر ٹیکنالوجی کے بڑے حصص میں اضافے کے بعد آئی، جس کی وجہ منگل کو سامنے آنے والی وہ خبر تھی جس کے مطابق میٹا پلیٹ فارمز کو لاکھوں کی تعداد میں موجودہ اور مستقبل کے آرٹیفیشل انٹیلیجنس چپس فروخت کرنے کا کثیر سالہ معاہدہ طے پا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282982</guid>
      <pubDate>Thu, 19 Feb 2026 14:43:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/19103850e48c390.webp" type="image/webp" medium="image" height="651" width="1156">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/19103850e48c390.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
